پی ڈی ایم جلسے کا مقام اور تاریخ کیوں بدل رہی ہے؟

عوامی نیشنل پارٹی دو کشتیوں میں سوار ہے، حزب اختلاف اور صوبائی حکومت میں شراکت ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی بلوچستان میں اچھا خاصا وجود رکھتی ہیں تاہم ان کے پاس وہ سٹریٹ پاور نہیں، جو جلسہ عام کو ذیادہ افراد مہیا کر سکے۔

پاکستان کی فوجی سٹیبلشمنٹ کو للکارتے ہوئے حال ہی میں وجود میں آئی حزب اختلاف کی 11 جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو اپنی سیاسی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے لیے موزوں مقام اور تاریخ کے انتخاب میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

ان مشکلات نے حزب اختلاف کے اس نوزائدہ اتحاد کی کئی اندرونی کہانیاں بیان کر دی ہیں۔ الائنس کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اتحاد کے فیصلے باقاعدہ مشورے سے نہیں ہو رہے، اسی لیے 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں جس احتجاجی جلسہ عام کا اعلان کیا گیا تھا اسے تبدیل کر کے کوئٹہ سے گوجرانوالہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس رہنما کے مطابق صاف معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے مجوزہ جلسے کے مقام اور تاریخ کا فیصلہ کرنے سے قبل الائنس میں شامل ایک قابل ذکر جماعت یعنی عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی مرکزی قیادت سے باقاعدہ پیشگی مشورہ نہیں کیا تھا۔ اسی جماعت کے پر زور مطالبے پر جلسہ عام کی ناصرف تاریخ تبدیل کی گئی بلکہ جلسے کے مقام یعنیٰ کوئٹہ کو بھی گجرانوالہ سے بدل دیا گیا۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ بار بار تاریخ کی تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ اتحاد کی بعض جماعتوں خصوصاً قوم پرستوں کا موقف ہے کہ سٹیبلشمنٹ کو اس جلسہ عام کے ذریعے اپنے احتجاج کا پیغام موثر انداز سے دینے کے لیے جلسہ پنجاب میں ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں اکثر و بیشتر سٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان بازی اور چھوٹے موٹے جلسے جلوس کرتے ہی رہتے ہیں۔

جلسہ کوئٹہ کی بجائے گوجرانوالہ میں منعقد کرنے کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جس سیاسی تقویت کی ضرورت ہے وہ انہیں پنجاب سے ملنی چاہیے۔ ان رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اگر اتحاد گوجرانوالہ میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ عام منعقد کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ سٹیبلشمنٹ کو حزب اختلاف کے مطالبات پر غور کرنے پر مجبور کرسکے گا تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم فی الحال تنظیمی معاملات احسن طریقے سے چلانے کے قابل نہیں۔

کوئٹہ میں جلسے کی تاریخ اور مقام میں دو بار تبدیلی اسی کی عکاسی کرتی ہے۔ کوئٹہ میں اے این پی کے ذرائع نے بتایا کہ پہلے پہل یہ جلسہ سات اپریل کو کوئٹہ میں ہی منعقد ہونا تھا۔ الائنس کی مرکزی قیادت نے بلوچستان میں اپنے کارکنوں اور رہنماﺅں کو جلسہ عام کی تیاریوں کی ہدایت بھی جاری کر دیں تھیں۔

تاہم ابھی تیاریاں شروع بھی ہونے نہ پائی تھیں کہ اے این پی نے اتحاد کی مرکزی قیادت کو مطلع کیا کہ چونکہ آٹھ اکتوبر کو قلعہ سیف اللہ میں اے این پی کا ایک جلسہ عام منعقد ہوگا، جس سے پارٹی کے تمام مرکزی قائدین خطاب کریں گے اور یہ کہ نو اکتوبر کو اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس بھی کوئٹہ میں ہی منعقد ہونا طے شدہ ہے لہٰذا ان حالات میں اے این پی احتجاجی جلسے کے لیے نہ تو تیاریوں میں حصہ لے سکے گی اور نہ ہی 11 اکتوبر کو اپنے پارٹی کارکنوں کو جلسہ عام میں پہنچا سکے گی لہٰذا اس تاریخ میں تبدیلی کی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چنانچہ مرکزی قیادت نے جلسے کے لیے 11 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی تھی مگر اتحاد کی صوبائی قیادت نے مرکزی قیادت کو تجویز کیا کہ الائنس کا پہلا اجلاس بلوچستان کی بجائے پنجاب میں منعقد کیا جائے تو ملک بھر میں احتجاج کی کیفیت بن سکتی ہے۔ الائنس کے بعض دانش وروں نے اپنی قیادت کو کہا کہ نواز شریف کے نعرہ ’ووٹ کو عزت دو‘ میں پنجاب کے لوگوں کو ذیادہ کشش معلوم ہوتی ہے۔

اس لیے اس نعرہ کے ذریعے سٹیبلشمنٹ کو صاف اور واضح پیغام دیا جاسکے گا کہ پنجاب ووٹ کے لیے عزت مانگتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ الائنس کی دو جماعتیں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے پاس بلوچستان میں بھر پور سٹریٹ پاور موجود ہے، جو کوئٹہ میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کرنے کی تمام تر صلاحیتوں کی حامل ہے۔

فضل الرحمٰن کا جلسہ مدرسوں کے طلبا اور اساتذہ کے لیے بھر پور کشش کا حامل ہوتا ہے۔ اسی طرح محمود خان اچکزئی کی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی بھی اندرون بلوچستان خصوصاً پختون علاقوں اور کوئٹہ سے بڑی تعداد میں اپنےکارکنوں کو جلسے میں لاسکتی ہے۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی بلوچستان میں اچھا خاصا وجود رکھتی ہیں تاہم ان کے پاس وہ سٹریٹ پاور نہیں، جو جلسہ عام کو ذیادہ افراد مہیا کر سکے، تاہم بعض سیاسی واقفان حال کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اے این پی نے صوبائی حکومت کے اشارے پر پی ڈی ایم کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

اے این پی، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) اور تحریک انصاف پر مشتمل مخلوط صوبائی حکومت میں شامل ہے۔ بلوچستان میں اے این پی کے چار اراکین صوبائی اسمبلی ہیں، جن میں وزیر اور مشیر بھی ہیں لہٰذا اے این پی کی صوبائی قیادت صوبائی حکومت ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اے این پی کی مرکزی قیادت دو کشتیوں میں سوار ہے۔ ایک طرف تو وہ حزب اختلاف کے اتحاد میں شامل ہے اور دوسری طرف وہ صوبائی حکومت میں شراکت دارہے۔ اب اس صورت حال میں کوئٹہ سے احتجاجی جلسہ گوجرانوالہ لے جانے کی وجہ کچھ کچھ واضح ہو رہی ہے ۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ