پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ میں شو کے بعد کیا؟

ہم میاں صاحب کی پچ پر نہیں گئے وہ ہمارے پچ پر آئے ہیں۔ میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی التجا کہ اب یو ٹرن لے کر چھوڑ کر مت جانا۔

گوجرانوالہ کے جلسے میں میثاق پاکستان کے بارے میں کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا (اے ایف پی)

پاکستان جمہوری تحریک یا پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسے پر بات کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں آپ دو چیزیں یاد رکھیں ایک منیر نیازی کا مصرعہ ’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘ اور دوسرا ایک محاورہ ’دیر آید درست اید۔‘

ہماری پوری سیاسی تاریخ ان دو چیزوں پر مبنی ہے۔ ہم صحیح فیصلے کرنے میں دیر لگا دیتے ہیں اور اس وقت اپنی سمت درست کرتے ہیں جب بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہو۔ پہلا آئین لکھنے میں ہم نے بہت دیر کر دی۔ جمہوریت کو ہم نے ہر مارشل لا کے بعد یہ کہہ کر قبول کیا دیر آید درست آید مگر جب بھی جمہوریت آئی منیر نیازی کا مصرعہ حاوی رہا ’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔‘

نواز شریف کی تقریر سن کر میرے منہ سے یہی دونوں چیزیں نکلیں۔ میاں صاحب کی تقریر سے مجھے مکمل اتفاق ہے اس لیے کہ آپ سب گواہ ہیں انہوں نے وہی سب باتیں کہیں جو میں آپ سے پچھلے کئی سالوں سے کر رہا ہوں۔ اس لیے ہم میاں صاحب کی پچ پر نہیں گئے وہ ہمارے پچ پر آئے ہیں۔ میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی التجا کہ اب یو ٹرن لے کر چھوڑ کر مت جانا۔

یہ تحریر آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 


جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے میرا مشورہ تھا کہ وہ ایکسٹینشن نہ لیں اور عزت سے گھر چلے جائیں مگر وہ نہ مانے، بہت نقصان ہوا اس ملک کا اور اہم ادارے کا۔

عمران خان کی حکومت کو سب سے پہلے میں نے نااہل بھی کہا اور آپ کو یہ بھی کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت ثابت ہوگی۔ کچھ ہی دن پہلے آپ کو اطلاع دی تھی اس ملک میں ففتھ جنریشن مارشل لا ہے۔ میاں صاحب نے یہی سب باتیں کچھ مختلف الفاظ میں دھرا دیں۔

جوش خطابت میں وہ کچھ زیادہ باتیں کر گئے مگر وہ زیادہ اہم نہیں۔ مجھے اب بھی یہ شکوہ ہے میاں صاحب دو سال تک غریبوں کی چیخیں سنتے رہے اور ایک لفظ بھی نہ کہا۔ چلو دیر آید۔۔۔

بیانات تک تو ہم میں اتفاق پیدا ہو چکا ہے، مگر صرف بیانات سے تو کام نہیں چلے گا کچھ عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ انگریزی میں کہتے ہیں ’واک دا ٹاک۔‘ جب تک یہ نہ ہو ہر چیز دیوانے کا خواب رہتی ہے اور یہ بھی ہماری روش رہی ہے۔ اب پی ڈی ایم کی پارٹیوں کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ثابت قدم ہیں۔ چنانچہ انہیں چند اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

پہلا تمام 11 پارٹیاں ایک عہد نامہ جاری کریں جس پر تمام پارٹی سربراہوں کے دستخط ہوں کہ وہ کسی آرمی کے اعلیٰ افسر سے خفیہ ملاقات نہیں کریں گے۔ کسی صورت بھی فوج کی سیاست میں براہ راست مداخلت قبول نہیں کریں گے اور کسی لوٹے کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیں گے۔ پارٹی کارکنوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا جو پارٹی نظریے سے اتفاق کرتا ہو، اس سے وفادار ہو اور اس پر عمل کر سکتا ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس داخل کریں جس میں انہیں اپنے آئینی فرائض سے روگردانی پر جوابدہی کے لیے طلب کیا جائے۔ انہوں نے اپنے عہدے کی اخلاقی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا جس سے ملک اور اس اہم ستون کو بہت نقصان پہنچا۔

تیسرا وہ آدمی جو استعفے کا مطالبہ لے کر آیا تھا اس کے خلاف منتخب حکومت کے خلاف سازش کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ سیاسی ڈیلروں کا راستہ ہمیشہ کے لیے روکنا ضروری ہے۔ خاص طور پر جب سابق ڈی جی آئی آیس آئی ظہیر الاسلام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کسی کو استعفے کے لیے نہیں بھیجا، قوم کو حقائق کا پتہ چلنا ضروری ہے۔

چوتھا قوم سے اس بات پر معافی مانگیں کہ ایکسٹینشن کی قانون سازی پر پارلیمانی اور سیاسی روایات سے روگردانی کی گئی اور اس بات کا وعدہ کریں کہ اس قانون کو پارلیمان کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ کسی بھی آرمی چیف کے لیے تین سال کا عرصہ کافی ہے۔ ادارے کی مضبوطی کسی شخصیت کی خواہشات سے زیادہ اہم ہے۔

فوج میں اچھے افسروں کی ایک بہت بڑی کھیپ موجود ہے اس لیے کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ادارے کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں اگر ان کی نشاندہی کی جائے تو اسے ادارے کے خلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک متحرک معاشرے میں یہ معمول کی باتیں ہیں۔

آخری بات یہ کہ فوج کی سیاست میں مداخلت ہی واحد خرابی نہیں۔ جمہوری نظام میں بھی خرابیاں ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔ گوجرانوالہ کے جلسے میں میثاق پاکستان کے بارے میں کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ میں ساری رات ہر تقریر میں انتظار کرتا رہا کہ اب کوئی اس پر بات کرے گا مگر ندارد۔

میں ان کے میثاق پاکستان کا منتظر ہوں تاکہ پتہ چلے ان کا اصلاحات کا کیا ایجنڈا ہے کیونکہ عوام کے مفاد کی یہی چیز ہے ان کے پاس۔ ہم نے بھی کچھ نکاتات تیار کیے ہیں اور اہم اپنے میثاق کا اعلان بھی کریں گے۔

پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادی پارٹیوں سے اس پر بات ہوگی۔ مجھے امید ہے میاں صاحب ہماری اس بات پر بلاآخر قائل ہو جائیں گے کہ موجودہ نظام ناکارہ اور بوسیدہ ہو چکا ہے اور اب ایک نئی جمہوریہ کی ضرورت ہے۔ فکر صرف یہ ہے دیر آید اور ’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘ والا معاملہ نہ ہو جائے۔

ابھی پہلا قدم ہے، منزل دور ہے اور سفر کٹھن ہے۔ دیر سے بہت نقصان ہوگا اس روش کو چھوڑنا ہوگا۔ تمام پارٹیوں کو اپنے نکات کے ساتھ قومی سیاسی مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ اس میں جتنی دیر ہوگی اتنا اس ملک کو نقصان ہوگا۔


نوٹ: مندرجہ بالا خیالات اور رائے لکھاری کی اپنی ہے، ادارے کا ان سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ