وادی نیلم آنے والے سیاحوں کے حکومت کو مشورے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں آنے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ یہاں صرف مقامی سیاح آتے ہیں لیکن ہوٹلنگ اور سڑکوں کو بہتر کرکے انٹرنیشنل سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے اور پاکستان سے ہزاروں سیاح ہر سال یہاں سیاحت کے لیے آتے ہیں۔

وادی نیلم میں رتی گلی، پتلیاں اور چٹا کٹھا جھیلیں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ یہاں کے سرسبز جنگلات، پہاڑ، آبشاریں، جھیلیں اور دریائے نیلم سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ سیر کے لیے آنے والے سیاح نیلم ویلی کو پاکستان کا سب سے خوبصورت ترین علاقہ بتاتے ہیں۔

لیکن ایک طرف جہاں سیاح وادی نیلم کی خوبصورتی کے گن گاتے ہیں وہیں یہاں سہولیات نہ ہونے کا شکوہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان سے سیر کے لیے رتی گلی آنے والی نینا کا کہنا ہے کہ 'میں نہیں سمجھتی کہ رتی گلی جھیل سے خوبصورت کوئی اور جگہ ہو سکتی ہے۔ نیلم ویلی بہت پر امن جگہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کشمیر میں غلط ہو رہا ہے لیکن جتنی پرامن جگہ یہ ہے اور جتنے یہاں کے لوگ مدد کرنے والے ہیں ان سے اچھے لوگ کہیں نہیں ہو سکتے۔'

لاہور سے نیلم ویلی آنے والے ذیشان کریم نے بتایا کہ یہاں پر پکنک سپاٹس بہت ذیادہ ہیں۔ 'ہم کیرن، رتی گلی، کیل اور اڑن کیل گئے۔ یہاں قدرتی خوبصورتی بہت زیادہ ہے، تاہم کچھ شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے، جیسے سڑک پر سیاحوں کے لیے گاڑی چلانا مشکل ہے اور بعض دفعہ حادثات بھی ہو جاتے ہیں، لہذا سڑکوں کر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔'

'یہاں خوبصورتی اتنی ذیادہ ہے کہ آپ سب بھول جاتے ہیں، لیکن بنیادی سہولیات تو ہونی چاہییں۔ نیلم ویلی سیاحت کے لے پوری دنیا میں مشہور ہے لیکن یہاں صرف مقامی سیاح آتے ہیں۔ ہوٹلنگ اور سڑکوں کو بہتر کرکے انٹرنیشنل سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذیشان نے مزید بتایا کہ 'میں ناران اور کالام وغیرہ بھی گیا ہوں، لیکن سب سے خوبصورت دریا یہاں پر ہے۔ میں نے رتی گلی جھیل اور دریائے نیلم جیسی خوبصورتی کہیں نہیں دیکھی۔ اگرچہ وہاں سہولیات یہاں سے بہتر ہیں لیکن خوبصورتی یہاں پر ذیادہ ہے۔'

ساتھ ہی انہوں نے مقامی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ 'یہاں کی سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ خوش آمدید کہنے والے ہیں۔ یہاں کے لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں، چوری کے واقعات بالکل نہیں ہوتے اور خوبصورتی تو بہت ذیادہ ہے۔'

لاہور کی ہی رہائشی حمیرا نے جہاں شاردہ کی خوبصورتی کی تعریف کی، وہیں منتخب نمائندوں کو مشورہ بھی دے ڈالا۔  ان کا کہنا تھا کہ 'شاردہ بہت خوبصورت جگہ ہے لیکن اگر یہاں کی سڑک بہتر کر دی جائے تو سیاحت ترقی کرسکتی ہے۔ یہاں سے منتخب ہونے والوں کو سڑک کی حالت بہتر کرنی چاہیے، کیونکہ سیاحت کو بہتر کرکے ہی ہم پاکستان کی بہتر تصویر دکھا سکتے ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان