وہ جنہیں صرف ایک بار ہی امریکہ کی صدارت ملی

ان 44 مرد صدور میں سے صرف دس ایسے ہیں جنہوں نے دوسری مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا اور جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔

آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ دو بار بطور  امریکی صدر خدمات انجام دینے کی اجازت ہے (اے ایف پی)

امریکی صدر کا عہدہ 1789 سے چلا آ رہا ہے اور 231 سالوں میں پہلے شخص کے ملک کے اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کے بعد 44 صدور امریکہ کی قیادت کر چکے ہیں۔

آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ دو بار بطور صدر خدمات انجام دینے کی اجازت ہے، ایک دورِ اقتدار کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ اگرچہ اس عہدے کے لیے صنف کی کوئی تفریق نہیں رکھی گئی تاہم امریکی تاریخ میں آج تک کوئی خاتون صدر منتخب نہیں ہوئیں۔

ان 44 مرد صدور میں سے صرف دس ایسے ہیں جنہوں نے دوسری مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا اور جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔

جان ایف کینیڈی واحد صدر تھے جن کو دوبارہ انتخاب لڑنے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

1932 سے 1976 تک کے دوران وہ طویل ترین عرصہ تھا جب کسی بھی امریکی صدر نے ری الیکشن میں شکست کا سامنا نہیں کیا۔

آخری امریکی صدر جو دوسری مدت کے لیے انتخاب جیتنے میں ناکام رہے وہ جارج ایچ ڈبلیو بش تھے جو 1992 میں بل کلنٹن سے ہار گئے تھے۔

28 سالوں سے امریکہ میں کوئی بھی ایسا صدر نہیں رہا جس نے دوسری مدت میں کامیابی حاصل نہ کی ہو لیکن اس بار کے انتخابات میں یہ سلسلہ ٹوٹنے کا امکان ہے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی فتح کے امکانات روشن ہیں۔

ذیل میں ان صدور کے بارے میں بات کی جا رہی ہے جو دوبارہ انتخابات جیتنے میں ناکام رہے تھے۔

جان ایڈمز

جان ایڈمز پہلے امریکی صدر تھے جو دوسری مرتبہ بار انتخاب جیتنے میں ناکام رہے۔ ایڈمز نے ملک کے پہلے نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی تھیں۔

1789 میں جب امریکی صدر کا عہدہ تشکیل دیا گیا تھا تو جارج واشنگٹن نے سب سے پہلے یہ اعزاز حاصل کیا تھا اور ایڈمز نے ان کے نائب کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 

جارج واشنگٹن نے جب اپنی دو مدت پوری کیں تو ایڈمز نے ’فیڈرلسٹ پارٹی‘ کے تحت انتخابات میں حصہ لیا اور صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سنبھالی۔

اپنے دورِ اقتدار کے دوران جان ایڈمز فرانس کے ساتھ نیم فوجی جنگ میں مصروف رہے جب انہوں نے نیو یارک سٹی بندرگاہ پر ایک تجارتی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا تھا۔

اگلے انتخابات میں وہ تیسرے نمبر پر رہے۔ رپبلکن پارٹی کے دو امیداروں نے ان انتخابات میں حصہ لیا اور بالآخر تھامس جیفرسن نئے امریکی صدر منتخب ہو گئے۔

جان کوئنسی ایڈمز

ایڈمز خاندان کے ہی جان کوئنسی امریکی صدر کی حیثیت سے دوسری مرتبہ دوبارہ انتخاب جیتنے میں ناکام رہے۔

کوئنسی دوسرے امریکی صدر جان ایڈمز کے بڑے صاحبزادے تھے اور وہ یہ عہدہ سنبھالنے والے چھٹے شخص تھے۔

صدر کے طور پر ان کے دور میں ان کی ’ڈیموکریٹک رپبلکن پارٹی‘ میں بڑی بڑی داخلی لڑائیاں جاری رہیں، جس کے باعث وہ کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔

جان کوئنسی ایڈمز کی دوبارہ انتخابات میں ناکامی نے پارٹی کو بھی دو ڈھروں میں تقسیم کر دیا۔ اس طرح ڈیموکریٹک پارٹی اور وہگ پارٹی کا وجود عمل میں آیا۔

کوئنسی ایڈمز اپنے والد کے بعد دوسری مرتبہ منتخب ہونے میں ناکام رہنے والے دوسرے امریکی صدر بن گئے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک ان دو باپ بیٹوں نے ہی ری ایلکشنز میں ناکامی کا مزہ چکھا تھا۔

گروور کلیو لینڈ اور بینجمن ہیری سن

مارٹن وان بورین اگلے صدر تھے جو 1840 میں دوبارہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے لیکن گروور کلیولینڈ نے یہ ثابت کیا کہ انتخابات میں شکست آپ کو دوسری مدت صدارت حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

ڈیموکریٹک کلیو لینڈ نے 1884 اور 1892 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد امریکہ کے 22 ویں اور 24 ویں صدر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

کلیولینڈ نے 1888 میں پاپولر ووٹ تو حاصل کیے  لیکن وہ اگلے چار سال تک خدمات انجام دینے والے رپبلکن بنجمن ہیریسن سے وہ الیکشن ہار گئے۔

1888 کا انتخاب سخت تھا اور 1892 میں کلیو لینڈ نے ہیریسن کو شکست دی تاکہ وہ صدارت کو واپس حاصل کر سکیں اور ہیریسن ری الیکشن جیتنے میں ناکام رہنے کے لیے پانچویں صدر بن گئے۔

ولیم ہاورڈ ٹفٹ

ہیریسن کے بعد ولیم ہاورڈ ٹفٹ اگلے امریکی صدر تھے جو 1912 میں 20 سال بعد دوبارہ انتخابات جیتنے میں ناکام رہے تھے۔

رپبلکن ٹفٹ امریکی تاریخ کے واحد شخص ہیں جہنوں نے ملک کے صدر اور چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ولیم ہاورڈ ٹفٹ نے بطور صدر کہا تھا کہ وہ افریقی امریکیوں کو وفاقی ملازمتوں پر تعینات نہیں کریں گے اور جنوب میں بلیک آفس ہولڈروں کی اکثریت کو ہٹا دیں گے۔

انہیں بیشتر مورخین ایک اوسط صدر کے طور پر مانتے ہیں کیوں کہ ان کے چار سالہ دورِ اقتدار میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے 1909 سے 1913 تک صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 1912 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووڈرو ولسن سے ہار گئے۔

ہربرٹ ہوور

ہربرٹ ہوور 1928 میں امریکی صدر منتخب ہوئے تھے اور انہیں 1929 میں سٹاک مارکیٹ کے بحران کے بعد ملک کی تعمیر نو کا فریضہ انجام دینا تھا۔

صدر کی حیثیت سے ہوور نے کانگریس کے ممنوع رائے دہی کی نگرانی پر پابندی کے خاتمے کے لیے ووٹنگ کی نگرانی کی۔ انہوں نے امریکہ میں شراب کی غیرقانونی حیثیت برقرار رکھنے کی بھی حمایت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی صدارت کو 1929 میں معاشی بحران کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنی ایک مدت کا بیشتر حصہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش میں صرف کیا۔

امریکہ 1932 کے انتخابات کے وقت تک معاشی بحران کے بھنور سے نہیں نکل پایا تھا اور وہ فرینکلن ڈی روزویلٹ سے ہار گئے۔

جیرالڈ فورڈ اور جمی کارٹر

جیرالڈ فورڈ نہ صرف امریکی صدر کی حیثیت سے دوبارہ انتخاب جیتنے میں ناکام رہے  بلکہ انہوں نے کبھی صدارتی انتخاب بھی نہیں جیتا۔

رچرڈ نکسن کے واٹر گیٹ سکینڈل کے بعد مستعفی ہونے کے بعد رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے جیرالڈ فورڈ حادثاتی طور پر صدر کے عہدے پر براجمان ہوئے تھے۔

انہوں نے 1974 سے 1977 تک بطور صدر خدمات انجام دیں تاہم 1976 کے انتخابات میں جمی کارٹر نے انہیں شکست دی تھی۔

ڈیموکریٹ کارٹر نے 1977 سے 1981 تک امریکی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں لیکن وہ 1980 کے انتخابات رونالڈ ریگن سے ہار گئے تھے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ جیرالڈ فورڈ نے کبھی بھی صدارتی انتخاب نہیں جیتا، کارٹر کے ہارنے کے بعد یہ پہلی بار تھا جب یکے بعد دیگرے دو امریکی صدور ری الیکشن جیتنے میں ناکام رہے۔

جارج ایچ ڈبلیو بش

2020 کے انتخابات سے پہلے جارج ایچ ڈبلیو بش دوبارہ انتخاب جیتنے میں ناکام رہنے والے آخری صدر تھے جب انہیں 1992 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ بل کلنٹن نے شکست دی تھی۔

بش سینیئر امریکہ کے 41 ویں صدر تھے اور وہ 1976 سے 1980 تک سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہے۔

انہوں نے 1981 سے 1989 تک ریگن کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

صدر کی حیثیت سے بش خلیجی جنگ میں مشغول رہے اور ڈس ایبلٹیز ایکٹ پر دستخط کر کے اس کو قانون بنایا۔

2000 میں ان کے بیٹے جارج ڈبلیو بش صدر منتخب ہوئے جنہوں نے باراک اوباما سے پہلے دو بار اپنی مدت صدارت پوری کی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ