ملک کا کوئی قانون ہے یا نہیں؟

ضلع خوشاب میں احمدی ہونے کا الزام لگا کر قتل کیے جانے والے بینک مینیجر کے واقعے سے متعلق چند اہم سوالات۔

گذشتہ دنوں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب میں ایک بینک کے برانچ مینیجر کو سکیورٹی گارڈ نے یہ الزام لگا کر گولی مار دی کہ وہ احمدی ہیں اور مذہبی جذبات مجروح کرتے تھے۔

بینک کی جس برانچ میں یہ واقعہ پیش آیا تھا وہاں کام کرنے والے ایک ملازم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ’یہ الزام غلط ہے کہ بینک مینیجر احمدی فرقے سے ہیں کیونکہ وہ کئی سالوں سے ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملازم کے مطابق: ’برانچ مینیجر نے کبھی مذہبی یا مسلک سے متعلق کوئی بحث کی اور نہ ہی کسی کو قائل کرنے کی کوشش کی۔‘

اسی موضوع پر سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے اپنے وی لاگ میں چند سوال اٹھائے ہیں اور پوچھا ہے کہ کیا اگر کوئی توہین کا مرتکب ہوتا بھی ہے تو ملک کا کوئی قانون ہے یا نہیں؟

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ