آن لائن شاپنگ کے دوران فراڈ سے بچنے کے سات طریقے

پاکستان میں آن لائن خریداری کا رجحان فروغ پا چکا ہے۔ ایسے میں صارفین دھوکہ دہی کی مرتکب ویب سائٹس اور شاپنگ کے برے تجربے سے کیسے بچیں؟

پاکستان کے شہری آن لائن شاپنگ کے دوران فراڈ یا برے تجربے پر کنزیومر کورٹس سے رابطہ کر سکتے ہیں (تصویر: پکسا بے)

پاکستان میں آن لائن خریداری کا رجحان فروغ پا چکا ہے، بالخصوص کرونا (کورونا) وائرس وبا کی پہلی لہر کے دوران ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے آن لائن شاپنگ کا سہارا لیا۔

پاکستان میں آن لائن شاپنگ کے صارفین کی بڑھتی تعداد کو دیکھ کر کئی ویب سائٹس سامنے آ رہی ہیں لیکن ان میں سے کچھ خریداروں کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہیں تو کچھ انہیں بے وقوف بنانے سے بھی باز نہیں آتیں۔

کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک صارف نے ایک معروف کوریئر کمپنی پر الزام عائد کیا کہ کمپنی نے انہیں اصل آرڈر کی جگہ پرانے استعمال شدہ کپڑے ارسال کر دیے۔ یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو کئی صارفین سامنے آئے جن کا آن لائن شاپنگ کا تجربہ اچھا نہیں رہا تھا یا وہ فراڈ کا شکار ہوئے۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی اس مہم کے بعد متعلقہ کمپنی نے ایک بیان میں واضح کیا کہ دراصل ان کی ویب سائٹ پر آرڈر کا معاملہ خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان ہوتا ہے اور کوریئر کمپنی اس کی ذمہ دار نہیں۔ لہذا اس طرح کے ناخوش گوار واقعے اور آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے صارفین ان سات سنہرے اصولوں کو ضرور مدنظر رکھیں۔

متعلقہ ویب سائٹ کے بارے جانیے

ماہرین آن لائن جعل سازی سے بچنے کے لیے تجویز کرتے ہیں کہ آرڈر دینے سے پہلے متعلقہ ویب سائٹ یا برانڈ کے بارے میں اچھی طرح سے جانیں۔ اگر آن لائن سٹور معروف ہے تو فراڈ کے خدشات کم ہو جائیں گے۔تاہم اگر ویب سائٹ غیر معروف یا نو وارد ہے تو چھان بین کے بعد آرڈر دینے کا فیصلہ کریں۔

مشہور کمپنی کا ہم نام ہونا

ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ جس ویب سائٹ پر آپ آرڈر دینے جا رہے ہیں کہیں وہ کسی بڑی برانڈ کا غلط نام تو استعمال نہیں کر رہی یا اس کا نام کسی بڑی برانڈ سے ملتا جلتا تو نہیں۔ انٹرنیٹ پر معلومات حاصل کرکے اصل اور نقل کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

رابطہ نمبر یا ایڈریس

آن لائن سٹورز عموماً اپنے تعارف کے ساتھ ساتھ اپنا رابطہ نمبر اور ای میل ایڈریس بھی دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی ریٹرن پالیسی، رازداری کی پالیسی اور شپنگ کی معلومات بھی تفصیل سے درج ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس جعل ساز واضح پالیسی یا اپنا رابطہ نمبر فراہم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ ویب سائٹ پر ایسی معلومات دھیان سے پڑھیں اور دیے گئے نمبرز پر کال کر کے آن لائن سٹور کے متعلق اپنی تسلی کریں۔

ریویوز پڑھیے

کسی بھی آن لائن سٹور سے خریداری کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ متعلقہ سٹور کی ساکھ کے بارے میں دوسرے خریداروں کے تبصرے اور رائے پڑھی جائے۔ یہ تبصرے (ریویوز) عموماً ان لوگوں کے ہوتے ہیں جن کا متعلقہ کمپنی کے ساتھ اچھا یا برا تجربہ رہا ہو۔

ویب سائٹ پر ریویوز نہ ہونا کسی کمپنی کے ناقابل اعتبار ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر کسی غیر معروف کمپنی کے حوالے سے صرف مثبت تبصرے ہی دستیاب ہوں تو ہوشیار ہو جائیں۔

ذاتی معلومات دینے سے انکار کریں

آن لائن خریداری کے دوران صرف آپ کا فون نمبر اور گھر کا پتہ ہی درکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی کمپنی آپ سے آپ کے بینک اکاؤنٹ یا دیگر ذاتی معلومات کا مطالبہ کرے تو آپ کا شک کرنا بجا ہے۔

صرف ٹیگ شدہ تصاویر پر اعتماد کریں

اکثر آن لائن خریداری کے دوران یہ احتمال رہتا ہے کہ جو تصویر ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ہے وہ دوسری ویب سائٹ سے چوری شدہ نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر صارفین کو وہ چیز نہیں ملتی جس کا انہوں نے آرڈر دیا ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے متعلقہ سٹور سے ٹیگ شدہ تصاویر کا مطالبہ کریں۔

ناقابل یقین سستی ڈیلز

 اگر کسی ویب سائٹ پر ناقابل یقین حد تک قیمتوں میں کمی دیکھیں تو ہوشیار رہیں کیونکہ مارکیٹ سے انتہائی کم قیمت پر اشیا فروخت کرنے کا دعویٰ فراڈ بھی ہو سکتا ہے۔ اشیا کی حقیقی قیمت اور ڈسکاؤنٹس سے فائدہ اٹھانے کے لیے حریف ویب سائٹس کا بھی مشاہدہ کریں۔

آن لائن خریداری کی شکایات کہاں ریکارڈ کرائیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں آن لائن خریداری سے جڑے تنازعات اور شکایات حل کرنے کے لیے مختلف اضلاع میں کنزیومر کورٹس موجود ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کنزیومر کورٹس صارفین کی شکایات حل کرنے اور فوری انصاف دلوانے کے لیے قائم کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان عدالتوں کی ایک خوبی یہ تھی کہ یہاں آپ بغیر کسی وکیل کے اپنا مقدمہ خود لڑ سکتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب ان عدالتوں میں بھی صارفین اپنا مقدمہ وکیل کے بغیر حل نہیں کرسکتے، لہٰذا وکیل کی فیس کے علاوہ انہیں طویل عرصہ انتظار بھی کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر صارفین ان عدالتوں کا رخ نہیں کرتے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر حکومت پاکستان کنزیومر کورٹس کی ذمہ داری محتسب اعلیٰ کے دفاتر کو سونپ دے تو اس سے شکایات کے جلد ازالے کا امکان روشن ہو جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان