سعودی عرب میں کفالہ نظام کا خاتمہ: پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا؟

سعودی حکومت کئی دہائیوں سے رائج غیر ملکی ملازمین کے لیے استعمال کیے جانے والے کفالہ نظام کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے وہاں مقیم پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکیوں کو فائدہ ہونے کا امکان ہے۔

کفالہ نظام کے تحت غیر ملکی کارکن کی سعودی عرب آمد اور وہاں قیام ایک سعودی باشندے کی ذمہ داری ہوتی ہے جسے کفیل کہا جاتا ہے۔   (اے ایف پی)

سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے رائج غیر ملکی ملازمین کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جانے والے کفالہ نظام کے خاتمے سے وہاں روزگار اور کاروبار کرنے والے پاکستانیوں کو بھی فائدہ ہونے کا امکان ہے۔ 

اسلام آباد میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے سربراہ کاشف احمد نور کا کہنا ہے کہ کفالہ نظام کی تبدیلی سے نہ صرف سعودی عرب کو خود بلکہ دوسرے ممالک کے ملازمین اور کاروبار کرنے والوں کو بھی فائدہ ہو گا۔ 

ان کا خیال تھا کہ سعودی عرب کفالہ نظام کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا تاہم اس نظام میں کچھ بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ غیر ملکی ملازمین اور کاروباریوں کو کچھ سہولتیں مل سکیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کفالہ نظام کے خاتمے یا تبدیلی سے سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے پاکستانی شہریوں کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ 

کاشف احمد نور کے بقول: ’سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہو گا کہ وہاں ملازمت کرنے والا کوئی دوسری نوکری کر سکے گا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکے گا۔‘

اسلام آباد میں عرب ممالک کو ملازمت کی خاطر افرادی قوت مہیا کرنے والے قمبر عباس کے خیال میں کفالہ نظام کے خاتمے سے سعودی عرب میں کاروبار کرنے والے غیر ملکیوں کو زیادہ فائدہ ہونے کے امکانات ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں قمبر عباس نے کہا کہ سعودی عرب میں کاروبار کی صورت میں آپ کو وہاں کے ایک باشندے کو اپنے منافعے کا کچھ حصہ دینا پڑتا ہے اور آپ پر غیر ضروری پابندیاں بھی نافذ ہوتی ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا: ’کفالہ نظام کے ختم ہونے سے کاروباری حضرات ان پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گے۔ یہ بہت اچھا ہو گا اور زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہو گا۔‘ 

یاد رہے کہ میڈیا اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت سات دہائیوں سے رائج کفالہ نظام ختم کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ 

سعودی عرب کے ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق: ’سعودی وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی ایک نئی پالیسی بنا رہی ہے جس کے تحت آجروں اور غیر ملکی ملازمین کے مابین تعلقات کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس پالیسی کو آئندہ سال کی پہلی ششماہی میں متعارف کیا جائے گا۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ غیر ملکی مرد اور خواتین ملازمتیں اور کاروبار کرتے ہیں جن میں خواتین کی تعداد آدھی سے کم ہے۔ 

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ پاکستانی روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں موجود ہیں جبکہ وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی تعداد چھبیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ 

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2016 میں پہلی مرتبہ مستقل رہائشی پروگرام کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مخصوص افراد کو سعودی عرب میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مستقل قیام کی اجازت مل سکتی ہے۔ 

’ملک خالی ہاتھ لوٹنا پڑا‘

سعودی عرب میں دس سال سے زیادہ عرصہ کاروبار کرنے والے وحید علی کا کہنا تھا کہ کفالہ نظام سے عرب ملک میں کاروبار کرنے والوں کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ 

’وہاں غیر ملکیوں کی کوئی نہیں سنتا جس کے باعث ہمیں ہمیشہ نقصان ہی ہوتا ہے اور یہ سب کفالہ نظام کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وحید علی نے کہا کہ ان کے کفیل نے دیکھا کہ کاروبار میں منافع ہو رہا ہے تو اس نے انہیں ملک سے نکال دیا اور کاروبار ایک دوسرے غیر ملکی کے حوالے کر دیا۔ 

وہ سعودی عرب میں دس سال سے زیادہ ایک کامیاب کاروبار چلانے کے باوجود خالی ہاتھ پاکستان واپس آئے۔ 

اسلام آباد میں ہی بیرون ملک افرادی قوت بھیجنے والی کمپنی کے مالک حسن مسعود مرزا کا کہنا تھا: ’سعودی عرب میں تو غیر ملکی ایئرلائن کا مسافر طیارہ بھی کفالہ نظام کے تحت اترتا ہے۔ وہاں غیر ملکیوں سے متعلق کوئی کام کفیل کے بغیر نہیں ہو سکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا مقصد بیرونی دنیا سے سرمایہ کاری کے حجم کو زیادہ کرنا ہے جو کفالہ نظام کو ختم کیے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ 

ان کے مطابق پاکستان جیسے غریب ممالک سے لوگ مسائل کے باوجود وہاں روزگار کے لیے جاتے ہیں لیکن ترقی یافتہ دنیا ان پابندیوں کو برداشت نہیں کرتی۔ 

کفالہ نظام کیا ہے؟ 

اکثر خلیجی ممالک میں بیرون ملک سے آنے والے کارکنوں (ورکرز) کو کفالہ نظام کے تحت  منظم کیا جاتا ہے۔ 

سعودی عرب میں کفالہ نظام کی شرائط دوسرے عرب ملکوں کی نسبت زیادہ سخت ہیں۔ 

اس نظام کے تحت غیر ملکی کارکن کی سعودی عرب آمد اور وہاں قیام ایک سعودی باشندے کی ذمہ داری ہوتی ہے جسے کفیل کہا جاتا ہے۔  

کفیل غیر ملکی کارکن کا پاسپورٹ اور دوسرے دستاویزات اپنے پاس رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں کئی شکایات بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔ 

قمر عباس کا کہنا تھا کہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے لوگ بھی کفالہ نظام کے تحت ہی سفر کرتے ہیں لیکن ان کا قیام مختصر ہوتا ہے اس لیے کفیل کہ اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ 

سعودی عرب میں کاروبار کرنے کی صورت میں بھی کفالہ نظام کے تحت سعودی شہری کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ 

اکثر عرب کفیلوں کی غیر ملکی ملازمین کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آنے کی شکایات عام ہیں۔ 

کفالہ نظام کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں غیر ملکیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ 

سعودی عرب کی جیلوں میں موجود غیر ملکیوں کی بڑی تعداد اپنے کفیلوں کی شکایات کے باعث پابند سلاسل ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا