سات سالہ لیہ کا قتل :'ننھا جسم ساری رات آگ میں جلتا رہا'

پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والی بچی لیہ بدھ کی سہ پہر تین بجے کے قریب لاپتہ ہوئی تھیں، جن کی سوختہ لاش جمعرات کو گاؤں کے قریبی قبرستان سے برآمد ہوئی جبکہ جلائے جانے سے قبل لاش پر گولیاں مارنے کے نشان بھی موجود تھے۔

(تصویر: پکسابے)

'پوری رات ہم بچی کو ڈھونڈتے رہے، گاڑی پر لاؤڈ سپیکر نصب کرکے محلے میں اعلانات بھی کیے گئے لیکن بچی کا کوئی پتہ نہیں چل سکا اور صبح سویرے قریبی قبرستان میں بچی کی جلی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔ سمجھ نہیں آرہا کہ ایک سات سالہ بچی کے ساتھ کوئی اتنا ظلم بھی کرسکتا ہے؟'

پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والے دلدار خان کی بھتیجی لیہ بدھ کی سہ پہر تین بجے کے قریب گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئی تھیں اور جمعرات کے روز ان کی جلی ہوئی لاش گاؤں کے قریبی قبرستان سے برآمد ہوئی۔

دلدار خان سمیت اہل علاقہ بچی کی لاش انڈس ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سے انصاف طلب کر رہے ہیں جب کہ ان کے والد اب بھی سکتے میں ہیں اور کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

دلدار خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'سات سالہ لیہ بدھ کو دس روپے لے کر گھر سے نکلی تاکہ اپنے لیے دکان سے کچھ خرید سکے لیکن بچی واپس گھر نہیں آئی تو گھر والوں نے تلاش شروع کی۔'

انہوں نے بتایا: 'جب بچی نہیں آئی تو گھر اور محلے والوں نے اس کی تلاش شروع کی اور شام تک اسے ڈھونڈتے رہے۔ شام کے وقت ہم نے انتظار کیا کہ وہ دیگر بچوں کے ساتھ شاید گھر واپس لوٹ آئے لیکن وہ نہیں آئی تو ہم نے پولیس کو اطلاع دی تاکہ وہ بچی کو ڈھونڈنے میں مدد کرسکیں، لیکن بچی نہیں ملی۔'

دلدار نے بتایا: 'صبح سویرے ہمیں اطلاع ملی کہ بچی کی لاش قریبی قبرستان سے ملی ہے جسے جلایا گیا ہے اور جسم پر گولیوں کے نشانات بھی ہیں، پوری رات اس کا ننھا جسم آگ میں جلتا رہا تھا۔'

دلدار کے مطابق وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور بچی کے بھائی مزدوری کرتے ہیں جبکہ ان کے والد ایک سرکاری ملازم ہیں جن سے کبھی محلے میں ایک مچھر کو بھی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ان کی بچی کے ساتھ اتنا ظلم کیا گیا کہ اسے پہلے گولیاں ماری گئیں اور بعد میں جلا دیا گیا۔

انہوں نے بتایا: 'ہماری نہ تو کسی سے دشمنی ہے اور نہ ہی کبھی کسی کو کچھ نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں حکومت اور پولیس سے انصاف چاہیے، ہم تب تک احتجاج کرتے رہیں گے جب تک بچی کے قاتل کو پولیس ہمارے سامنے پیش نہ کر دے۔ اتنے وحشی پن کا مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کا بہیمانہ جرم نہ کرسکے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بچی کے پڑوسی حضرت رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ایک متوسط گھرانہ ہے اور محلے میں ان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ محلے میں آج تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے کہ ان کے گھر والوں نے  کسی کی دل آزاری کی ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے سے اہل علاقہ کی آنکھیں نم اور دل گھبرائے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پولیس کو مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کرنا چاہیے۔

اس واقعے کے حوالے سے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے ترجمان محمد الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق قبرستان سے ایک بچی کی لاش برآمد ہوئی جن کی شناخت لیہ کے نام سے ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردیا ہے جبکہ سی سی پی او پشاور محمد علی گنڈا پور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم قائم کرکے واقعے میں ملوث عناصر کو جلد بے نقاب کرکے گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ بڈھ بیر کے علاقے میں ہی گذشتہ ہفتے پولیس کے مطابق ایک لاپتہ ہونے والے چار سالہ بچے کی لاش اس حالت میں برآمد کی گئی تھی کہ اس کے جسم سے گردے نکالے جا چکے تھے۔ پولیس نے اس کیس کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان