لندن: ماحولیاتی تبدیلیوں پر احتجاج، 750 کارکن گرفتار

مظاہرے میں شامل ایک کارکن لینڈون ایڈوارڈسن کا کہنا ہے کہ وہ اس پُل پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے چاہے حکام ان کے ہاتھوں اور بازوں کو کاٹ ڈالیں۔

2

تصویر: اے ایف پی

پولیس مرکزی لندن میں واقع واٹرلو برج اور آکسفورڈ سرکس پر چھ روز سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے حکومتوں کی سرد مہری کے خلاف سراپا احتجاج  کارکنوں کو ہٹانے کے لیے حرکت میں آئی ہے اور اب تک تقریباً 750 کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

گذشتہ پیر سے شروع ہونے والے اس احتجاج کے دوران اب تک 28 مظاہرین پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے تسلیم کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر جاری گرفتاریوں کے باعث جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے اور جرائم کے حوالے سے انصاف کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کمشنر کریسڈا ڈِک کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کو بھی اس احتجاج کے دوران غیرمعمولی صورتحال کا سامنا ہے۔

’ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم مضبوط ہیں اور پُرعزم بھی، تاہم پولیس میں اپنی 36 سالہ خدمات کے دوران میں نے کسی کارروائی کے دوران کبھی اتنے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا مشاہدہ نہیں کیا، صرف ایک آپریشنن میں سات سو سے زائد افراد کی گرفتاریاں غیر معمولی ہیں۔‘

تاہم کمشنر نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس کارروائی کو جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔

انہوں نے کہا کہ لندن پولیس نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے شہر کے باہر سے مزید دو سو اضافی اہلکاروں کی کمک کا مطالبہ کیا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کمشنر نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ یا تو وہ اپنا احتجاج ماربل آرچ کے علاقے میں منتقل کر لیں یا واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں بصورتِ دیگر دوسرے علاقوں میں احتجاج جاری رکھنے پر مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

دوسری جانب مظاہرین واٹرلو برج چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں جنہوں نے زنجیروں اورسائیکل کے ڈی لاکس کے ذریعے خود کو پُل سے باندھ لیا ہے۔

مظاہرے میں شامل ایک کارکن لینڈون ایڈوارڈسن کا کہنا ہے کہ وہ اس پُل پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے چاہے حکام ان کے ہاتھوں اور بازوں کو کاٹ ڈالیں۔

مظاہرے میں شامل ایک اور کارکن نے گلو کی مدد سے خود کو پُل پر موجود لاری سے چپکا لیا ہے۔

پولیس افسران مظاہرین کے ایک گروپ کو پُل سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف تھے جبکہ دیگر کارکن احتجاجی نغمے گانے میں مصروف تھے۔

ملٹن کینیز کے علاقے سے تعلق رکھنے والے میکس ویڈربرن نے پل پر بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہتر مستقبل کے لیے احتجاج جاری رکھیں گے۔

13 سالہ میکس نے کہا کہ: ’ہم بڑے ہو رہے ہیں اور مضبوط بھی، ہم اپنی قوت جمع کر رہے ہیں تاکہ ہم مل کر بھیانک مستقبل کو تبدیل کر سکیں۔‘

نوجوان رہنما نے کہا: ’ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف لڑنے کے لیے میری حوصلہ افزائی میری ماں نے کی ہے۔ میری زندگی کا خواب ایک زولوجسٹ بننا ہے لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت تک جب میں اس شعبے میں مہارت حاصل کروں گا، دنیا کے آدھے جانور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہلاک ہو چکے ہوں گے، ہمیں اپنے سیارے کو بچانا ہی ہو گا۔‘

آکسفورڈ سرکس کے علاقے میں تقریباً 30 مظاہرین جنکشن کے درمیان ڈیرہ ڈالے بیٹھیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ پولیس کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ یہ علاقہ خالی نہیں کریں گے۔

20 کے قریب مظاہرین جن میں سے اکثریت کی عمر 17 سال سے کم ہے، کو ہیتھرو ائیرپورٹ کے نزدیک سڑک پر دھرنا دینے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔

برطانیہ کے وزیرداخلہ ساجد جاوید نے امنِ عامہ کی خاطر پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کے ساتھ قانون کی پوری طاقت سے نمٹنے کی ہدایات دی ہیں۔

وزیرداخلہ کے بیان کے ردعمل میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ: ’ہم ان لوگوں کو یاد دلانا چاہیں گے جنہوں نے ’قانون کی مکمل طاقت‘ کا حکم دیا ہے کہ یہ احتجاج پُرامن ہے اور ہم عدم تشدد کے قائل ہیں۔ کرہ ارض کو آب و ہوا اور ماحولیات کے حوالے سے ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے اور تاریخ کے اس اہم موڑ پر قدموں کوغلط جانب بڑھنے سے روکنا ہو گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ