یا ہے محبت، یا ہے جوانی ۔۔۔ دو لفظوں کی ہے دل کی کہانی

بچپن میں کوئی کریلے گوشت کھلائے تو آپ کبھی نہیں کھائیں گے، بڑے ہو کر آہستہ آہستہ پسند آ جاتا ہے، لیکن پتہ بالکل نہیں ہوتا کہ بنتا کیسے ہے۔ بس یہی سین پکے گانوں کا بھی ہے۔ 

(پکسابے)

فیصل حسین کہتا تھا کہ یار میں جد تیرے نال گڈی چے بیہناں واں مینوں پرانے گانے سن کے اپنے ابا جی مرحوم یاد آ جاندے نیں۔ 

یہ معاملہ صرف فیصل تک محدود نہیں تھا، واقعی جو بندہ ساتھ بیٹھتا وہ پرانے یا پھر کلاسیکل گانوں کی وجہ سے یا تو جلدی بھاگ جاتا یا گانے بدلوا کر کچھ اور لگوا دیتا۔ 

ہم سب ایک جیسے ہیں۔ جو جو بندہ اس وقت یہ بلاگ پڑھ رہا ہے ان میں سے پچانوے فیصد کے ساتھ گھر والے یہی کرتے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ بھئی جب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اس وقت کے گانے آپ کو اچھے کیوں لگتے ہیں؟ 

یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ جیسے نوے کی دہائی میرے لڑکپن کے دن تھے، ان دنوں کے جو بھی گانے ہوں وہ میرے لیے ناسٹیلجیا کا سامان ہوں گے، میرا دل بھی کتنا پاگل ہے، یہ پیار تو تم سے کرتا ہے، اب یہ گانا چلے گا تو بھائی بغیر کسی وجہ کے دل میں ہلکی سی کسک محسوس کرے گا، وہ اپنا میٹرک کا سال تھا، اب دیکھیں نا، یہ بات ٹھیک ہے، سمجھ آتی ہے۔ 

لیکن آخر ’دو لفظوں کی ہے، دل کی کہانی، یا ہے محبت، یا ہے جوانی‘ ۔۔۔ اس گانے سے میرا تعلق کیا ہے؟ یہ کیوں مجھے اتنا پسند آتا ہے کہ میں اسے بار بار سنتا ہوں، خاص طور پہ جب زینت امان کہتی ہیں ’یہ کشتی والا، کیا گا رہا تھا، شاید اسے کوئی، یاد آ رہا تھا‘ تو میں جو باقاعدہ کشتی میں بیٹھنے سے الرجک ہوں، مجھے کیوں اتنا اداسی بھرا رومانس چڑھ جاتا ہے؟ یہ چیز سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کسی آدمی کو سن زیرو کے گانے پسند ہوتے ہیں اور کیوں کوئی بندہ بالکل نئے گانوں کو پسند کرتا ہے۔

گانے کا تیر سیدھا آپ کے اندر جا کے لگتا ہے۔ جیسے ہر کھانا سب کو پسند نہیں آ سکتا ویسے ہر گانا بھی ہر ایک کو  نہیں بھا سکتا۔ 

یہاں ایک بات یاد رکھیں، یہ جو لوگ کہتے ہیں نا کہ ذوق کی بات ہے، یہ معذرت کے ساتھ سب ڈرامے بازی ہے۔ ذوق ووق کچھ نہیں ہوتا، باقاعدہ کوشش سے دنیا کے سامنے کلچرڈ نظر آنے کے لیے ننانوے فیصد لوگ خود کو پکے گانوں کی عادت ڈالتے ہیں، جو باقی ایک فیصد ہیں وہ کلاسیکل گھرانوں کے استاد جی لوگ اور ان کے شاگرد خود ہوتے ہیں۔ بھائی خود انہی ننانوے فیصد شو آف عوام میں شامل ہے اور اس پر افسوس بھی کوئی نہیں ہے۔ بچپن میں کوئی کریلے گوشت کھلائے تو آپ کبھی نہیں کھائیں گے، بڑے ہو کر آہستہ آہستہ پسند آ جاتا ہے، ذائقہ سمجھ آتا ہے لیکن پتہ بالکل نہیں ہوتا کہ بنتا کیسے ہے۔ بس یہی سین پکے گانوں کا بھی ہے۔ 

تو بات اصل میں پہنچی تھی یہاں تک کہ ہر گانا ہر ایک کو پسند نہیں آ سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گانا آپ کی عمر کے ساتھ ڈائریکٹ تعلق رکھتا ہے۔ ایک عمر جسمانی ہوتی ہے ایک اندر کی ہوتی ہے۔ جو بندہ بچپن سے پرانے گانے سنتا ہے وہ کتابیں بھی پڑھتا ہو گا، اسے چشمے لگانے کا شوق بھی ہو گا، وہ خود سے بڑوں کی محفل میں زیادہ کمفرٹیبل محسوس کرتا ہو گا، اسے کھیل کود سے دلچسپی کم ہو گی، وہ کھانوں میں بھی روٹی سالن ٹائپ کی چیزیں پسند کرتا ہو گا، وہ کل ملا کر ایک ایسا پیکج ہو گا جسے آپ دیسی سا بندہ کہہ سکتا ہیں۔ تو وہ بدنصیب جو اندر سے پرانی روح ہے اور ایسے گانے سنتا ہے وہ بچپن میں پچپن کا ہو چکا ہو گا اور خیر نہ بھی ہوتا تو اس نے کھے تے سواہ پٹ لینا سی، ہو گیا اچھا ہوا۔ 

دوسری طرف جو کیس ہے وہ اس سے زیادہ مزے کا ہے، اس میں ورائٹی زیادہ ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ وہ لوگ جو ہر نیا گانا سنتے ہیں ایک طرف تو ان کی عیاشی ہے لیکن وہی گانے جو بندے گاتے ہیں ان کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ ہوا ہوا اے ہوا خوشبو لٹا دے، سوپر ہٹ گانا تھا اپنے وقت کا، ابھی ریمکس نہ آیا ہوتا تو کتنوں کے گھروں میں چلتا؟ پھر وہ یاد ہے، دل میں تم، ہونٹوں پہ تم آنکھوں میں جان جاں، بنی ۔۔ کا سولو تھا، اب وہ کدھر ہے؟ ڈاکٹر اور بلا کے گانے تھے، ادھر انڈیا میں بھی ایسے ہزاروں گانے بنے اور بس ٹائم پورا کر کے سائیڈ پہ ہو گئے۔ آج کل بچے بچے کو K-POP پسند ہے۔ جائیں گوگل کریں اور دیکھیں کیا اس میں وہ کوالٹی ہے کہ دس سال بعد بھی ان کو یاد رہے گا؟

گانا اصل میں کوئی آسان چیز نہیں ہے۔ کون سا گانا ہٹ ہو جائے، یہ بڑا کمپلیکس مکس ہے۔ پینٹنگ مصور کے پی آر پہ ہٹ ہو سکتی ہے، ادب میں آپ ایک بار نام بنا لیں یا لابی ہو تو پوری عمر کما سکتے ہیں، شاعر کسی ایک شعر پہ پینتیس ملکوں کے مشاعرے پڑھ کے آ سکتا ہے، خطاطی کی بین الاقوامی سطح پہ مخصوص مارکیٹ موجود ہے، وہ بھی بک جاتی ہے، گانا ۔۔۔ چیزے دیگر است! 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گانے میں سر نہیں ہے، لے ماٹھی ہے، تال نہیں بٹھائی، ماترا نہیں پکڑا، ماٹھے سے ماٹھا سننے والا بھی ریجیکٹ کر دے گا۔ یہ بڑی ٹیکنیکل چیز ہے، اس میں ذاتی تعلقات بھی تبھی کام آتے ہیں جب گانے میں دم ہو ورنہ وہ کہاں گیا گانا ’اک بار چلے آؤ، پھر آ کے چلے جانا‘ سلیم جاوید نے گایا تھا۔ اللہ معاف کرے ہماری نسل کو یہ دکھا دکھا کے بڑا کیا تھا پی ٹی وی والوں نے اور پھر بولتے تھے بچوں کو تمیز نہیں ہے۔ یاد رکھیں، گلوکاری میں خواہ مخواہ کچھ بھی نہیں چلتا۔ جو گانا آپ کو پسند نہ بھی ہو لیکن وہ ہٹ ہو رہا ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں ایسی کیچی دھن یا کوئی چیز ضرور ہو گی جو اسے چلا رہی ہے۔ 

خیر میرے خیال میں جو لوگ تازہ ترین میوزک سنتے ہیں، ہر نیا گانا سن سکتے ہیں وہ چاہے پچپن کے بھی ہوں، مبارک ہو کہ ان میں جوان روح ہے اور وہ زندہ دل انسان ہیں۔ انہیں خواہ مخواہ کی دانشوری کا ہوکا نہیں ہے، وہ ہر نئی چیز ایکسیپٹ کر سکتے ہیں اور وہ بالکل نارمل ہیں۔ وہ خوش قسمت وقت کے ساتھ چلنے والے ہیں، لوگوں کی صحبت انجوائے کر سکتے ہیں اور خواہ مخواہ شور سے پریشان بھی نہیں ہوتے۔ واہ واہ، بندہ ایسا ہو تو اور دنیا میں چاہیے کیا؟ ہاں یاد آ گیا۔

ایک صلاحیت اور ہے جس پر میں واقعی رشک کرتا ہوں۔ وہ لوگ جو میری عمر کے نیڑے تیڑے ہیں اور پرانے گانوں کا ریمکس سن کے بدمزہ نہیں ہوتے۔ واللہ کہ میں ان جیسا ہونا چاہتا ہے۔ بچپن میں جب کوئی ایسا گانا چلاتا تھا تو ابا شدید چڑ جاتے تھے، آج میں چڑتا ہوں لیکن یہ واقعی مجھے ایک خامی لگتی ہے۔ سنے ہوئے گانوں کو اذیت ناک طریقے سے ہلے گلے کے درمیان بھونڈی آوازوں میں سننا میرے لیے مشکل ہے۔ خدا میرا ظرف وسیع کرے، بہت ہی فارغ ہو چکا ہوں۔ 

بس وہ سوال رہ گیا کہ جب میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا، تب کے گانے مجھے کیوں اچھے لگتے ہیں۔ یار اپنا ایمان ہے کہ سریلا گانا اور اس کی اچھی شاعری، یہ بس سنوئیے کی میراث ہوتی ہے۔ خدا نے آپ کو اگر ایسا مزاج بخشا ہے کہ آپ دو تین گھنٹے صرف میوزک سن کر اسے انجوائے کر سکتے ہیں تو آپ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کے لیے اصل میں یہ گانے بنے تھے۔ چاہے آپ پچاس سال بعد پیدا ہو کے سنیں، چاہے آج سن لیں۔

ہیلو؟ کیا آپ واقعی نہیں گنگنا رہے، یہ کشتی والا کیا گا رہا تھا؟؟؟ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ