جج ارشد ملک اور ’سازش‘ کی تھیوری

میری معلومات اور تجزیئے کے مطابق یہ اموات کرونا کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ لیکن میری رائے دیکھتی آںکھوں، سنتے کانوں، سوچتے ذہنوں اور چلتی زبانوں کو خاموش نہیں کر پائے گی۔

پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسہ عام کا ایک منظر (اے ایف پی)

جج ارشد ملک کی کرونا سے موت کے بعد سوشل میڈیا پر مبینہ سازشوں کے حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ چہ مگوئیوں کی کالی آندھی ہر طرف مٹی اڑانے لگی ہے۔ ہر کوئی واضح، بین السطور و اشارتاً یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ یہ وائرس حالیہ تاریخ کے اہم گواہان کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے؟

پہلے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کی وفات، پھر خادم حسین رضوی کی دنیا سے رخصتی اور اب ارشد ملک کی رحلت۔ یہ افواہیں صرف ان طبقات تک محدود نہیں ہے جو روزگار کے جانے کے بعد گھروں میں بیٹھ کر موبائل فونز سے کھیلتے ہوئے وقت گزارتے ہیں۔ پڑھے لکھے تجربہ کار اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے بھی ان زاویوں سے سابق جج کی موت کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس ردعمل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تینوں شخصیات جو کرونا کے باعث دنیا سے رخصت ہوئیں میڈیا میں خبروں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ تینوں کا تعلق موجودہ صورت حال کے عدالتی، سیاسی اور اندر خانے بُنے جانے والے تانوں بانوں سے تھا۔ تینوں کے ساتھ کسی نہ کسی وجہ سے طاقتور حلقوں کا تعلق بنتا تھا۔

جج ارشد ملک نواز شریف کو سزا دینے کے متنازع احتسابی عمل کا کلیدی کردار تھے۔ اس کے بعد ان کی مبینہ ویڈیوز، ن لیگ اراکین بشمول نواز شریف سے ملاقاتیں اور راز و نیاز کی باتیں فلم بند ہونے کے بعد موجودہ سیاسی نظام کی غیر رسمی کتاب کا وہ باب ہے جس کا مطالعہ کرنے سے ہی سمجھ آتی ہے کہ پاکستان میں بڑے بڑے فیصلے کیسے ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں ارشد ملک احساس جرم سے متاثر ہو کر ندامت و بیچارگی کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اپنے مخصوص انداز میں وہ راز بھی طشت ازبام کرتے ہیں جو سب کو معلوم  تو ہے مگر پھر بھی پردے میں ہے۔ ارشد ملک کا دنیا سے چلے جانا ایک اہم شہادت کے خاتمے کے برابر ہے۔

خادم حسین رضوی کے پہلے سے آخری دھرنے تک بہت سے اقدامات موجودہ نظام کو بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ 2018 میں ان کی جماعت نے پنجاب کے اہم حلقوں سے مخصوص مذہبی ووٹ کو ن لیگ سے جدا کر کے آزاد اور نیم آزاد امیدواروں کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ختم نبوت جیسے سنجیدہ اور حساس معاملے کو ایک ایسی قومی بحث میں تبدیل کیا گیا جس کے زیر اثر بڑے بڑے جی داروں کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ چند ایک نے تو یہ سرزمین ہی چھوڑ دی۔ بعض سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر گئے۔ بعض کے سر پر ابھی بھی فتووں کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ خادم رضوی کی اٹھان، ان کا ہیجان اور اچانک اختتام موجودہ سیاسی نقشے میں سے ایک اہم ٹکڑا غائب کرنے کا موجب بنا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے جج جنرل پرویز مشرف کو پھانسی دینے کے فیصلے کے بعد ہر کسی کی نظر میں آ گئے تھے۔ اسلام آباد میں بیٹھے جج صاحبان سے عدالتی اور ذاتی معاملات پر سینگ پھنسانے کے بعد وہ اور بھی اہمیت اختیار کر گئے تھے۔ ان کے ذاتی نظریات، درویشانہ انداز زندگی اور خاموش انقلابیت سے بھرا ہوا فلسفہ حیات ان کو اپنے ہم عصروں سے جدا کرتا تھا۔ ان تینوں اموات کی حالیہ سیاسی تنازعات سے پیوستگی اس حیرانی اور تعجب کا باعث بن رہی ہے جس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ یہ سب افسوسناک مگر اتفاقی حادثات ہیں۔ وہ بار بار سوال اٹھا کر اس تجزیے کو زندہ کرتے ہیں کہ بادی النظر میں اسباب اموات جو بھی ہوں پس پردہ محرکات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

بہرحال اگر ان اموات کو سیاسی پیرائے سے ہٹا کر دیکھیں تو ان میں وائرس کی بے رحمانہ قوت کے سامنے بے بسی کے علاوہ کوئی اور خاص پہلو نظر نہیں آتا۔ دنیا میں لاکھوں افراد کرونا (کورونا) کے ہاتھوں جان سے جا چکے ہیں۔ اس میں ریاستوں کے حکمران، لکھاری، نامی گرامی فنکار، موسیقار، ڈاکٹر، نرسیں، امیر، بزنس مین اور عام لوگ سب شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تصور کرنا کہ اس فہرست میں سیاسی طور پر متنازع لوگ شامل نہیں ہوں گے، عقل مندی نہیں ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ کرونا عمر کے خاص حصے میں پہنچنے والے مریضوں پر بالخصوص کاری وار کرتا ہے۔ اگر مختلف قسم کی اور بیماریاں بھی موجود ہوں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ چونکہ یہ وائرس اس حد تک موذی ہونے کے باوجود کسی طبی معائنے اور علاج کے مکمل طور پر تابع نہیں ہے لہٰذا اس کے متاثرہ افراد کی صحت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کسی کو کسی وقت کسی بھی طریقے سے زیر کر سکتا ہے۔

ہم نے قومی بحث کو ایسے رویوں سے استوار کر دیا ہے کہ جس میں سازش ایک دائمی عنصر کے طور پر ظاہر ہو گئی ہے۔ اس سے کہیں اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ نظام کے کئی حصے حقیقت میں بند کمرے میں کی جانے والی منصوبہ بندی سے ہی بنے ہیں۔ پاناما کیس کی تحقیقات سے لے کر اب تک جس انداز سے احتسابی نظام کو بذریعہ ہدایت چلایا گیا ہے وہ حالیہ سیاسی بیانات کی روشنی میں ایک خوف ناک حقیقت کے طور پر ثابت ہو چکا ہے۔

اگر اس ملک میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پُتلی تماشے نہ چلائے جاتے اور عدالتی و دینی معاونت کو دباؤ اور گھیراؤ کے ذریعے حاصل کر کے نت نئے تجربات نہ ہوتے تو کرونا سے ہونے والی اموات پر طبی بحث کے علاوہ کسی اور پہلو کی تلاش نہ ہو رہی ہوتی۔ ہمارے ملک میں سازش کی تھیوری صرف اس وجہ سے مقبول نہیں ہے کہ قوم کا ذہن ایسی وضاحتوں پر یقین رکھنے کی طرف زیادہ مائل ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ملکی اور ریاستی نظام کو سازشوں کے ذریعے چلانے کے کئی دردناک تجربات کیے ہیں جن کا دور ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔

ہم نے قوم کو ایسے حالات سے گزارا ہے کہ جس میں انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پس پردہ ہاتھوں کی جنبش کے ذریعے بھونچال بنتے ہوئے دیکھے ہیں۔ عوام کے سامنے بڑے بڑے دعوے حقائق کے ہاتھوں پٹتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ سندھ میں آئی جی کے اغوا کا معاملہ ہو یا اہم عہدوں پر متعین رہنے کی کاوشیں نظر آنے والے کواکب بعد میں کچھ اور ثابت ہوئے ہیں۔ ان حالات میں یہ سمجھنا کہ ان اموات کے گرد سازش کی چہ میگویاں نہیں گونجیں گی، حقیقت پسندانہ رویہ نہیں ہے۔

میری معلومات اور تجزیے کے مطابق یہ اموات کرونا کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ لیکن میری رائے دیکھتی آںکھوں، سنتے کانوں، سوچتے ذہنوں اور چلتی زبانوں کو خاموش نہیں کر پائے گی۔ اس قوم نے بہت سی سازشیں بھگتی ہیں۔ وہ ایک اور کے بارے میں نہ سوچے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ