فلسطینی دست کار کا ٹرمپ کے خلاف احتجاج، جوتوں پر نام لکھ ڈالا

فلسطینی دست کار عماد محمد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین سے متعلق پالیسیوں پر اپنی مایوسی کے اظہار کے لیے تخلیقی انداز اپناتے ہوتے جوتوں پر خطاطی میں ان کا نام لکھ دیا۔

فلسطینی دست کار عماد محمد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین سے متعلق پالیسیوں پر اپنی مایوسی کے اظہار کے لیے تخلیقی انداز اپنایا ہے۔ انہوں نے اپنے تیار کیے جوتوں پر عربی خطاطی میں ٹرمپ کا نام لکھ دیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’جوتے زمین ہر دھول اور گند کو لگتے ہیں۔ تو اگر میں کسی کا نام ان پرلکھ دیں تو وہ بھی گندے ہوجاتے ہیں۔ تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کسی کی کتنی عزت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ ساتھ حالیہ دنوں میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کا نام بھی جوتوں پر لکھنا شروع کردیا ہے کیونکہ ان کے مطابق دنوں نے ’ہمارے لوگوں پر حملہ کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب روایات کے مطابق جوتے پر کسی نام لکھنا اس کی بےعزتی کرنے کے مترادف ہے۔ 57 سالہ دست کار کو ٹرمپ اور سابق برطانوی وزیر اعظم لارڈ بیلفورڈ کی اسرائیل نواز پالیسیوں میں مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے مشرق وسطیٰ کے برطانیہ کے زیرانتظام علاقے بیلفورڈ کی زیر نگرانی تھے۔ بعد میں اس خطے میں اسرائیل، فلسطین علاقے اور اردن بن گئے۔ 

 

نومبر 1917 کو بیلفور اعلامیے سامنے آیا جو سامراج دور کے سفارت کار لارڈ بیلفور کے نام سے منسوب ہے۔ اس اعلامیے میں اس فلسطینی علاقے میں ’یہودیوں کے لیے ایک قومی گھر‘ کی حمائت کی گئی جس نے برطانیہ کے زیرانتظام آنا تھا۔ 

فلسطینی دست کار امریکی صدر اور سابق برطانوی سیاست دان کے لیے اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے ’بیلفور‘ جوتے فروخت کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنی دکان پر ایک  بورڈ بھی آویزاں کر دیا ہے جس پر لکھا ہے کہ برطانوی اور امریکی گاہک دکان میں داخل ہونے سے پہلے اپنے رہنماؤں کے اقدامات پر معافی مانگیں۔ 

امریکی صدر کے نام والے جوتے دو سو شیقل یا 50 ڈالر کے بکتے ہیں اور عماد کے مطابق یہ ’اندر اور باہر سے اصلی چمڑے کے بنے ہیں اور ان (صدر ٹرمپ) سے زیادہ حقیقی ہیں۔‘  

عماد نے اپنا منفرد احتجاج 2018 میں شروع کیا تھا جب ٹرمپ نے کئی دہائیوں سے جاری پالیسی سے خلاف جاتے ہوئے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے پورے بیت المقدس کو اسرائیل کا علاقہ تسلیم کر لیا تھا۔ ان کے ان اقدامات پر فلسطینی عوام نے غم وغصے کا اظہار کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا