بچگانہ سیاست کا دور‎

تمام سیاسی دھڑوں کے میثاق کے اعلانات کے بعد تجویز کردہ قومی سیاسی مذاکرات کی میز قابل عمل ہوگی اور عوامی مسائل کا پائیدار حل ڈھونڈا جائے گا۔

(سوشل میڈیا)

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


پاکستان کے مایہ ناز مزاحیہ مصنف ڈاکٹر یونس بٹ کا ایک جملہ بہت مشہور ہوا۔ بچے غیرسیاسی ہوتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں ہے جہاں ’بچکانہ‘ ذہنیت کے خود پسند سیاست دان لوگوں کی سیاست سے مایوسی کو اپنی ذات انا کی تسکین کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ان لوگوں کو سیاست کی الف بے نہیں معلوم لیکن انہیں اس بات میں ملکہ حاصل ہے کہ عوام کے جذبات سے کیسے کھیلنا ہے اور میڈیا کے ذریعہ کس طرح ان جذبات کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا ہے۔ یہ حادثاتی رہنما اپنے ملکوں میں تباہی کے ذمہ دار ہیں مگر تاثر یہ دیتے ہیں کے سب اچھا ہو رہا ہے۔

ایسا ہی ایک سیاست دان نے پچھلے دنوں الیکشن ہارا لیکن خود پسندی اس قدر حاوی ہے کہ اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ مگر خوش قسمتی سے نظام میں اتنی مضبوطی ہے کہ اسے کنٹرول کر سکتا ہے۔

پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ پچھلے دنوں بڑا ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ کرونا پر پوری طرح قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ دعوی بھی ہوئے کے  پوری دنیا تعریف کے ٹوکرے برسا رہی ہے۔ حکومت کے ارسطو اسد عمر نے اعلان کیا کہ این سی او سی اتنی کامیاب رہی کہ اب ہر وزارت میں اسی طرح کی کمیٹیاں بننی چاہیے۔ وزیر اعظم جنہیں حکومت اور انتظامیہ کا کچھ نہیں معلوم انہوں نے فٹا فٹ سیاحت کے لیے ایسی ہی کمیٹی بنا دی۔ لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ کرونا ایک دفعہ پھر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور این سی او سی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

صرف یہی نہیں حکومت نے اعلان کیا کہ چینی اور آٹا مافیا کو نہیں چھوڑا جائے گا اور وزیر اعظم کسی سے نہیں ڈرتے۔ جن لوگوں نے غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالا انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ برا کیا جو تیرے وعدے پر اعتبار کیا۔

تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ جہانگیر ترین گرمیوں کی چھٹیاں ٹھنڈے انگلستان میں گزار کر ملک واپس آ چکے ہیں۔ گنے کی فصل کی کٹائی کا وقت ہے ان پر نوٹوں کی بارش ہونے والی ہے اور حکومت نے بڑے فخر سے وعدہ کیا ہے کہ عوام کے لیے چینی پندرہ روپے سستی کی جائے گی۔ یعنی جو چینی پچھلے سال 55 روپے کلو تھی وہ بڑھ کر 110 تک پہنچ گئی اور اب بہت کمال ہوگا کے 95 پر ملے گی یعنی پچھلے سال سے 40 روپے زیادہ۔ واہ کیا کمال کے لوگ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بھی دعوی ہوئے کہ اس سے کاشت کار بھی ارب پتی بننے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں جہانگیر ترین کو اس لیے بلایا گیا کہ سیاسی انجینرنگ کے اگلے دور میں ان کے جہاز کی ضرورت پڑنے والی ہے اسی دوران اگر وہ چند ارب مزید کما لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ انگریزی میں اسی کو وِن۔وِن کہتے ہیں۔ غریب کا کیا ہے اس کا تو کام ہی بھوکا رہنا اور مشکلات میں جینا ہے۔

اس حکومت کو اب میرا مشورہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایک موقع اور ہے۔ پی ڈی ایم میثاق پاکستان پر کام کر رہی ہے اور انشا اللہ ہم بھی اپنے میثاق کا اعلان کریں گے۔ حکومت اگر واقعی سیاست، پارلیمان اور حکمرانی کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اپنے میثاق کا اعلان کرے۔ جہانگیر ترین کے کاروباری معاملات پر مجھے کافی تحفظات ہیں مگر ان کی انتظامی صلاحیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے وہ بھی اپنے ماضی کا کفارہ سیاسی استحکام لانے میں مثبت کردار کے ذریعہ ادا کر سکتے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کو اس بات پر قائل کر سکتے ہیں کہ قومی سیاسی مذاکرات ہی میں سب کا بھلا ہے۔ عوام بھی حکومت اور حزب اختلاف کی اقتدار کی لڑائی سے تنگ آ چکے ہیں۔

پی ڈی ایم کو یہ سمجھنا چاہیے کے ان کے جلسوں میں صرف پارٹی کارکن ہی شریک ہو رہے ہیں عوام ان سے بددل ہے۔ تمام سیاسی دھڑوں کے میثاق کے اعلانات کے بعد تجویز کردہ قومی سیاسی مذاکرات کی میز قابل عمل ہوگی اور عوامی مسائل کا پائیدار حل ڈھونڈا جائے گا۔ اسی میں سب کا بھلا ہے۔

حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو سنجیدگی اور بردباری کا مظاہرہ کر کے عوام کے دل اور اعتماد جیتنا چاہیے۔ ایسا موقع بار بار نہیں ملتا۔ تاریخ موقع کھونے والوں کو معاف بھی نہیں کرتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ