میچ زمبابوے سے، مقابلہ حارث سہیل اور امام الحق میں

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سب کچھ پاکستان کے حق میں جا رہا تھا صرف دو وکٹیں گری تھیں اور سکور 119 پر پہنچ گیا تھا اگرچہ رفتار توقع کے مطابق نہیں تھی لیکن پاکستان کیمپ مطمئن تھا۔

حالانکہ مدھوویر نے غلط سمت بھی تھرو کی تھی اور اگر چاہتے تو ایک بلے باز دوسری طرف پہنچ کر پاکستان کا نقصان بچا سکتے تھے(اے ایف پی)

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان کی جیت یا برینڈن ٹیلر کی سنچری شائقین کو اتنا زیادہ یاد نہیں رہے گی جتنا امام الحق اور حارث سہیل کا ایک ہی کریز پر پہنچنے میں ایک دوسرے کو مات دینا۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سب کچھ پاکستان کے حق میں جا رہا تھا صرف دو وکٹیں گری تھیں اور سکور 119 پر پہنچ گیا تھا اگرچہ رفتار توقع کے مطابق نہیں تھی لیکن پاکستان کیمپ مطمئن تھا۔

اپنی عادت کے مطابق امام الحق ’انفرادی‘ اننگز کھیل رہے تھے اور کوئی خطرہ مول لینے کے بجائے سنگلز پر اکتفا کر رہے تھے۔

25 ویں اوور کی پانچویں گیند پر امام نے آہستہ سے پوائنٹ پر کھیلا اور حارث سے آنکھیں ملائے بغیر بھاگنا شروع کیا، دوسری طرف حارث سمجھے رن لینا ہے اور انہوں نے امام کی  جانب دوڑ لگا دی۔ فیلڈر نے پھرتی سے گیند کو روکا تو امام اپنے پارٹنر کو دیکھے بغیر بیٹنگ کریز کی طرف واپس پلٹے۔

اتنی دیر میں حارث بھی ان کے قریب پہنچ گئے بس یہاں سے دونوں بلے بازوں نے اپنی پوری قوت لگا دی کہ پہلے کریز میں پہنچ جائیں دونوں نے قطعاً یہ نہ سوچا کہ ایک بلے باز کو دوسری طرف بھاگنا چاہیے تھا  لیکن دونوں کی ’خود غرضی‘ اپنی وکٹ بچانا چاہتی تھی۔ ٹیم کی پرواہ نہیں تھی۔

حالانکہ مدھوویر نے غلط سمت بھی تھرو کی تھی اور اگر چاہتے تو ایک بلے باز دوسری طرف پہنچ کر پاکستان کا نقصان بچا سکتے تھے وقت بھی بہت تھا اور امید بھی !! لیکن دونوں ’اپنا اپنا‘ سوچ رہے تھے۔

ایک ایسا رن آؤٹ جس میں امپائر کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کس کو آؤٹ دیں، کس کا بلا پہلے کریز میں پہنچا۔ مزاحیہ بات یہ تھی کہ دونوں اس جگہ تھے جہاں سکندر رضا نے بیلز اڑائی بھی نہیں تھیں  !!!

کافی دیر تک کیمرہ میں دیکھنے کے بعد امام الحق، حارث سہیل سے ہار گئے اور آؤٹ قرار دے دیے گئے  ورنہ اپنی طرف سے تو کوئی بھی باہر جانے کو تیار نہیں تھا۔

مضحکہ خیز انداز میں رن آؤٹ ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی پاکستانی کھلاڑی اسی انداز میں آؤٹ ہوتے رہے ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں عمر اکمل اور صہیب مقصود نے بھی یہی حرکت کی تھی اور دونوں کھلاڑی ایک ہی جانب دوڑ رہے تھے۔

آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اظہر علی بھی مضحکہ خیز انداز میں رن آؤٹ ہوئے تھے جب شاٹ کھیل کر بھاگ کر رنز لینے  کے بجائے وکٹ کے بیچ میں آکر اسد شفیق سے ’نہاری‘ بنانے کے مشورے حاصل کرنے لگے تھے یہ بھی نہ دیکھا کہ گیند نے باؤنڈری پار کی ہے اور نہ ڈیڈ ہوئی ہے بس سمجھ لیا کہ چوکا ہوچکا ہے۔

بھارت کے خلاف مصباح الحق کا رن آؤٹ کون بھول سکتا ہے جب شاٹ کھیل کر دوسری کریز میں پہنچ رہے تھے تو فیلڈر کی تھرو کو اچھل کر جگہ دی تاکہ وکٹ پر لگ سکے مصباح کی لانگ جمپ ان کو واپس پویلین لے گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہنسانے کی خاطر دوسری ٹیموں نے بھی مضحکہ خیز انداز میں رن آؤٹ کے واقعات تشکیل دیے ہیں۔  1999 کے ورلڈ کپ میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف آسٹریلین کھلاڑیوں نے بھی پورے سٹیڈیم کو ہنسنے پر مجبور کر دیا تھا اسی طرح ایک ٹیسٹ میں سری لنکا کے مرلی دھرن بھی گیند کے ڈیڈ ہونے سے پہلے سنگا کارا کو سنچری کی مبارکباد دینے پہنچ گئے تھے جہاں سے سیدھے پویلین جانا پڑا تھا۔

زمبابوے کے خلاف پہلے میچ میں بابر اعظم کے جلدی آؤٹ ہونے سے لگتا تھا کہ پاکستان بڑا سکور نہیں کر پائے گا لیکن آخری اوورز میں زمبابوے بولرز کی ناتجربہ کاری نے سکور 281 تک پہنچا دیا۔

زمبابوے نے  282 کے ہدف تک پہنچنے میں پاکستان کی تجربہ کار بولنگ کو کاری جواب دیا اور جم کر اپنی بیٹنگ کی۔

ایک موقع پر پاکستانی کپتان پریشان نظر آتے جب ٹیلر اور مہادیوویر کی 119 رنز کی پارٹنر شپ نے پاکستان کے ہاتھ سے میچ چھیننا شروع کر دیا تھا۔ تاہم شاہین شاہ اور وہاب ریاض نے اس موقع پر عمدہ بولنگ کی اور پے درپے کھلاڑی آؤٹ کرکے زمبابوے کو شکست کا داغ دے دیا۔

برینڈن ٹیلر نے شاندار بیٹنگ کی اور کیرئیر کی 12ویں سنچری سکور کی۔  اگر وہ آؤٹ نہ ہوتے تو زمبابوے جیت سکتا تھا۔ ٹیلر نے بیٹنگ کے ساتھ وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے تین مشکل کیچ بھی لیے جس نے ان کو مین آف دی میچ کا حقدار بنا دیا۔

پاکستان نے افتخار احمد کو پھر سے کھلایا جن کی کارکردگی صرف آنے جانے تک محدود رہی جبکہ بولنگ میں اپنا افتتاحی میچ کھیلنے والے حارث رؤف بھی پہلا میچ یادگار نہ بنا سکے۔

کیا پاکستان پیر کو اگلے میچ میں کسی نوجوان کو موقع دے گا یا پھر یہی ٹیم کھیلے گی جس کے پیروں سے زمین سرکتے سرکتے رہ گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ