بھارت:پراسرار بیماری سے 315 افراد متاثر، ایک شخص ہلاک

مریضوں میں متلی، دورے پڑنا، کپکپاہٹ اور بے ہوشی کی علامات، حکام تاحال بیماری کی وجہ جاننے سے قاصر۔

حکام کے مطابق الورو  کے جنرل  ہسپتال میں داخل تقریباً 170 مریض ڈسچارج ہو چکے ہیں(فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں حکام نے بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک نامعلوم بیماری پھوٹنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ کم از کم 315 لوگ بیمار ہوگئے ہیں۔

آندھرا پردیش کے علاقے الورو کے ایک ہسپتال میں اس پراسرار بیماری کی وجہ سے کئی لوگ داخل کیے گئے ہیں جبکہ حکام کو تاحال اس بیماری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ حکام کے مطابق اب تک تقریباً 170 مریض ڈسچارج ہو چکے ہیں، لیکن ہسپتال میں خواتین، بچے اور بوڑھے بدستور داخل ہیں۔ مریضوں میں کئی علامات مثلاً متلی، دورے پڑنا، کپکپاہٹ اور بے ہوشی دیکھی جا رہی ہیں۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے 24 گھنٹے چلنے والا ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے اور وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی نے متاثرہ علاقے میں ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے مزید طبی وسائل فراہم کرنے کاعہد کیا ہے۔

ریاست کے ڈپٹی وزیر صحت نے کہا ہے کہ ٹیسٹس میں ہر جگہ پھیلی ہوئی آبی آلودگی، بیماری کی وجہ کے طور پر سامنے نہیں آئی، جس کے بعد بیماری کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والا 45 سالہ شخص اتوار کی صبح متلی اور دورے پڑنے کی علامات کے ساتھ الورو کے گورنمنٹ جنرل ہسپتال میں داخل ہوا تھا جس کے بعد شام میں اس کی موت ہو گئی۔

ریاست کے وزیر صحت آلا کالی کرشنا سری نواس نے کووڈ 19 کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ تمام مریضوں کے کرونا (کورونا) ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اخبار انڈین ایکسپریس نے الورو کے ہسپتال میں ایک میڈیکل افسر کے حوالے سے کہا: ’بیمار پڑنے والے لوگ بالخصوص بچے آنکھوں میں جلن کی شکایت کے فوراً بعد الٹی کرنے لگے، کچھ بے ہوش ہوئے تو کچھ کو جھٹکے پڑے۔‘

متاثرہ افراد کے خون کے ٹیسٹ، دماغ کا سکین اور سریبرل سپائنل فلوئیڈ کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، تاہم نتائج سے کوئی مرض سامنے نہیں آیا۔ ایک ضلعی افسر نے کہا کہ ای کولی مرض کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے، یہ مرض بیمار جانور سے رابطے پر انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ حکام نے دودھ اور کھانے کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ مریضوں کی شناخت کے لیے گھر گھر سروے بھی شروع کر دیا ہے۔

یہ نامعلوم بیماری ایک ایسے وقت میں پھیلی ہے جب آندھرا پردیش میں کرونا وبا کا زور ہے اور اب تک یہاں ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد کرونا کیس رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے ہزاروں ابھی ٹھیک نہیں ہوئے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا