'کرایہ زیادہ رکھا تو اورنج لائن تفریحی ٹرین بن جائے گی'

پنجاب حکومت اگلے مہینے کے آخر میں لاہور کی انٹر سٹی اورنج لائن ٹرین چلانے جا رہی ہے تاہم اب تک ان ٹرینوں کا کرایہ طے نہیں ہوسکا۔

اورنج لائن ٹرین منصوبہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی پر دو سال تاخیر کا شکار رہا  (فائل تصویر: اے ایف پی)

پنجاب حکومت نے لاہور میں انٹر سٹی اورنج لائن ٹرین منصوبے کا افتتاح اکتوبر کے آخر میں کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اب تک ان ٹرینوں کا کرایہ طے نہیں ہوسکا۔

پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے سی پیک معاہدے کے تحت شروع ہونے والی اورنج لائن ٹرین سروس کے کرائے سے متعلق ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے کئی ماہ سے تجاویز بھجوا رکھی ہیں لیکن صوبائی حکومت کرایہ مقرر کرنے کا حتمی فیصلہ تاحال نہ کر سکی۔

پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہوگا جس سے میٹرو بس کے بعد عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولیات میسر ہوں گی جبکہ اس سہولت پر سبسڈی اور بجلی کے اخراجات حکومت کو برداشت کرنا پڑیں گے۔

اورنج لائن ٹرین کے متوقع سالانہ اخراجات

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی پنجاب کے جنرل مینیجر عزیر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ٹرینیں بجلی سے چلیں گی اور ابتدائی تخمینے کے مطابق اس پر سالانہ ایک ارب 90 کروڑ روپے بجلی کا خرچ آئے گا جبکہ دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔ 'ایسا ممکن نہیں کہ سبسڈی نہ دینی پڑے کیونکہ سبسڈی کے بغیر بہت زیادہ کرایہ بن جائے گا۔'

عزیر شاہ نے بتایا کہ میٹروبس میں بھی کئی سال گزرنے کے باوجود اب تک ایسے کرائے کا تعین نہیں ہوسکا جس سے سبسڈی ختم کی جاسکی ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق: اس پر غریب لوگ سفر کریں گے تو جتنا کرایہ کم ہوگا اتنی ہی زیادہ لوگوں کو سہولت ملے گی، اگر کرایہ زیادہ رکھا تو یہ تفریحی ٹرین بن جائے گی لہٰذا پانچ ارب روپے سالانہ سبسڈی دینا ہوگی تاکہ کرایہ کم ہوسکے۔'ہم نے 30 روپے فی سٹاپ کرایہ تجویز کیا، تاہم کرائے کا حتمی تعین کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ نے کرنا ہے جو ابھی تک طے نہیں ہوسکا۔'

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے اورنج لائن ٹرین کے لیے بھرتیوں کے اعلان پر عمل درآمد سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ اورنج لائن ٹرین کا نظام چلانے کے لیے ملازمتیں نجی کمپنی کے ذریعے دی جا رہی ہیں، اس سے سی پیک اتھارٹی یا ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'اورنج لائن ٹرین کا کام مکمل ہوچکا ہے، تعمیر کرانے والی کمپنیوں سے اس کا اختیار ہمیں اسی ماہ کے آخر میں مل جائے گا اور ٹیسٹ رن کے بعد 25 اکتوبر کو اسے عوام کے لیے کھول دیاجائے گا۔'

دو بار ٹیسٹ رن کے باجود افتتاح میں تاخیر کیوں؟

اورنج لائن ٹرین منصوبہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی پر دو سال تاخیر کا شکار رہا لیکن اس کے باوجود 2018 سے قبل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس کا ٹیسٹ رن کرایا۔ ان کے بعد موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی رواں سال فروری میں اس کا ٹیسٹ رن کرایا اور مارچ میں عوام کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

ترجمان پنجاب حکومت مسرت چیمہ کے مطابق یہ افتتاح کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے موخر کیا گیا۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'پہلے اسے مارچ میں عوام کے لیے کھولنا تھا لیکن کرونا وبا کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ ابھی مسافروں کے لیے کرایوں سے متعلق جائزہ لیا جارہا ہے اور کوشش ہے کہ کم سے کم کرایہ رکھا جائے تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے، جس پر حکومت کو سبسڈی دینا پڑے گی۔'

واضع رہے کہ کرائے مقرر کرنے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ نے سمری جنوری میں کابینہ کمیٹی کو بھجوائی تھی، جس میں کرایہ 30 سے 50 روپے تک مقرر کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے یہ معاملہ پنجاب اسمبلی کے اراکین کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا مگر ابھی تک کرایوں کا معاملہ طے نہیں ہوسکا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان