اورنج لائن ٹرین: منصوبہ ایک، افتتاحی تقریبیں دو

لاہور میں سی پیک کے تحت انٹر سٹی اورنج لائن ٹرین بالآخرعام شہریوں کے لیے کھولی جا رہی ہے۔

تقریباً 25 کلومیٹر کا ٹریک زمین کے اوپر اور لکشمی سے چوبرجی تک کا 1.72 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک زیر زمین  ہے (فوٹو کریڈٹ:ماس ٹرانزٹ اتھارٹی)

لاہور میں چین پاکستان راہداری منصوبے (سی پیک) کے تحت انٹر سٹی اورنج لائن ٹرین بالآخرعام شہریوں کے لیے کھولی جا رہی ہے۔

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی پنجاب کے مطابق 27 کلو میٹر طویل ٹریک پر ٹرینیں چلنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کی مثالی سہولت میسر آئے گی۔ چونکہ پاکستان میں اس نوعیت کا یہ پہلا منصوبہ پایا تکمیل کو پہنچا ہے لہٰذا منصوبے کا افتتاح آج وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کریں گے۔

دوسری جانب یہ منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور میں شروع کرانے پر اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی اپنی افتتاحی تقریب کا اعلان کیا ہے۔

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی پنجاب کے جنرل مینیجر عزیر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس منصوبے پر سی پیک سے 1.34 بلین ڈالرز جبکہ صوبائی حکومت نے 34 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ پاکستان میں ماس ٹرانزٹ کا یہ منصوبہ میٹروبس سے بھی جدید ہے، الیکٹرک سسٹم سے چلنے والی 22 ٹرینیں روزانہ چلائی جائیں گی، جن میں ایک ہزار مسافروں کی گنجائش ہوگی۔

عزیر کے مطابق انہوں نے فی سٹاپ کرایہ کم از کم 30 روپے جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے 50 روپے تجویز کیا تھا لیکن صوبائی کابینہ نے 40 روپے کرایہ رکھنے کی منظوری دی ہے،  جس میں حکومتی سبسڈی بھی ہو گی۔‘سبسڈی کے بغیر 80 روپے تک کرایہ بننا تھا اور 40 روپے سے زائد کرایہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوجاتا۔’ 

انہوں نے کہا کہ ہر پانچ منٹ بعد سٹاپ پر ٹرین رکے گی جہاں پر پہلے سے ٹکٹ لے کر پلیٹ فارم پر موجود مسافر باحفاظت ٹرین میں سوار ہو کر اپنی منزل پر پہنچ کر آٹومیٹک دروازہ کھلنے پر اتر سکتے ہیں، بلندی پر تعمیر سٹیشنوں سے ایسکیلیٹرز سے نیچے اترا جا سکے گا۔ ‘سٹیشن پر مسافروں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے عملہ موجود ہوگا جبکہ انتظار گاہ بھی ہر سٹیشن پر موجود ہے۔’

عزیر نے اپیل کی کہ اورنج لائن ٹرین میں سفر کرنے کے لیے مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں لہٰذا سٹیشنوں پر نصب آلات ٹرینوں اور پلیٹ فارم پر حساس تنصیبات کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ ‘ٹرینوں کے اندر اور باہر سہولیات کا استعمال احتیاط سے کیا جائے یہ قومی اثاثہ ہیں۔ کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔’

اورنج لائن ٹرین کے لیے 27.12 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک لاہور میں ڈیرہ گجراں سے شروع ہو کر علی ٹاؤن سٹیشن پر اختتام پزیر ہوتا ہے، جس دوران ٹرین کا گزر ودھا، اسلام باغ، سلامت پورہ، محمود بوٹی، پاکستان منٹ، شالیمار گارڈنز، باغبان پورہ، یو ای ٹی، لاہور ریلوے سٹیشن، لکشمی چوک، جی پی او، انارکلی، چوبرجی، گلشن راوی، سمن آباد، بند روڈ، صلاح الدین روڈ، شاہ نور، سبزہ زار، اعوان ٹاؤن، واحدت روڈ، ہنجروال، کینال، ٹھوکر نیاز بیگ اور علی ٹاؤن سے ہو گا۔

تقریباً 25 کلومیٹر کا ٹریک زمین کے اوپر اور لکشمی سے چوبرجی تک کا 1.72 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک زیر زمین ہے۔

منصوبہ ایک، افتتاحی تقریبیں دو کیوں؟

اورنج لائن ٹرین منصوبے کا سنگ بنیاد سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اکتوبر2015 میں رکھا تھا۔ مختلف عدالتی سٹے آنے اور حکومت کی تبدیلی کے باعث یہ منصوبہ تین سال کی بجائے پانچ سال میں مکمل ہوا۔

موجودہ حکومت کے وزرا ماضی میں اس منصوبے کو سفید ہاتھی قرار دے چکے ہیں۔ سابق دورحکومت میں پی ٹی آئی نے ہی اس منصوبے کو روکنے کے لیے عدالتوں سے حکم امتناعی بھی لیے لیکن اب اس منصوبے کو سی پیک کا حصہ ہونے کی وجہ سے مکمل کر کے عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنجاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اورنج لائن منصوبے کا افتتاح وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کریں گے جبکہ چینی متعلقہ حکام بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔ اس موقعے پر نجی میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں ہوگی اور صرف سرکاری میڈیا ہی موجود ہو گا۔ اتوار کو منصوبے کا افتتاح ہونے کے بعد عوام کے لیے یہ سہولت پیر سے شروع کی جائے گی۔

دوسری جانب ن لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری عمران نذیر کا کہنا ہے کہ اورنج لائن ٹرین کا افتتاح اور جشن آج جین مندر چوک پر واقع انار کلی سٹیشن پر ہوگا، جہاں سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، ملک پرویز عطا اللہ تارڑ افتتاح و جشن کی تقریب کی قیادت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے، لاہور والے شہباز شریف سے اظہار تشکر کا دن منائیں گے کیونکہ دنیا اورنج لائن منصوبے کو شہباز شریف کے نام سے جانتی ہے۔ 

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ شہباز شریف نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا اور دن رات محنت سے اسے مکمل کرایا، اس کی مخالفت کرنے والے اب کس منہ سے افتتاح کر کے کریڈٹ لے رہے ہیں جبکہ جو اصل ہیرو ہے وہ سیاسی انتقام کے باعث آج حوالات میں ہے۔ ‘ہم اس منصوبے کا خود افتتاح کر کے شہباز شریف کے خواب کی تکمیل کا جشن منائیں گے۔’

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان