تحریک لبیک پاکستان کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کون تھے؟

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے قریبی رشتے دار ملک زاہد علی کے مطابق وہ بچپن سے ہی خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے والی شخصیت تھے۔

علامہ خادم حسین رضوی  دو نومبر2018 کو لاہور میں ایک مظاہرے کے دوران اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے(تصویر: اے ایف پی)

مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر مولانا خادم حسین رضوی جمعرات کی رات انتقال کر گئے ہیں۔

خادم حسین رضوی کے قریبی رشتہ دار زاہد علی کے مطابق انہیں کئی دنوں سے بخار تھا اور وہ طبیعت خراب ہونے کے باوجود اسلام آباد گئے تھے، لیکن جمعرات کو اچانک طبیعت مزید خراب ہونے پر انہیں شیخ زید ہسپتال لایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے ٹی ایل پی نے راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں ایک بار پھر دھرنا دیا، جو فرانسیسی سفیر کو پاکستان بدر کرنے پر آمادگی سمیت دیگر مطالبات تسلیم ہونے پر ختم ہوا۔

ان مذاکرات میں علامہ خادم حسین رضوی خود بھی شریک ہوئے تھے۔

ان کی وفات سے نہ صرف ٹی ایل پی کارکنوں بلکہ ان کے چاہنے والوں کو بھی دلی صدمہ پہنچا ہے۔

تحریک لبیک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ہفتے کی صبح 11 بجے مینار پاکستان لاہور میں ادا کی جائے گی۔

خادم حسین رضوی کون تھے؟

خادم رضوی پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ میں موضع نکہ کلاں کے ایک زمیندار اعوان گھرانے میں پیدا ہوئے۔

22 جون 1966 کو پیدا ہونے والے خادم حسین رضوی نے پرائمری تک ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور اس کے بعد 80 کی دہائی میں لاہور منتقل ہوگئے۔

علامہ خادم رضوی کے قریبی رشتہ دار ملک زاہد علی اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خادم رضوی کے والد کا نام لعل خان اعوان تھا، جن کے دو بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں۔ وہ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور منتقل ہوگئے تھے، تاہم مصروفیات کے باوجود گاؤں کا چکر لگاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ خادم رضوی بچپن سے ہی خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے والی شخصیت تھے جبکہ زمیندار گھرانے سے تعلق کے باوجود بھی غریبوں کی مدد کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 2007 میں اپنی والدہ کے چہلم میں شرکت کے بعد واپسی پر خادم رضوی کی گاڑی تلہ گنگ میں حادثے کا شکار ہوئی اور ان کا نچلا دھڑ متاثر ہوا، جس کے بعد سے وہ وہیل چیئر کے ذریعے نقل وحرکت کرتے تھے۔

وہ کئی سال تک محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب رہے، جہان انہیں منفرد انداز بیان کی وجہ سے شہرت ملنا شروع ہوئی۔

انہوں نے مذہبی تعلیم وتدریس جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور سے حاصل کی اور عالم کی ڈگری درس نظامی کی تکمیل کی۔

خادم رضوی نے کئی سال تک تحریک ختم نبوت کے لیے کام کیا اور یکم اگست 2015 کو  تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد رکھی۔

انہیں اور ان کی جماعت کو شہرت سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل میں ملوث ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف شدید مزاحمت پر ملی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے 2017 میں اراکین اسمبلی کے حلف ناموں میں تبدیلی پر نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج اور فیض آباد میں دھرنا دیا گیا، جو کئی روز تک جاری رہا۔ راولپنڈی کے ساتھ ساتھ لاہور میں بھی دھرنا دیا گیا تھا اور تمام شاہراہیں بند کر دی گئی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ پورا ہونے پر دھرنا ختم ہوا تھا جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اس دھرنےکے خلاف فیصلہ دیا تھا۔

تحریک لبیک پاکستان کے امیدواروں نے عام انتخابات 2018 میں بھی حصہ لیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان