جو بائیڈن کے بعد طالبان کچھ گھبرائے ہوئے ہیں: افغان تجزیہ کار

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی جیت کے بعد افغان طالبان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب صدر سابقہ دور کے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ 

12 ستمبر کو طالبان کے مذاکرات کار عباس ستانکزئی دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے دور کے پہلے روز ہال میں داخل ہوتے ہوئے (اے ایف پی)

افغانستان میں امن کے قیام کے لیے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان رواں سال فروری کے آخر میں تاریخی امن معاہدہ ہوا جس پر امریکہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمائندے ملا بردار نے دستخط کیے تھے۔   

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغانستان میں امن کے حوالے سے طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا مستقبل امریکی صدراتی انتخابات میں جو بائیڈن کے انتخاب کے بعد مخدوش نظر آتا ہے۔  

دوسری جانب افغان طالبان نے امریکی کے انتخابی نتائج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جو بائیڈن کی فتح کو قبول تو کیا لیکن انہیں مبارک باد نہیں دی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ مستقبل میں امریکہ سمیت تمام دیگر ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔ 

افغان صدر اشرف غنی کے سابق ترجمان اور افغانستان کے سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے پروفیسر نجیب اللہ آزاد سمجھتے ہیں کہ پرتشدد واقعات نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کوبہت حد تک کمزور کر دیا ہے۔ 

 نجیب اللہ آزاد کے بقول ایک ماہ قبل جب پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندے زلمے خلیل زاد کو ڈیموکریٹس نے طلب کیا تھا تو طالبان امریکہ معاہدے پر بہت زیادہ بحث مباحثہ ہوا۔ 

سیاسی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کے کیے گئے معاہدوں میں تبدیلی کا امکان ہے۔ 

 

 نجیب آزاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو موجودہ صورت حال کے حوالے سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ’امن معاہدے میں تشدد میں کمی لانے کا کہا گیا لیکن ہم  دیکھتے ہیں کہ نہ صرف طالبان کے حملوں میں تیزی آئی بلکہ امریکہ نے بھی جوابی حملے کیے جو ایک طرح سے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔‘

یاد رہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے معاہدے کے حوالے سے افغان حکومت کو شروع سے ہی تحفظات تھے۔ افغان حکومت اس معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔  

 ادھر افغان طالبان نے جو بائیڈن کے نئے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب صدر سابقہ دور کے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ 

 طالبان کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے کسی شخص سے نہیں بلکہ امریکی حکومت سے معاہدہ کیا تھا۔ 

طالبان کے حالیہ بیان کے حوالے سے نجیب آزاد نے بتایا: ’اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کچھ گھبرائے ہوئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ انہیں خطرہ ہے کہ معاہدہ ختم نہ ہو جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اگر جنگ بندی کی جاتی ہے اور پھر بھی پرتشدد واقعات ہوتے ہیں تو اس سے جنگ کا ماحول پیدا ہو گا اور نفرتیں بڑھیں گی۔‘

نجیب آزاد جو بائیڈن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں واضح فرق دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن کا پچاس سالہ سیاسی تجربہ ہے، چھ مرتبہ سینیٹر بنے اور نائب صدر بھی رہ چکے ہیں دوسری طرف ٹرمپ ایک موڈی انسان تھے جو ایک ٹویٹ کرتے اور دوسرے روز کچھ اور کہتے تھے۔  

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے مقابلےمیں بائیڈن منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، وسیع سیاسی تجربہ ہے، ان کی بات وہی ہو گی جو کہیں گے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نجیب آزاد کے مطابق بائیڈن سابقہ دور کے معاہدات کے حوالے سے بھی نظر ثانی کریں گے۔ بعض کا وہ حصہ بنیں گے اور کچھ سے وہ نکل جائیں گے یا انہیں ختم بھی کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں طالبان کے ساتھ  معاہدہ بھی اہم ہے۔ 

سیاسی امور کے ماہرین افغان حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کے نومنتخب صدر سے سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی استعداد کار کو بڑھائیں۔ 

نجیب آزاد سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت امن معاہدے پر تحفظات رکھتی ہے جس میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ طالبان کو مستقبل کی حکومت کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ طالبان ان لوگوں کو پناہ نہیں دیں گے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں۔ 

پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا کردار ہمیشہ زیر بحث رہتا ہے۔ نجیب آزاد کے مطابق: ’افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کا کردار پہلے بھی اہم تھا اب بھی ہے کیوں کہ یہ واحد ملک ہے جو طالبان پر سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھتا ہے۔ ان کے درمیان گہرے روابط ہیں۔‘ 

 

نجیب آزاد کے بقول: ’ہم نے دیکھا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کو پاکستان باضابطہ دعوت دیتا ہے جس میں طالبان کی عسکری قیادت کوئٹہ شوریٰ، پشاور یا میران شاہ شوریٰ ہے۔ یہ واحد ملک ہے جو طالبان پر اسی یا نوے فیصد اثررکھتا ہے۔ اس لیے بائیڈن کے آنے سے پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔‘

 

افغان صدر اشرف غنی کہاں کھڑے ہیں؟

نجیب آزاد کے مطابق، موجودہ صورت حال میں افغان صدر اشرف غنی کی حیثیت اہم ہے۔ ڈیڑھ دو ماہ سے جو مذاکرات ہورہے ہیں ان کا کردار موجود ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر جگہ وہ موجود ہوں۔ کیوں کہ افغان حکومت کا وفد ہی مذاکرات کررہا ہے۔ 

واضح رہے کہ امن معاہدے کے بعد افغان حکومت سے ہونے والے مذاکرات بھی سست روی کا شکار رہے اور قیدیوں کی رہائی میں کافی عرصے تک تاخیر ہوتی رہی۔ 

نجیب آزاد سمجھتے ہیں کہ ’اگر اشرف غنی کو مائنس کیا جائے تو کوئی بھی معاہدہ پائیدار نہیں ہوسکتا۔ اگر طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا ہوئے تو کس کے دستخط سے رہا ہوئے ہی؟ امن کے حوالے سے  کوئی بھی بات چیت ہوتی ہے تو اس میں اشرف غنی فرنٹ لائن پر ہیں۔ معاہدے  کے بعد کیا حکومت بنے گی کون حصہ دار ہوگا یہ مستقبل کا فیصلہ ہے۔ موجودہ صورت حال میں افغان صدر کا کردار اہم ہے۔‘

پرتشدد واقعات میں اضافے پر نجیب آزاد کا کہنا ہے کہ ’اگر ان چیزوں کو دیکھا جائے تو یہ امن معاہدے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کیوں کہ معاہدے میں واضح لکھا ہےکہ طالبان اپنے حملوں میں کمی لائیں گے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سب کچھ اس کے برعکس ہوا اورحملوں میں شدت آگئی۔ امریکہ نے بھی ہلمند اور تخار میں طالبان پر حملے کیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں فریقین کی جانب سے معاہدہ ٹوٹ چکا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ تاریخ کو دیکھا جائے تو وہاں پالیسیوں کو اشخاص نہیں بلکہ نظام لیڈ کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا