کیا این سی او سی کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا قانونی اختیار ہے؟

این سی او سی کی جانب سے صوبوں کے تعلیمی ادارے بند کرنے کے اعلان کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کہیں یہ اعلان 18ویں ترمیم سے متصادم تو نہیں؟

این سی او سی نے 26 نومبر سے 10 جنوری تک ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے(اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتیں نینشل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت یا کسی کمیٹی کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ صوبے کے تعلیمی نظام کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے کیوں کہ تعلیم کا شعبہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملہ ہے اور صوبے ہی اس حوالے سے فیصلے کریں گے۔

یہاں سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کرونا وبا کے حوالے سے این سی او سی کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ نیز کیا یہ فیصلے 18ویں ترمیم سے متصادم تو نہیں؟

این سی او سی کیا ہے ؟

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) اپریل 2020 میں کرونا وبا کے حوالے سے صوبوں کی مشاورت سے اہم فیصلے کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ درحقیقت یہ ایک کوآرڈینیشن کمیٹی ہے، جس میں گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کی نمائندگی ہے اور اسے کرونا وبا کے لیے بنی وفاقی نیشنل کور کمیٹی   کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

این سی او سی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نیشنل کور کمیٹی برائے کرونا (جس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان  کرتے ہیں اور اس کمیٹی میں فوجی نمائندوں کے علاوہ تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہیں) کے فیصلوں کو ملک میں نافذ کر سکے۔ این سی او سی کے باقاعدہ اجلاسوں میں وبا کے حوالے سے اہم فیصلے ہوتے ہیں۔

این سی او سی روزانہ ملک میں کرونا وبا نے صورتحال، اس کے کیسز کے اعداد و شمار اور اموات کی شرح سمیت مختلف اعداو شمار بھی شیئر کیے جاتے ہیں اور ان اعداوشمار کو مستند سمجھا  جاتا ہے۔ این سی او سی نے 23 نومبر کو ایک اجلاس کے بعد فیصلہ کیا کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے 26 نومبر سے 10 جنوری تک کرونا وبا کے خطرے کے پیش نظر بند ہوں گے۔

این سی او سی نے یہ بھی بتایا کہ سرکاری و نجی تمام ادارے اس بندش میں شامل ہوں گے جب کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز ہوں گی۔

اپوزیشن کا اعتراض

اس فیصلے پر جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے شدید ردعمل دکھاتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت یا وفاقی وزیر صوبائی تعلیم کے حوالے سے کسی قسم کے فیصلے کا اختیار نہیں رکھتے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی بندش کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ بن چکا ہے اور یہ فیصلہ صوبوں کو کرنا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تو آن لائن تعلیم کیسے مہیا کی جائے گی؟‘

اسی طرح جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و سینیٹر مشتاق احمد نے تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے کہا کہ حکومت کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ شفٹس میں سکولز کو کھلا رکھنا چاہیے۔ ’وفاقی حکومت کرونا کی آڑ میں 18ویں ترمیم کو بلڈوز کر رہی ہے، بندش سے نجی تعلیمی ادارے تباہ ہو جائیں گے۔‘

کیا این سی او سی کو اختیار حاصل ہے؟

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے، جو 23 نومبر کے این سی او سی اجلاس میں اپنے صوبے کی نمائندگی کر رہے تھے، انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اپوزیشن جماعتیں ایک طرف جلسوں کی وجہ سے کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں تو دوسری طرف ایک سنجیدہ مسئلے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ این سی او سی صوبائی کوآرڈینیشن کی کمیٹی ہے جو ملک میں صحت کے حوالے سے ایک ایمرجنسی صورتحال میں بنائی گئی، اس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے اور تمام صوبوں سے کرونا کے حوالے سے فیصلوں پر موقف بھی لیا جاتا ہے، اس مشاورت کے بعد ہی این سی او سی تمام فیصلے کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا ’این سی او سی ایک تجویز دیتی ہے اور صوبوں سے اس پر رائے لی جاتی ہے۔ صوبے کسی بھی طور این سی او سی کے فیصلے ماننے کے پابند نہیں ہوتے اور این سی او سی میں فیصلے صوبوں کی مشاورت سے ہی کیے جاتے ہیں۔ صوبے بعد میں اپنے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے این سی او سی کے فیصلوں کو سامنے رکھ کر خود فیصلے کرتے ہیں۔‘

قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں ؟

لاہور ہائی کورٹ کے وکیل اور آئینی  معاملات پر نظر رکھنے والے مدثر حسن نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا موقف اس حد تک بالکل درست ہے کہ تعلیم  18ویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملہ ہے اور وفاق کو اس حوالے سے فیصلوں کا اختیار حاصل نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسن نے این سی او سی کی قانونی حیثیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کسی قانون کے تحت نہیں بنا بلکہ یہ صرف ایک کمیٹی ہے اور صوبے اس کے فیصلے ماننے کے پابند نہیں۔ ’اس قسم کے معاملات جن کا تمام صوبوں سے تعلق ہو، ان پر بات کرنے کے لیے آئین میں مشترکہ مفادات کونسل نامی ایک فورم موجود ہے جس کے فیصلوں کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک آئینی  فورم ہے۔‘

حسن سے جب پوچھا گیا کہ  این سی او سی نے جو فیصلے کیے جیسا کہ میٹرک کے طلبہ کو اگلی کلاسز میں بغیر امتحانات کے پروموشن دینا، کیا ان سے مستقبل میں قانونی پیچیدگیاں سامنے آسکتی ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ عین ممکن ہے کیوں کہ مستقبل میں اگر کسی جگہ پر طلبہ کا مقابلہ سخت ہوا تو میرٹ پر طلبہ ایک دوسرے کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں کہ ان کی پروموشن بغیر امتحان کے غیر قانونی  طور پر کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان