امریکہ: انتخابی سال کے دس اہم واقعات

امریکی صدارتی انتخاب کے چکرا کر رکھ دینے والے سال کے دوران 10 مواقع بنیادی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوبارہ انتخاب کے لیے صدارتی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ اس بار صدارتی انتخاب ڈرامائی اور دلچسپ ہو گا لیکن کسی نے پیش گوئی نہیں کی تھی کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا انتخابی مہم کے ہر گوشے کو متاثر کرے گی۔

الیکشن کے چکرا کر رکھ دینے والے سال کے دوران 10 مواقع بنیادی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔

1۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ

رواں سال کے آغاز میں پانچ فروری کو حالات رپبلکن صدر کے حق میں جا رہے تھے۔ سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ہوا اور انہیں ڈیموکریٹ ارکان کی طرف لگائے گئے دو الزمات سے بری کر دیا گیا۔ ملررابرٹ رپورٹ کی تلوار ٹرمپ کے سر سے ہٹ گئی تھی۔ معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے امکانات نسبتاً واضح تھے۔

کئی سال کی افراتفری کے بعد حالات نے ٹرمپ کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیا لیکن جہاں حالات ’سب اچھا‘ کی تصویر پیش کر رہے تھے وہیں کیلی فورنیا اور شمال مغربی حصے میں کووڈ 19 کے کیسوں کی تعداد بڑھنے لگی۔

2۔ بائیڈن  نے میدان مار لیا

29 فروری کو ریاست آئیووا کے کاکسز اور نیو ہیمپشائر کے پرائمری انتخاب میں مایوس کن نتائج کے بعد ایسا دکھائی دیا کہ سابق نائب صدر جو بائیڈن کی انتخابی مہم پٹ چکی ہے لیکن مہم میں شامل ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ جونہی افریقی نژاد امریکی شہریوں نے بڑی تعداد میں ووٹ دینا شروع کیا تو صورت حال بہتر ہو جائے گی اور ان کی بات ٹھیک نکلی۔

بائیڈن  نے ریاست کے کیرولائنا کے پرائمری میں میدان مار لیا۔ ان کے بہت سے حریف انتخابی دوڑ سے فوری طور پر باہر ہو گئے۔ اس طرح بائیڈن کے لیے سٹیج تیار ہو گیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد ہونا ہفتوں کی بات رہ گئی۔

3۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کرونا کے بارے میں خطاب

11 مارچ۔ کئی ہفتے تک ملک میں کرونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسوں کو معمولی بات قرار دینے کے بعد ٹرمپ نے پریشان عوام کو حوصلہ دلانے کے لیے وائٹ ہاؤس میں منفرد خطاب کیا۔ دو دن بعد انہیں قومی ایمرجنسی کا اعلان کرنا تھا۔

کرونا وائرس نے امریکیوں کی زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

سکول، کاروبار اور ریستوران بند ہو گئے جب کہ لاکھوں افراد گھر میں بند ہو کر رہ گئے۔ اس طرح کرونا وائرس 2020 کے صداتی انتخاب میں بڑا معاملہ بن گیا۔

4۔ برنی سینڈرز نے میدان چھوڑ دیا

آٹھ اپریل۔ برنی سینڈرز ڈیموکریٹ امیدوار کی نامزدگی میں وہ آخری امیدوار تھے جنہوں نے میدان چھوڑا۔ اس سے پہلے وہ نمائندگان میں بائیڈن سے بہت پیچھے رہ گئے تھے جب کہ کرونا وائرس نے قوم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

برنی سینڈرز نے بائیڈن کی بطور پارٹی امیدوار توثیق کر دی۔ چار سے پہلے ہلیری کلنٹن کے معاملے میں انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

5۔ کرونا کا علاج: بلیچ کا ٹیکہ 

23 اپریل۔ کرونا وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار ہو گئی۔ ٹرمپ نے وائرس کے بارے میں اپنی روزانہ ہونے والی پریس بریفنگ میں ایک موقعے پر بےساختہ تجویز دی کہ انسانوں کو جراثیم کش ادویات جیسا کہ مائع بلیچ کا ٹیکہ لگا کر کرونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

عوامی صحت کے ماہرین نے لوگوں کو فوری طور پر خبردار کیا کہ ایسا کرنے سے ان کے جسم میں زہر پھیل جائے گا۔ بعد میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ مذاق کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد ٹرمپ کو وائرس پر بریفنگ کا سلسلہ روکنا پڑا۔

6۔ وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ

یکم جون۔ امریکی شہریوں نے 25 مئی کو منی ایپلس پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت کے خلاف دوسرے شہروں کی طرح وائٹ ہاؤس کے باہر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کیا اور اپنی مہم کے باقی ماندہ حصے میں ’امن وامان‘ کا بیانیہ دینے کا اعلان کیا۔

دوسری طرف پولیس اور  نیشنل گارڈز کے دستوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر واقع پارک کو مظاہرین سے خالی کروانے کے لیے مرچوں کا سپرے کیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ ٹرمپ پیدل چل کر سینٹ جان کے تاریخی گرجا گھر تک جانے کے بعد ہاتھوں میں انجیل اٹھا کر تصویر بنوا سکیں۔

ان کے اس اقدام سے انہیں نقصان پہنچا کیونکہ امریکی شہری احتجاج کے حق میں تھے۔

7۔  کاملا ہیرس کی انٹری

11 اگست۔ صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کیلی فورنیا سے سینیٹر کاملا ہیرس کو نائب صدر نامزد کر دیا جس پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ پہلے سے اس عہدے کے لیے فیورٹ چلی آ رہی تھی۔

انہوں نے تیزی سے ثابت کیا کہ ان کا انتخاب ایسا عمل تھا جس کی بائیڈن کو ضرورت تھی۔ اس طرح ہیرس کی شکل میں صدارتی مہم چلانے والی ایک مضبوط ساتھی مل گئیں۔

8۔ جسٹس گنزبرگ کی موت

18 ستمبر۔ امریکی سپریم  کورٹ کی جج، جسٹس گنزبرگ چل بسیں اور لبرلز کے بدترین خدشات درست ثابت ہوئے۔ سرطان کی وجہ سے جسٹس گنزبرگ کی موت اس وقت ہوئی جب تین نومبر کے صدارتی انتخاب میں دو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ان کی موت سے خالی ہونے والی آسامی پر جج ایمی کونی بیرٹ کو نامزد کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس طرح انہوں نے آنے والے برسوں میں قدامت پسند ارکان کی اکثریت کو یقینی بنایا۔ ان کے اس اقدام سے جہاں قدامت پسند خوش ہوئے وہیں ڈیموکریٹ ارکان غصے میں آ گئے جن میں خاص کر خواتین شامل ہیں۔

جو بائیڈن کو بھی افورڈیبل کیئر ایکٹ (اوباما کیئر) اور اسقاط حمل کے حق کو نظر کر دیے جانے کے خطرے کے حوالے سے خبردار کرنے کا موقع مل گیا۔

9۔ ٹرمپ-بائیڈن مباحثہ

29 ستمبر۔ اپنی قسمت کا پہیہ گھمانے کی ضرورت کے پیش نظر ٹرمپ نے مخالف امیدوار کے ساتھ پہلے صدارتی مباحثے میں حصہ لیا لیکن ان کا جارحانہ رویہ ان کے خلاف گیا۔

انہوں نے جو بائیڈن اور مباحثے کے میزبان کرس والس کو بار بار اس حد تک ٹوکا کہ پورا مباحثہ ان کے قابو سے باہر ہو گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ نے بائیڈن کے خاندان پر حملہ کیا۔ بعد میں رائے عامہ کے جائزوں اور فوکس گروپس سے ظاہر ہوا کہ جن ووٹروں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا وہ ان کے رویے سے متنفر ہو گئے۔

10۔ ڈونلڈ ٹرمپ میں کرونا وائرس کی تصدیق

دو اکتوبر۔ کئی ہفتے تک ان انتخابی جلسوں جن میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کو نظر انداز کر دیا گیا تھا، میں ذاتی طور پر شرکت کے بعد ٹرمپ اور ان کے کئی ساتھیوں کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

بیماری اور قرنطینہ کے مختصر دورانیے نے ٹرمپ کو 10 دن تک انتخابی مہم سے دور رکھا۔ تاہم یہ صدر کی ساکھ  کے لیے بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے معاملے میں امریکی شہریوں کی اکثریت پہلے ہی ٹرمپ کو غلط قرار دے چکی ہے۔ ان حالات میں ان میں وائرس کی تشخیص نے وائٹ ہاؤس کو ’نااہل‘ اور ’منافق‘ ثابت کر دیا ہے۔ ساتھ یہ امر یقینی ہو گیا کہ الیکشن والے دن سے کئی ہفتے پہلے کرونا وائرس انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ