چین نے سائنوفارم ویکسین کی مشروط منظوری دے دی

چین نے کرونا وائرس کے خلاف سرکاری کمپنی سائنوفارم کی ویکسین کی مشروط منظوری دے دی۔ اس ویکسین کے تجربات پاکستان میں بھی ہو رہے ہیں۔

یہ ویکسین 80 فیصد کے لگ بھگ موثر ہے (اے ایف پی)

چین کے طبی حکام نے جمعرات کو کرونا (کورونا) وائرس کے خلاف پہلی ویکسین کی مشروط منظوری دے دی۔

یہ ویکسین چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی سائنوفارم نے تیار کی ہے اور اس کے پاکستان میں فیز تھری ٹرائل جاری ہیں۔ پاکستان حکومت نے چین سے یہ ویکسین خریدنے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔ سائنوفارم نے فیز تھری کے تجربات کے جائزے کے بعد کہا کہ یہ ویکسین کرونا سے بچاؤ کے لیے 79.3 فیصد موثر ہے۔

اس ویکسین کی کامیابی کی شرح امریکی کمپنیوں موڈرنا اور فائزر کی 95 فیصد سے کم ہے لیکن اسے بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے اس لیے یہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

توقع ہے کہ اس ویکسین کی قیمت بھی امریکی کمپنیوں یا آکسفورڈ کی ویکسین سے کہیں کم ہو گی۔ چین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ملکوں کو ’کم قیمت‘ پر یہ ویکسین فراہم کرے گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جمعرات کو ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کابینہ کی ایک کمیٹی نے ابتدائی طور پر چینی کمپنی سائنوفارم سے کرونا ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 2021 کی پہلی سہ ماہی میں صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو مفت فراہم کی جائے گی۔‘

چین کی نیشنل ہیلتھ سروس کے نائب وزیر زینگ یی شن نے جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویکسین چینی شہریوں کو مفت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’ویکسین اپنی فطرت میں عوامی مفاد کے لیے ہوتی ہے، اور قیمت اس کی استعمال کی مقدار پر منحصر ہو گی، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسے عوام کے لیے مفت فراہم کیا جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین فروری میں ہونے والی نئے سال کی تقریبات سے پہلے پہلے پانچ کروڑ لوگوں کو چینی ساختہ ویکسین کے ٹیکے لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نیشنل میڈیکل پراڈکٹس ایڈمنسٹریشن کے ڈپٹی کمشنر چین شی فے نے بتایا کہ مشروط منظوری کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کلینکل ٹرائلز کی تمام شرائط پوری نہیں ہوئیں لیکن ایسے شواہد ہیں کہ ویکسین موثر ہے۔

انہوں نے کہا، ’کرونا وائرس کے خلاف سائنوفارم کی نئی ویکسین کے معلوم فوائد اس کے معلوم اور ممکنہ نقصانات سے زیادہ ہیں۔‘  پہلے ہی اس ویکسین کی 45 لاکھ خوراکیں صحت کے حکام اور خطرے کے زد پر آئے دوسرے افراد کو دی جا چکی ہیں۔


(اضافی رپورٹنگ: اے ایف پی)

زیادہ پڑھی جانے والی صحت