والدین بوکوحرام کے ہاتھوں اغوا شدہ بچوں کی واپسی کے منتظر

گذشتہ جمعے کی شب بوکو حرام کے درجنوں شدت پسندوں نے کانکارا قصبے میں گورنمنٹ سائنس سیکنڈری سکول پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے 330 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں۔

افریقہ میں سرگرم شدت پسند تنطیم بوکو حرام نے نائیجیریا کے شمالی خطے کاتسینا میں لڑکوں کے سکول پر حملے کے بعد سینکڑوں طلبہ کے اغوا کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

گذشتہ جمعے کی شب درجنوں شدت پسندوں نے کانکارا قصبے میں گورنمنٹ سائنس سیکنڈری سکول پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے 330 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں۔

بدھ کو مقامی اخبار ’ڈیلی نائیجیریا‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ انہیں بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیکاؤ کا ایک آڈیو پیغام موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے سکول پر حملے اور طلبہ کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی۔

شدت پسند تنظیم کے رہنما کا کہنا تھا کہ سکولوں کو اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے کیوںکہ وہاں مغربی تعلیم کا پرچار کیا جاتا ہے، جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

اخبار نے ابوبکر کے حوالے سے مزید بتایا: کاتسینا میں جو کچھ ہوا وہ اسلام کے فروغ اور غیر اسلامی طریقوں کی حوصلہ شکنی کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ مغربی تعلیم وہ علم نہیں ہے جس کی خدا اور اس کے پیغمبر نے اجازت دی ہے۔‘

اس آڈیو پیغام کی کسی آزاد ذرائع سے توثیق نہیں ہو سکی ہے لیکن ابوبکر نے ماضی میں بوکو حرام کی جانب سے کئی ویڈیوز اور آڈیو پیغامات جاری کیے ہیں۔

نائیجیریا کے صدارتی ترجمان گربا شیہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کا اغوا کاروں سے رابطہ قائم ہوا ہے اور بچوں کی حفاظت اور ان کی گھروں کو واپسی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔‘

تاہم ترجمان نے اغوا کاروں کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

شمال مغربی نائیجیریا میں متعدد مسلح گروہ سرگرم ہیں، جہاں کاتسینا میں ہونے والے حملے کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اس میں ان ڈاکوؤں کا ہاتھ ہے جو کبھی بوکو حرام کے ساتھ کام کیا کرتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت نے کہا تھا کہ جنگل میں ڈاکوؤں کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کے بعد فوج نے پولیس اور فضائیہ ساتھ مل کر ہفتے کے روز مشترکہ ریسکیو آپریشن شروع کیا تھا۔

کاتسینا پولیس کے ترجمان گیمبو عیسیٰ کے مطابق آپریشن کے دوران 600 سے زیادہ طلبہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

بوکو حرام نے ماضی میں بھی سکولوں سے طلبہ کو اغوا کیا تھا۔

سکولوں پر سب سے سنگین حملہ اپریل 2014 میں کیا گیا تھا جب شمال مشرقی ریاست بورنو کے گورنمنٹ سیکنڈری سکول میں 270 سے زائد طلبہ کو ان کے ہاسٹل سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد تقریباً 100 لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔ بوکو حرام نے اس وقت کہا تھا کہ وہ خواتین کو سکولوں میں جانے سے روکنا چاہتے ہیں۔

2014  میں ہی ایک سکول پر حملے کے دوران 59 طلبہ ہلاک ہوگئے تھے۔

بوکو حرام داعش کی ذیلی تنظیم کے ساتھ مل کر نائیجیریا میں اسلامی حکومت نافذ کرنے کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ