کراچی کے شہریوں کے لیے صادقین کا تحفہ جو دو دہائیوں تک ’غائب‘ رہا

صادقین کے 1970 کی دہائی میں سنگ مرمر پر بنے سورۂ رحمٰن کی خطاطی والے فن پارے 1992 میں کراچی کی ایک گیلری میں رکھے گئے تھے لیکن کچھ عرصے بعد انہیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ فن پارے اب کئی سالوں بعد منظر عام پر آئے ہیں۔

پاکستان کے شہرہ آفاق مصور، خطاط اور نقاش سید صادقین احمد نقوی المعروف صادقین کے 1981 کی دہائی میں سنگ مرمر پر بنے سورۂ رحمٰن کی خطاطی والے فن پارے، جو گذشتہ دو دہائیوں سے منظرعام سے غائب تھے، حالیہ دنوں کراچی میں کھلنے والی ایک نئی آرٹ گیلری میں رکھے گئے ہیں۔

کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع مرکز اسلامی، جو دو، اڑھائی سال سے بند تھا، اسے رواں ماہ کھول کر ایک آرٹ گیلری قائم کی گئی ہے اور صادقین کی سنگ مرمر پر سورۂ رحمٰن کی خطاطیاں یہیں آویزاں کی گئی ہیں۔

صادقین کے بھتیجے سید سلطان احمد نقوی نے بتایا کہ صادقین کے ان منفرد اور نایاب فن پاروں کا رنگ مدھم پڑ گیا ہے جنہیں جلد ہی اصلی صورت میں بحال کرایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’صادقین نے ماربل پر یہ فن پارے 1981 میں مارکر سے بنائے تھے اور چوں کہ پتھر پانی اور تیل کو جذب نہیں کرتا تو 40 سال کے بعد مارکر کے رنگ تھوڑے پھیکے پڑ گئے ہیں، جنہیں جلد بحال کرایا جائے گا۔‘

سلطان کے مطابق یہ ماربل خطاطیاں کچھ عرصے اسلام آباد کی عارضی صادقین گیلری میں تھیں، پھر جب صادقین 1985 میں کراچی آئے اور فریئر ہال کا کام شروع کیا تو انہیں خیال آیا کہ انہوں نے کراچی کے شہریوں کو کوئی باقاعدہ چیز تحفہ نہیں کی۔

صادقین اپنے فن پارے بیچنے کی بجائے تحفے کے طور پر دیا کرتے تھے۔ سلطان نے بتایا: ’انہوں نے یہ سورۂ رحمٰن والی سنگ مرمر کی خطاطیاں کراچی منگوائیں اور کراچی میونسپل کارپوریشن کو تحفے کے طور پر دے دیں۔ صادقین کے انتقال کے بعد فریئر ہال میں 1992 میں جب گیلری کا افتتاح ہوا، تب یہ خطاطیاں وہاں پر رکھی گئی تھیں لیکن کچھ عرصے بعد یہ وہاں سے ہٹا دی گئیں۔‘

ان کے بقول 1990 کی دہائی میں کراچی کے امن و امان کے حوالے سے حالات بہت خراب تھے لہٰذا کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ سنگ مرمر پر بنی خطاطیاں کہاں چلی گئیں۔

سلطان کے مطابق: ’اب یہ اسلامی مرکز کی گیلری میں رکھی ہوئی ہیں اور محفوظ ہیں، انہیں کوئی بھی کسی بھی وقت آکر دیکھ سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ