ٹیکنالوجی راؤنڈ اپ: شفاف انسانی اعضا اور ایل جی سمارٹ فونز بند؟

اس ہفتے کی پانچ ٹاپ ٹیکنالوجی کی خبریں۔

میونخ: ڈاکٹرعلی ایرترک  کی ٹیم کا تیار کردہ شفاف انسانی دماغ۔ روئٹرز

اس ہفتے ٹیکنالوجی کی دنیا کی پانچ دلچسپ اور ٹاپ خبریں۔

جرمن سائنس دانوں نے شفاف انسانی اعضا بنا لیے

جرمنی میں سائنس دانوں نے شفاف انسانی اعضا بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جس کے بعد تھری ڈی اعضا تیارکرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تھری ڈی گردے اور دوسرے اعضا تیار کرکے ان کی پیوندکاری کی جاسکے گی۔

شفاف انسانی اعضا میونخ کی لڈ ویگ میکسیمیلائنز یونیورسٹی میں ڈاکٹر علی ایرترک کی سربراہی میں سائنس دانوں نے تیار کیے۔

علی ایر ترک کی ٹیم نے جو طریقہ اپنایا ہے اس میں ایک خاص کیمیکل استعمال کرکے ایسے انسانی دماغ اورگردے بنائے جاتے ہیں جوشفاف ہوتے ہیں۔ روئٹرز


فیس بک پر بھاری جرمانے کا امکان

فیس بک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن صارفین کی ذاتی معلومات افشا کرنے کے جرم میں اس پر 5 ارب ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔

اگر ایسا ہوا تو یہ کمیشن کی جانب سے کسی ٹیکنالوجی کمپنی پر پہلا جرمانہ ہوگا۔ اس قدم سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ امریکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے جواب طلبی میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔

فیس بک کمپنی نے جرمانے کی رقم کا انکشاف بدھ کو اپنی سہ ماہی مالیاتی رپورٹ میں کیا۔ کمپنی کے مطابق کمیشن کی جاری تحقیقات میں اسے 3 سے 5 ارب ڈالرز کا جرمانہ لگ سکتا ہے۔

فیس بک پر 2011 کے ایک پرائیوسی حکم نامے کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے اور وہ پچھلے کئی مہینوں سے جرمانے کی رقم پر کمیشن کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ انڈپینڈنٹ


الوداع ایل جی سمارٹ فونز؟

ایل جی کا موبائل فون ڈویژن طویل عرصے سے خسارے میں جا رہا ہے اور اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیے انتظامیہ نے آبائی ملک جنوبی کوریا میں اپنےموبائل فونز کی تیاری بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایل جی اب ویت نام میں اپنا سمارٹ فون ڈویژن قائم کرے گا۔

سمارٹ فون ڈویژن کے مقابلے میں ایل جی کی گھریلو اشیا زیادہ مقبول اور منافع بخش ہیں۔ ایسے میں اپنے فون ڈویژن کو سہارا دینے اور اخراجات کم کرنے کی کوشش میں ویت نام فیکڑی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایل جی، سام سنگ اور ہواوے جیسے حریفوں سے مقابلہ کر پائے گا یا یہ اس کے سمارٹ فون ڈویژن کے خاتمے کا آغاز ہے؟ دی ورج ڈاٹ کام


بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی ختم

بھارت نے مشہور زمانہ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر عائد پابندی واپس لے لی۔

ایپ پر فحش مواد شیئر کرنے کی شکایات کے پیش نظر مدراس ہائی کورٹ نے اپریل کے شروع میں پابندی لگائی تھی۔

مدراس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ایپ کی وجہ سے بچے جنسی درندگی کا نشانہ بن سکتے ہیں لہذا ان کے تحفظ کے لیے پابندی لگائی جا رہی ہے۔

اس فیصلے کے بعد ایپل اور گوگل اپنے ایپ سٹورز سے ٹک ٹاک ہٹانے پر مجبور ہو گئے تھے۔

اس پابندی سے 12 کروڑ بھارتی شہری، جن کے فونز پر پہلے سے ٹک ٹاک انسٹال تھی، متاثر نہیں ہوئے۔


برطانیہ کے 5 جی نیٹ ورک میں ہواوے کو محدود کردار مل گیا

برطانوی حکومت نے اپنے ملک میں 5 جی نیٹ ورک بنانے میں ہواوے ٹیکنالوجیز کو محدود کردار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کو چین اور امریکہ کے درمیان 5 جی پر جاری تلخ تنازعے کے حل کا درمیانی راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیلی کام سامان بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہواوے کچھ عرصے سےعالمی سطح پر شدید مشکل کا شکار ہے کیونکہ امریکہ نے جاسوسی کے خدشے کے پیش نظر اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ہواوے سے دور رہیں۔

ہواوے کمپنی خود پر چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات مسترد کرتی ہے۔

اس ہفتے برطانیہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیر اعظم ٹریزا مے کی صدارت میں ہواوے کے معاملے پر اجلاس منعقد کیا۔

سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ برطانیہ ہوواے کو اپنے 5 جی کے بنیادی اور حساس ڈھانچے سے دور رکھتے ہوئے محض غیر اہم حصوں تک رسائی دے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی