کتاب دوست نسل ہی بلوچستان کی نمائندگی کرسکتی ہے

اونٹ پہ ہم کتابیں لادھ کر دیہاتوں کے بچوں  تک کتابیں پہنچاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارا ملکی سیاسی تاریخ کا کنٹینر کا بہت ایک کلیدی کردار رہا ہے مگر گودار میں اسی کنٹینر کے اندر ایک لائبریری  بھی قائم کر دی گئی ہے۔

(اے ایف پی)

ہمیں بلوچستان میں کتاب کلچرکو فروغ دینے والے رضاکار نوجونوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، کیونکہ اگر ہم بلوچستان کو ایک کتاب دوست نسل دینے میں  کامیاب ہوگئے  تو سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے حصے کا قرض ادا کیا۔

اگر آج ہم خود سے یہ  عہد کریں کہ  ہم نے ایک قلم و کتاب دوست  نسل کو تیار کرنا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ اپنے قوم  کے نوجوانوں کو مستقبل کے ہر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرسکتے ہیں، کیونکہ یہ عہد ہے علم و شعور کا۔ آج کے دور میں خود کو منوانے کے لیے انسان کو علمی و سائنسی بنیادوں پر خود کو تیار کرنا ہوگا۔

ہمارے اس عہد کے نوجوان اتنے باصلاحیت اور پرامید نظر آرہے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں کندھوں سے  اپنے بے سہارا لوگوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی رہنمائی کی جائے۔  اس وقت ہمارا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم ایک متحد نوجوان قیادت دینے میں آج کے وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔  میں یہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نوجوان اتنے باصلاحیت ہیں کہ وہ قومی سیاسی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں سے مستقبل میں بلوچستان کی بہتر نمائندگی کرسکتے ہیں۔

یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ مفت تعلیم دینا، شعور دینا، لائبریریاں قائم کرنا مگر یہی کام ہمارے رضاکار نوجوان حُسن طریقے سے کر رہے ہیں، چا ہے وہ بلوچستان کے دورافتادہ علاقہ مند کے (کیمل لائبریری) ہو یا کنٹینر لائبریری گوادار کے علم دوست ساتھی ہوں یا  بلوچستان کے  مختلف علاقوں میں بک میلہ کا انعقاد کرنے والے ہوں۔

ہم اونٹ کو محنت مزدوری کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر دوسری جانب اسی اونٹ پہ ہم کتابیں لادھ کر دیہاتوں کے بچوں  تک کتابیں پہنچاتے ہیں۔  بالکل اسی طرح ہمارا ملکی سیاسی تاریخ کا کنٹینر کا بہت ایک کلیدی کردار رہا ہے مگر گودار میں اسی کنٹینر کے اندر ایک لائبریری  بھی قائم کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے نوجواانوں کی دوراندیشی کی روشن پہلو یہ ہے کہ ہم ان رویوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جس سے معاشرے پہ ان کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نوجوان کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر  ان کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے کہ ہر اتار چڑاؤ پہ ان کی رہنمائی کرے، مگر بدبختی سے اس کا بحران ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے ایک قیادت کو ابھر کر سامنے آنا ہوگا۔  

اگر اس بااہمت اور باصلاحیت نسل کو ایک پلیٹ فارم پہ متحد کرنے میں اس کی قیادت نے کوتائی دکھائی تو اس کے بہت ہی منفی اثرات سماج پہ پڑیں گے اور نوجوان مزید افراتفری کا شکار ہوگا۔

اس وقت بلوچستان میں سلجھی ہوئی نوجوان نسل موجود ہے بس اس کی رہنمائی کرنے اور پروگرام دینے کی ضرورت ہے۔ یہی کیڈر آگے چل کر بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر صیح وقت میں  اس کو ذمہ داری نہیں سونپی گئی یا تو یہ گمنامی کی زندگی گزاریں دیں گے یا غلط ہاتھوں میں استعمال ہوں گے۔

 برحال اس وقت امید اسی نسل کے لکھے پڑے نوجوانوں سے ہی کی جاتی ہے وہ سیاسی میدان میں بھی  ایک کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں اور تعلیم کے میدان میں بھی۔   اُنکو آگے بڑنا ہی  ہوگا ۔  قیادت ایسا ہو کہ ماضی کے تمام تلخ حقائق کو سامنے رکھ کر مستقبل کے لیے یوتھ کو  آگے بڑنے کی رائیں دکھائیں ۔ تشدد اور انتہا پسندی کی ماضی کو بھی  سامنے رکھیں کیونکہ   اسوقت کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ   پرامن طریقے سے آپ اپنے کو کیسے منوا سکتے ہیں ۔  تشدد اور انتہا پسندی کا آج کے دور میں کسی بھی معاشرے میں  کوئی گنجائش نہیں ہے ۔   

اب بھی میرا اس بات پہ یقین ہے کہ  ہمیں بس ایک  کتاب دوست نسل   تیار کرنا ہوگا اسی میں  بلوچستان کی بھلائی اور مستقبل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل