کسانوں کا آئندہ پی ٹی آئی کو ووٹ نہ دینے کا عندیہ

لاہور میں گنے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے لیے احتجاج کرنے والے درجنوں کسانوں کی گرفتاری کے بعد کسان اتحاد نے کہا ہے کہ اگر ان کے ساتھی رہا نہ ہوئے تو کوئی کسان پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دے گا۔

پنجاب کے کاشت کاروں نے گنے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے لیے منگل کو لاہور کے روڑ مال روڈ چیئرنگ کراس اور ٹھوکر نیاز بیگ پر دھرنا دیا لیکن پولیس نے رات گئے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور گرفتاریاں شروع کر دیں۔

پولیس کا موقف تھا کہ 24 گھنٹے سے مال روڑ اور ٹھوکر نیاز بیگ پر ملتان روڑ بند ہونے سے ٹریفک معطل تھی جس سے شہریوں کو مشکلات پیش آ رہی تھیں اس لیے روڑ کھلوانے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب کسان اتحاد پنجاب کے چیئرمین چوہدری انور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رات کے وقت مال روڑ اور ٹھوکر نیاز بیگ پر پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا جس سے کئی کسان زخمی ہوگئے، اس کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کے استعمال سے مظاہرین کو پریشانی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ 400 سے زائد مظاہرین کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔ ’ہم گنے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے اعلان پر بھی پنجاب میں کاشت کاروں کو گندم کی دو ہزار روپے فی من قیمت نہیں مل رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ گنے کی قیمت اس وقت 200 روپے ہے جبکہ ہم نے 250 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، شوگر ملز آرڈیننس 2020 ختم کیا جائے تاکہ کسان لاگت کے مطابق گنا فروخت کر سکیں۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ٹیوب ویل کے بجلی بل میں سابقہ ریٹ 5.35 روپے فی یونٹ بحال کیا جائے، جعلی ادویات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، کپاس کی کاشت بند ہونے پر ملک کو اربوں کا نقصان ہوا لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون راجہ بشارت نے مذاکرات کے لیے بلایا لیکن مطالبات تسلیم کیے بغیر احتجاج ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈلا، ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ چوہدری انور کے مطابق زرعی اجناس کی ان پٹس بہت مہنگی ہیں لیکن ان کی قیمتیں کم ہونے پر کسان بدحال ہو رہا ہے اور حکومت مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے جبر و تشدد سے کام لے رہی ہے۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کے مطابق کسانوں سے بات چیت جاری ہے۔ ’کوشش ہے ان کے قانونی مطالبات تسلیم کر لیے جائیں، پرامن احتجاج ان کا حق ہے وہ احتجاج کر سکتے ہیں لیکن مال روڑ پر دفعہ 144 لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر نافذ ہے اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ شاہراہیں بند ہونے سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پولیس نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے پتھراؤ کیا، اس لیے کاشت کاروں کو چاہیے وہ پرامن احتجاج کریں اور توڑ پھوڑ سے باز رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان