صدارتی مباحثے کے اختتام پر ٹرمپ بہت بے چین تھے: مبصر

مباحثے کے ختم ہونے پر ٹرمپ کافی بے چین لگ رہے تھے۔ انہوں نے تیزی سے بات کرتے ہوئے ایک خیالی سنہرے ماضی کی بات کرتے ہوئے یوں اختتام کیا 'اگر بائڈن کامیاب ہو گئے تو آپ کو ایسی پریشانی دیکھنے کو ملے گی جو آپ نے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔'

(اے ایف پی)

سال 2020 کے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والا آخری مباحثہ اس سے قبل ہونے والے مباحثوں کی نسبت کافی باشعور تھا لیکن اس کے کچھ لمحات بھی بہت یاد گار رہے۔

جیسے صدر ٹرمپ کا پراعتماد انداز میں این بی سی کی سیاہ فام خاتون میزبان کرسٹن ویکر کو یہ کہنا کہ 'میں اس جگہ پر سب سے کم نسل پرست انسان ہوں۔' مباحثے کے درمیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'نیویارک ایک بھوت بنگلہ ہے' تقریبا اسی وقت بروکلین میں ایک چلتا پھرتا درخت میری کھڑکی کے پاس سے گزرا تھا۔

پھر انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ 'ونڈمل فیومز' کا مطلب ہے کہ ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی قدرتی گیس سے زیادہ خطرناک اور آلودگی پھیلاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا میں پوری ذمہ داری لیتا ہوں کرونا وبا کی جس کے فوری بعد ان کا کہنا تھا 'یہ میری غلطی نہیں ہے۔'

بائڈن کے خلاف صدر ٹرمپ کے حملے غیر موثر ثابت ہوئے شاید اس لیے کہ وہ تب ہی بہتر حملہ کرتے ہیں جب وہ لوگوں کو ٹوک رہے ہوتے ہیں، لیکن بند مائیکس نے یہ موقع ضائع کروا دیا۔

ٹرمپ کی ایک کنڈرگارٹن سکول کے بچے جیسی شکایت 'ایسا ظاہر مت کرو جیسے تم کوئی معصوم بچے ہو۔'

ایک اور عجیب بات ان کا یہ کہنا تھا کہ 'یہ سکرانٹن سے تعلق نہیں رکھتے۔' یاد رہے بائڈن سکرانٹن میں پیدا ہوئے اور ویسے ہی ایک اور قصبے میں پلے بڑھے جس کے بارے میں انہوں نے بات بھی کی (ڈیل وئیر میں کلے مونٹ)۔ اور ایک اور آزمودہ اور قدیم نسخہ تھا 'جو کو تہہ خانے میں رہنا پسند ہے' اور ہنٹر بائڈن کے بارے میں کیے جانے والے دعوے بھی مزاحیہ طور پر کھوکھلے محسوس ہوئے۔

ایک اور مضحکہ خیز جملہ تھا 'آپ بہت اچھے سے رہتے ہیں جو، آپ کے بہت سارے مکانات ہیں' ایک ایسے شخص کا یہ کہنا جو خود کئی جائیدادوں کا مالک ہو اور جس کا نیویارک شہر میں ایک ٹاور ہے جس میں سونے کی لفٹ لگی ہے۔

آخر کار یہ انتخاب دو امیر اور غیر معمولی شخصیات کے درمیان ہے جو ہر امریکی کے لیے خود کو اس کا نمائندہ پیش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ان دونوں کے لیے آسان نہیں لیکن صدر ٹرمپ کے لیے یہ زیادہ مشکل ہے۔ جیسے کہ ان کے بائڈن کے 'مشکوک خاندان' کے بارے میں بیانات، ان کی یہ منافقت انہیں ہی بے نقاب کرتی ہے۔

مباحثے کے دوران بائڈن کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت تذبذب کا شکار فرد ہیں۔ یہ سوچتے ہیں یہ کسی اور سے مقابلہ کر رہے ہیں۔' یہ اس وقت کہا گیا جب ٹرمپ نے سوشلزم اور برنی سینڈرز پر سخت تنقید کی۔

وہ اس بارے میں کافی حوالوں سے درست تھے۔ جب ٹرمپ برنی کے بھوت پر تنقید نہیں کرتے تو وہ ہیلری کے بھوت کو نشانہ بناتے ہیں جن میں موروثی سیاست اور ڈی سی کے بیوروکریٹس کے بارے میں بات ہوتی ہے۔ یہ طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پولنگ کے مطابق یہ کچھ مہینوں سے بالکل نہیں چل رہا۔

بائڈن جو زیادہ تر عوامی تقریبات میں اور اب تک بہت سلجھے ہوئے انداز میں مہم چلاتے رہے ہیں آج بہت جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے تھے۔

کاٹ دار جملے جو وہ تیار کر کے لائے تھے بہت موثر اور بہترین انداز اور وقت پر کہے گئے۔ قوم کی روح کے بارے میں ایک تقریر جو اچھی طرح دہرائی گئی تھی جس میں 'سائنس کو فکشن پر، امید کو خوف' پر ترجیح دینے کا سبق تھا نے مباحثے کو ٹرمپ کے ملے جلے الفاظ جیسے کہ 'چینی بیماری' کے مقابلے میں بہترین انداز میں سمیٹا۔

بائڈن کا کہنا تھا 'اپنے گالف کورس کے ریتلے پھندوں میں پھنسنے کے بجائے انہیں چاہیے تھا کہ یہ بات چیت کرتے، ڈیموکریٹس کے ساتھ وبا کے دوران دیے جانے والے پیکج پر گفتگو کرتے۔' یہ سکرپٹڈ محسوس ہو رہا تھا لیکن یہ ایک اچھا جملہ تھا۔

وہ دو بار یہ بتانے میں کامیاب ہوئے کہ وہ 'ری پبلکن ریاستیں یا ڈیموکریٹ ریاستوں کا نہیں بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سوچتے ہیں۔' یہ جملہ وہ پہلے بھی استعمال کر چکے ہیں لیکن یہ ہمیشہ اچھے جذبات کو ابھارتا ہے اور ووٹر اس کو پسند کرتے ہیں۔

اور یہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم تھے جو بائڈن اٹھائے اور یہ کامیاب رہے۔ کرونا لاک ڈاون پر ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ایک ہی وقت میں چلتے ہوئے چیونگم کو چبانا ہو گا'،

روس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'آپ روس کے حوالے سے کیا چھپا رہے ہیں؟ یہاں کیا چل رہا ہے؟' اوبامہ کئیر پر بات کرتے ہوئے وہ بولے 'میرے خیال میں ہمیں مشروط شرائط کا منصوبہ بھی اسی وقت ملے گا جب ہمیں انفراسٹرکچر پلان ملے گا۔' ٹیکس ریٹرنز پر ان کا کہنا تھا کہ 'آپ سالوں سے یہی بات کر رہے ہیں، آپ ٹیکس ریٹرن دکھاتے کیوں نہیں۔ انہیں چھپانا بند کریں۔' جب ان کے مخالف نے پینترا بدل کر ان کی بات کے دوران کچھ کہنا چاہا تو ان کا کہنا تھا 'ابھی میرے پاس مزید وقت ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ پریشان ہو رہے ہیں۔'

آخر کار ایسا محسوس ہوا کہ وہ صدر کو درست انداز میں جواب دہ ٹھہرا رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے اچھے تعلقات کی بات کی تو بائڈن کا کہنا تھا کہ 'یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہیں کہ یورپ پر حملہ کرنے سے قبل ہمارے ہٹلر سے بہت اچھے تعلقات تھے۔' یہ اس رات کا سب سے طاقتور لمحہ تھا۔

 یہ کہنا غلط ہو گا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی ساکھ متاثر کروائی لیکن پوڈیم پر بہت زیادہ بات کرنے آئے تھے اور وہ پہلے کے مقابلے میں پالیسی پر بہت زیادہ بولے۔ لیکن جیسے ہی بائڈن کا اعتماد بڑھا تو پھر ڈیڑھ گھنٹے تک ٹرمپ خود کو سنبھال نہ سکے۔ وہ صرف دس منٹ تک صدارتی انداز اپنا سکے جس کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ انہیں اب انداز بدلنا ہو گا اور یہ بدلا ہوا انداز خاموش، غیر حاضر ناظرین اور مشکل سوالات کے لیے موزوں نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بائڈن سے کہا 'یہ ویکیوم کلینر کی طرح ہیں یہ پیسے چوستے ہیں۔' انہوں نے یہ اعتماد کے بغیر کہا اور ایسے لگا کہ جیسے بائڈن اور کرسٹن ویکر نے یہ بات سنی ہی نہیں۔ یہ نارتھ کیرولینا میں گائے جانے والے اس گانے جیسا نہیں تھا جس میں امریکہ کو عظیم بناؤ کے ساتھ 'انہیں قید کرو' کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔

آج کل کوئی بھی مباحثہ کسی سازشی مفروضے کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اور ٹرمپ نے یہی کیا جب انہوں نے دعوی کیا کہ 'یہاں آئی آر ایس میں کچھ لوگ ہیں جو مجھے پسند نہیں کرتے' جب ویکر نے ان سے ان کے ٹیکس گوشوارون کے بارے میں پوچھا۔ یہ ڈیپ سٹیٹ کی جانب اشارہ تھا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ انہوں نے اپنے متفخر دوستوں سے سیکھا تھا (یا جیسے بائڈن نے انہیں پہلے مباحثے دوران نام دیا تھا غریب دوست)۔

ٹرمپ اتنے محتاط تھے کہ بائڈن کو ان کی جانب سے پہلے کہی جانے والیے ایک جملے کو دوبارہ دہرانا پڑا کہ 'اس شخص کے پاس کتے کے لیے بھی اتنی بڑی سیٹی ہے جو جہازوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔'

مباحثے کے ختم ہونے پر ٹرمپ کافی بے چین لگ رہے تھے۔ انہوں نے تیزی سے بات کرتے ہوئے ایک خیالی سنہرے ماضی کی بات کرتے ہوئے یوں اختتام کیا 'اگر بائڈن کامیاب ہو گئے تو آپ کو ایسی پریشانی دیکھنے کو ملے گی جو آپ نے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔'

اس کے برعکس بائڈن نے خود کو بہت پرسکون اور 'بے شمار مواقع' کی تصویر کے طور پر ظاہر کیا جو ان کے حلف اٹھانے کے دن سے شروع ہوں گے۔

پہلی بار وہ ایسی شخصیت نظر آئے جن کو آپ جوش سے ووٹ دے سکتے ہیں اور ٹرمپ ایک ایسے شخص دکھائی دیے جو جانتے تھے کہ وہ سنگین نتائج پر مبنی بازی ہار چکے ہیں۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ