گوادر: ایران سے صرف 70 کلومیٹر دور سرحد کھولنے کا اعلان  

'سرحد کھولنے کے بعد 14 ٹرک پاکستان کی طرف روانہ کیے جائیں گے۔ دوسری جانب پاکستانی حکام نے روزانہ 20 ٹرکوں کو سرحد سے گزرنے کی اجازت دی ہے جو ہفتے میں تین دن صبح آٹھ بجے سے دن دو بجے تک جاسکیں گے۔'

پاکستان اور ایران کی سرحد پر واقع تفتان بارڈر گیٹ  (فائل تصویر: اے ایف پی)

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ پاکستان کے موقع پر ایرانی اور پاکستانی حکام نے گوادر سے متصل سرحد کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

گوادر سے متصل ایرانی سرحد کو رمدان کہا جاتا ہے، جو ایرانی سیستان بلوچستان کا حصہ ہے جبکہ اس سرحد سے چاہ بہار پورٹ 130 کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کو بتایا کہ ایران رمدان سرحدی پوائنٹ کو اگلے ہفتے کھول دے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی حکام بھی اس سے متصل سرحد کو کھول دیں گے۔  

رمدان سرحد سے پھلوں، لائیوسٹاک، تعمیراتی سامان اور پیٹرولیم کی مصنوعات کی تجارت ہوسکتی ہے۔ 

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ سرحد کو ایرانی حکومت کی طرف سے جدید دور کے کمیونیکشن سسٹم سے آراستہ کردیا گیا۔ جہاں سبزیوں، پھلوں اور لائیو سٹاک کے لیے امپورٹ کی مطلوبہ سہولیات میسر ہیں۔ 

سرحد کھولنے کے فیصلے کو گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق نائب صدر شمس الحق گوادر پورٹ سے تجارت کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔  

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رمدان سرحد اس وجہ سے اہمیت کی حامل ہے کہ گوادر سے اس کا فاصلہ صرف 70 کلومیٹر ہے، جس سے تجارتی سامان کی نقل و حمل آسانی سے ہوسکتی ہے۔   

ان کا کہنا تھا کہ اس سرحد سے تجارت تو جاری ہے اور ایران سے سیمنٹ اور دیگر اشیا آرہی ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں سے ٹرانزٹ ٹریڈ شروع کی جائے، جس سے نہ صرف ملک کو فائدہ ہوگا بلکہ روزگار کے مواقعوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ 

شمس الحق نے بتایا: 'رمدان سرحد سے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور یہاں سے گوادر پورٹ  قریب ہے، جس سے پورٹ کے سامان کو ایک ملک سے دوسرے ملک بھیج کر مارکیٹ تک رسائی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف گوادر سے کراچی قریب ہے اور تجارتی سامان کو وہاں منتقل کرکے مارکیٹ میں پہنچایا جاسکتا ہے۔' 

ایرانی سرحد رمدان سے قریب گوادر کے علاقے میں روزگار کے زیادہ مواقع نہیں ہیں اور مقامی لوگوں کا روزگار سرحد سے سامان لانے اور ماہی گیری سے وابستہ ہے جبکہ یہاں کے لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ 

گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق عہدیدار نے جہاں سرحد کھولنے کو اہم قرار دیا، وہیں ایرانی سرحد سے متصل سرحد کے اس پار سہولیات کی کمی جن میں بجلی اور پانی کی فراہمی شامل ہے، کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا، تاکہ یہاں سے گزرنے اور قیام کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

شمس الحق مزید کہتے ہیں کہ گوادر سے تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں، اگر جیونی سے سمندری راستہ بھی کھول دیا جائے تو تجارت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ تجارت کے لیے سمندری راستے سے بھی وافر مقدار میں سامان کی نقل و حرکت کی جاسکتی ہے، جس سے نہ صرف اس علاقے بلکہ ملک کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔ 

دوسری جانب حالیہ اعلان سے قبل ایرانی ویب سائٹ 'دی ایران پروجیکٹ' پر ایرانی کسٹم حکام کے حوالے سے جاری خبر میں کہا گیا تھا کہ جلد ہی رمدان سرحد کو کھول دیا جائے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی مہر کی رپورٹ کے مطابق: 'سرحد کھولنے کے بعد 14 ٹرک پاکستان کی طرف روانہ کیے جائیں گے۔ دوسری جانب پاکستانی حکام نے روزانہ 20 ٹرکوں کو سرحد سے گزرنے کی اجازت دی ہے جو ہفتے میں تین دن صبح آٹھ بجے سے دن دو بجے تک جاسکیں گے۔'

یاد رہے کہ پاکستان نے ایران اور افغانستان سے متصل اپنی سرحدیں کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے رواں برس 15 مارچ کو بند کردی تھیں۔ 

 گوادر بلوچستان کا ساحلی علاقہ ہے، جہاں چین کے تعاون سے سی پیک کے تحت میگا منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔  

 گوادر ایوان صنعت و تجارت بھی سرحدی دروازے کھولنے کے حق میں ہیں، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سرحدوں پر سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے تو اس سے پورا علاقہ مزید بہتر طریقے سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ 

گوادر ایوان صنعت و تجارت کے صدر نوید کلمتی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'یہ بہتر اقدام ہے اور ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ پنجگور، مند سے متصل ایرانی سرحدوں کو بھی کھولا جائے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوید کلمتی نے بتایا کہ ایران سے اب بھی بہت سامان جیسے تارکول، ٹائلز اور پھل وغیرہ آرہے ہیں اور رمدان سرحد کھلنے سے تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔ 

نوید کلمتی سمجھتے ہیں کہ چونکہ ایران قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور ہماری سرحدیں منسلک ہیں، لہذا ہمیں اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 

رمدان سرحد کی اہمیت کے حوالے سے نوید کلمتی نے بتایا کہ گوادر کے بعد یہ اہم تجارتی پوائنٹ ہے اور اس سے پورے مکران کو فائدہ ہوگا۔ 

نوید کلمتی سرحدی پوائنٹ کے کھلنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سرحدی علاقے میں سہولیات کی فراہمی کو بھی تجارت کے فروغ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ سرحدی پوائنٹ کھولنے کےساتھ ان علاقوں میں انفراسٹرکچر، گودام اور انڈسٹریل زون بنائے جائیں تو اس سے نہ صرف ملک کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہوگا۔ 

تاجروں کا کہنا ہے کہ رمدان کے علاقے میں تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر سڑک کچی ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ تجارت کے فروغ میں سڑکوں کا اہم کردار ہے۔ 

ادھر پاکستانی حکام اس سے قبل ضلع قلعہ سیف اللہ میں افغانستان سے متصل سرحدی دروازے بادینی کو بھی کھول چکے ہیں۔ 

گوادر ایوان صنعت و تجارت کے رہنما سمجھتے ہیں کہ اس سرحد کے کھلنے سے نہ صرف ایرانی سامان کی ترسیل ممکن ہوسکے گی بلکہ ترکی اور عراق سے بھی سامان کی تجارت باآسانی ہوسکتی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان