سعودی عرب: قوانین میں تبدیلی کے بعد موت کی سزاؤں میں 85 فیصد کمی

سعودی حکومت کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق 2020 میں 27 پھانسیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ اس کے مقابلے میں 2019 میں 184 موت کی سزائیں دی گئی تھیں۔

2019 میں سعودی عرب زیادہ موت کی سزائیں دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا جبکہ پہلے نمبر پر چین اور دوسرے پر ایران تھے (فائل تصویر:اے ایف پی )

حکومتی اعداد و شمار اور غیر جانبدار مبصرین کے مطابق غیر متشدد اور منشیات سے متعلق جرائم کے لیے سزائے موت سنائے جانے کے خاتمے کے فیصلے کے بعد سعودی عرب میں 2020 میں موت کی سزا دیے جانے کی تعداد میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی سال سے سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ موت کی سزائیں دینے والے ممالک میں شامل تھا۔ 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سعودی حکومت کے ہیومن رائٹس کمیشن نے سوموار کو کہا ہے کہ اس نے 2020 میں 27 پھانسیوں کو ریکارڈ کیا۔ اس کے مقابلے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی دستاویزات کے مطابق 2019 میں سب سے زیادہ 184 موت کی سزائیں دی گئیں۔ اس طرح 2020 میں سزائے موت کی تعداد میں 85 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

سعودی رائٹس کمیشن کے مطابق: ’یہ واضح کمی منشیات سے متعلق جرائم کی سزاؤں میں سے سزائے موت کو معطل کرنے سے آئی ہے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے سوال کے جواب میں کمیشن کا کہنا تھا کہ ان جرائم سے متعلق موت کی سزائیں روکنے کا حکم گذشتہ سال لاگو کیا گیا تھا۔ ججوں کے لیے یہ نیا ہدایت نامہ کہیں شائع نہیں کیا گیا اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایسا شاہی فرمان کے تحت کیا جا رہا ہے کیونکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل ایسوسی ایٹڈ پریس رپورٹ کر چکا ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال ججوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ کم عمر بچوں کی جانب سے کیے جانے والے جرائم پر سزائے موت کو روک دیں اور عوامی مقامات پر کوڑے مارنے کی سزا کو ایک سال کی قید، سماجی خدمت یا جرمانے سے بدل دیں۔

سعودی عرب میں آنے والی ان تبدیلیوں کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، جنہیں ان اقدامات میں ان کے والد شاہ سلمان کی حمایت حاصل ہے۔ وہ ملک کو جدیدیت کی جانب لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرتے ہوئے معیشت کو نئے خطوط پر استوار کیا جا سکے۔

ایک طویل عرصے تک سعودی عرب میں موت کی سزا پانے والوں کی بڑی تعداد معمولی اور غیر سنگین جرائم میں ملوث تھی اور اس حوالے سے ججوں کو بھرپور اختیار حاصل تھا خاص طور پر منشیات سے متعلق جرائم کے حوالے سے۔

سال 2019 میں سعودی عرب زیادہ موت کی سزائیں دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا جبکہ پہلے نمبر پر چین اور دوسرے پر ایران تھے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق گذشتہ سال منشیات سے متعلق جرائم میں سزائے موت پانے والے صرف پانچ افراد تھے، جن کو جنوری میں سزا دی گئی تھی۔

مشرق وسطیٰ کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم کوگل کا کہنا ہے کہ پھانسیوں کی تعداد میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے لیکن سعودی حکام کو ’ملک کے اس عدالتی نظام کو بھی ٹھیک کرنا ہو گا جو ان سزاؤں کا فیصلہ کرتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا