'20 نومبر سے پہلے شادی کر سکتے ہیں تو کرلیں'

حکومت نے کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر شادی ہالوں کو 20 نومبر سے بند کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد شادی ہالوں کی انتظامیہ میں تو شدید بے چینی پھیلی ہی، ساتھ ہی جن لوگوں کی شادیاں ہیں وہ بھی پریشان ہو گئے ہیں۔

سیدہ کی شادی  28 نومبر کو طے پائی ہے، تاہم انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ پہلے ہی شادی کرلیں۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

ذرا سوچیے کہ شادی سر پر ہو، تیاریاں زور و شور سے جاری ہوں، کارڈز تقسیم کیے جاچکے ہوں اور شادی ہال بھی بک ہو چکا ہو۔ ایسے میں آپ کو معلوم ہوکہ حکومت نے تمام شادی ہالز کو دوبارہ سے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے تو ایسے میں  دلہا اور دلہن سمیت سبھی گھر والے سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے اور شادی ہال کے مالکان حکومت کو بڑی بڑی دھمکیاں لگائیں گے، یا پھر انہیں یقین دلائیں گے کہ  ان کے شادی ہال میں کرونا (کورونا) وائرس قدم نہیں رکھے گا۔

ایسی ہی کچھ کہانی ہے سیدہ* کی، جن کی شادی خانہ آبدی 28 نومبر کو طے پائی ہے، تاہم انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ پہلے ہی شادی کرلیں۔

بقول سیدہ: 'شادی ہال والے کہتے ہیں کہ 20 تاریخ سے پہلے پہلے شادی کر لیں، بندہ پوچھے ہم تو ہال کب کا بک کروا چکے تھے۔اب وہ چاہتے ہیں کہ 20 نومبر سے پہلے لوگ اپنا پورا پلان تبدیل کرکے تابڑ توڑ شادیاں نمٹا لیں۔ ایسا تو نہیں ہوتا۔'

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: 'خیر ہمارے ہال والوں نے 28 تاریخ کی بکنگ منسوخ کردی ہے، اب وہ ہمیں گھر پر اپنی صرف کیٹرنگ سروس دیں گے۔ بڑی مصیبت ہوئی کیونکہ مہمانوں کی تعداد بھی کافی حد تک کم کرنی پڑی۔ رشتہ دار ناراض ہو رہے ہیں لیکن میں خوش ہوں کیونکہ میں تو پہلے ہی چاہتی تھی کہ شادی سادگی سے ہو۔'

سیدہ نے بتایا کہ ان کے گھر والوں نے بینکویٹ ہال والوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ گھر پر جب شادی کا انتظام کریں تو کچھ بندے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے بھی بھیجیں۔

'اب شادی کے دن لوگ تیار ہو کر میک اپ کرکے آئیں گے، ہم اگر انہیں کہیں گے کہ ماسک پہنیں تو ہوسکتا ہے ان میں سے کچھ برا منا جائیں کہ ہم تو رشتے دار ہیں ہم سے کرونا تھوڑی ہو جائے گا۔ سو ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ گھر کے داخلی دروازے پر اپنے بندے کھڑے کریں اور آنے والے ہر مہمان کو ماسک پہنا کر اندر داخل ہونے دیں۔ بس مجھے تو لگتا ہے کہ میں دلہن بن کر بیٹھی ہوں گی اور کسی نے مجھے بھی کہہ دینا ہے کہ ماسک لگا لیں۔'

سیدہ نے بتایا کہ ان کے ہونے والے سسرال نے بھی ایک شادی ہال بک کیا تھا، جسے ہال والوں نے منسوخ کرکے ان کا انتظام گراؤنڈ میں کر دیا ہے اور کہا ہے کہ 500 سے زیادہ مہمان نہ آئیں جبکہ سسرال والوں نے شادی کا وقت رات سے دوپہر میں تبدیل کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر  (این سی او سی) نے کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر شادی ہالوں کو 20 نومبر سے بند کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد شادی ہالوں کی انتظامیہ میں تو شدید بے چینی پھیلی ہی، ساتھ ہی جن لوگوں کی شادیاں ہیں وہ بھی پریشان ہو گئے۔

اس حوالے سے لاہور کے ایک شادی ہال کے مینیجر فخر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'اگست میں انہوں نے کہا کہ شادی ہال کھول دیے گئے ہیں۔ ہم خوش تھے، لوگ بھی دھڑا دھڑ بکنگ کروا رہے تھے۔ یقین مانیے ہم مارچ کے مہینے تک بکڈ ہیں۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں۔ ہم تو سارے ایس او پیز پر بھی عمل کروا رہے تھے۔ ہال میں جتنی جگہ تھی اس کا آدھا استعمال کر رہے تھے، ماسک، سینیٹائزر، سب چیزوں پر عمل کر رہے تھے تاکہ کرونا وائرس نہ پھیلے۔ اب یہ پھر وہیں لے آئے ہیں کہ ہال بند کر دیں۔ ہمارے کلائنٹ سخت پریشان ہیں اور ہم اس لیے کہ انہوں نے ہمیں ایڈوانس پیسے دیے ہوئے ہیں۔ اگر سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ہم پھر سڑکوں پر نکلیں گے اور احتجاج کریں گے۔'

دوسری جانب پنجاب میرج ہال ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ میاں محمد الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شادی ہال بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں، جس پر انہوں نے یہ معاملہ این سی او سی میں اٹھانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

محمد الیاس نے بتایا: 'ہم نے صوبائی وزیر کو شادی ہال کھلے رکھنے کا ایک فارمولا بھی بتایا ہے، ہم نے کہا کہ ہم ڈسپوزیبل کراکری استعمال کریں گے، ہالز میں وینٹی لیشن کا پورا انتظام کریں گے، شادی کا فنکشن دو گھنٹے کا ہوگا، جس کا اختتام رات دس بجے ہو جائے گا، ون ڈش کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے شادی ہال کو تین ماہ کے لیے بند کر دیا جائے گا جبکہ ہم ایسوسی ایشن والے بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو کیونکہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کا بھی چالان ہوگا۔'

ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شادی ہالز کو بند نہیں کیا جائے گا اور جن لوگوں کی بکنگ ہوئی تھی ان کے فنکشن وہیں اور اسی دن ہوں گے۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ 'ہمارا سٹاف پورے ایس او پیز پر عملدرآمد کروائے گا مگر ہال کے اندر پہنچنے والے مہمانوں کی جانب سے ایس او پیز کا خیال رکھنے کی ذمہ داری میزبان فیملی پر بھی ہوگی اور ایسا نہ کرنے پر کسی بھی قسم کی لاپروائی کا ذمہ دار میزبان خاندان ہوگا۔'

دوسری جانب صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے بھی اس بات کی حمایت کا اظہار کیا ہے کہ بینکویٹ ہالز ایسوسی ایشنز کی جانب سے دی گئی سفارشات کو وہ این سی او سی کے سامنے پیش کریں گے، مگر شادی ہالز مالکان بھی دی گئی سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہال کی 50 فیصد گنجائش کے مطابق مہمانوں کی لسٹ ہال کے باہر لکھ کر لگائیں گے۔ 

*خاتون کی درخواست پر فرضی نام استعمال کیا گیا ہے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان