الیکشن کمیشن، فارن فنڈنگ کیس اور پی ڈی ایم

دفعہ 204 کے تحت فارن فنڈنگ ثابت ہو گئی تو سیاسی جماعت کالعدم قرار دی جا سکتی ہے لیکن یہ نہیں سوچا سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینا کتنا سنگین اور سنجیدہ معاملہ ہے۔

(اے ایف پی)

الیکشن کمیشن سردیوں کی دھوپ میں آرام کر رہا تھا، پی ڈی ایم نے اسے دیوارِ گریہ بنا ڈالا۔ ورنہ الیکشن کمیشن کی فرد عمل تو کئی موسموں سے دہائی دے رہی ہے کہ انتخابی عمل ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے محض الیکشن کمیشن پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

یہ تحریر کالم نگار کی آواز میں سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے

 

ہمارا قانون شاہانہ مزاج رکھتا ہے۔ جلال میں ہو تو مچھر چھاننے بیٹھ جاتا ہے اور طبیعت لطف و عنایات پر مائل ہو تو پورا ہاتھی نگل جاتا ہے۔ جب مچھر چھانے جاتے ہیں تو اقامہ پر گرفت کر لی جاتی ہے، پھر جے آئی ٹی بنتی ہے، پھر روز سماعت ہوتی ہے اور وصول نہ کی جانے والی تنخواہ کے کوڑے سے ایک وزیر اعظم کی کمر لال اور ہری کر دی جاتی ہے لیکن جب ہاتھی نگلنا مقصود ہو تو آئین شکنی جیسے معاملے پر نظریہ ضرورت کی چادر پھیلا دی جاتی ہے اور چھ سالوں میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہو پاتا۔

قوانین کی شکل میں ہم نے کچھ اقوال زریں جمع کر رکھے ہیں اور ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں یہ کس حد تک قابل عمل ہیں۔ ان اقوال زریں کی نوعیت ایسی ہے کہ جس پر انہیں لاگو کر دیا جائے اس کے لیے کہیں کوئی امان نہیں ہوتی اور جسے گنجائش دینا ہو یہ اقوال زریں اس کے لیے پھولوں کی سیج بن جاتے ہیں۔ معاشرے میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ یہاں قانون کسی پراس وجہ سے لاگو نہیں ہوتا کہ وہ کرپٹ تھا، بلکہ جس پر گرفت کرنا مقصود ہو اس پر اقوال زریں نافذ کر دیے جاتے ہیں۔

انتخابات سے جڑے اکثر قوانین غیر منطقی اور لایعنی ہیں اور ان کی حیثیت اقوال زریں کے مجموعے سے زیادہ نہیں۔ آئین کے آرٹیکل میں اراکین پارلیمان کی اہلیت کی شرائط میں کچھ اقوال زریں بیان کیے گئے ہیں جن کے معانی اور مطلب کسی کو معلوم ہی نہیں۔

اہلیت کی ایک شرط یہ ہے کہ ہر امیدوار کو دینی تعلیمات کا کما حقہ علم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ وضاحت موجود نہیں کہ دین کا کتنا علم ہو گا تو وہ ’کماحقہ علم‘ کہلائے گا؟ چنانچہ کوئی ریٹرننگ افسر امیدواروں سے کاغذات نامزدگی لیتے وقت نماز جنازہ سن رہا ہوتا ہے اور کوئی پوچھ رہا ہوتا کہ ان ہم نصابی سرگرمیوں کی فہرست بیان کی جائے جن کے بعد غسل واجب ہو جاتا ہے۔ کہا گیا کہ امیدوار کو صادق اور امین ہونا چاہیے لیکن کہیں نہیں لکھا کہ صادق اور امین کسے کہا جائے گا۔

قرار دیا گیا کہ امیدوار کو Sagacious  اور Non profligate ہونا چاہیے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان اصطلاحات کا مطلب کیا ہو گا اور حتمی تعین کیسے ہو گا کہ کوئی صاحب اہلیت کے اس معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ قانون کی دنیا میں ہر اصطلاح کا وضاحت کے ساتھ معنی لکھ دیا جاتا ہے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے لیکن ہم نے انتخابی قوانین کے نام پر لایعنی قسم کے اقوال زریں جمع کر رکھے ہیں۔ اب چاہے تو ان سے مچھر چھان لیں اور چاہے تو ان سے ہاتھی نگل لیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی معاملہ فارن فنڈنگ کا ہے۔ ہم نے پہلے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر میں اور پھر 2017 میں الیکشن ایکٹ میں اقوال زریں لکھ دیے کہ دفعہ 204 کے تحت فارن فنڈنگ ثابت ہو گئی تو سیاسی جماعت کالعدم قرار دی جا سکتی ہے لیکن یہ نہیں سوچا سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینا کتنا سنگین اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ سیاسی جماعت عشروں کی عصبیت سے کھڑی ہوتی ہے یہ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہوتی۔

قانون میں فارن فنڈنگ کی نوعیت اور حجم دیکھا جانا چاہیے تھا اور معاملے کی سنگینی کے تناسب سے سزا کی درجہ بندی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ہمارے اقوال زریں میں ایک روپے کی ناجائز فنڈنگ ہو یا ایک ارب کی، سیاسی جماعت ہر دو صورتوں میں کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔ اقوال زریں مرتب کرتے وقت ہم نہیں سوچتے نتائج کیا ہوں گے۔

یہ سوال البتہ موجود ہے کہ قانون اقامے پر پورے بانکپن سے نافذ ہو سکتا ہے تو فارن فنڈنگ پر نافذ ہوتے اس پر کپکپی کیوں طاری ہو جاتی ہے۔ فارن فنڈنگ کا قانون تو بہت واضح ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کے علاوہ کسی بھی غیر ملکی فرد، حکومت، کمپنی، فرم یا ایسوسی ایشن سے فنڈز لینا جرم ہے۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے معاملے میں تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کو مزید کتنے عشرے درکار ہیں؟

یہ بات الیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر ہے کہ تحریک انصاف نے اس سے اپنے اکاؤنٹ چھپائے۔ الیکشن کمیشن نے چوبیس مرتبہ تحریری حکم دیا کہ اکاؤنٹس کی تفصیل پیش کی جائے لیکن تحریک انصاف نے عمل نہیں کیا۔ چنانچہ سٹیٹ بنک سے ریکارڈ منگوانا پڑا اور جب وہ ریکارڈ آیا تو معلوم ہوا تحریک انصاف کے اکاؤنٹس تینتیس تھے لیکن اس نے الیکشن کمیشن کو بتا رکھا تھا کہ اس کے اکاؤنٹس کی تعداد آٹھ ہے۔ عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ کی حیثیت سے الیکشن کمیشن میں بیان حلفی بھی دے چکے کہ ان کی جماعت نے کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی۔ یہ بیان حلفی ہر سیاسی جماعت کے سربراہ کو ہرما لی سال کے اختتام پر جمع کرانا ہوتا ہے۔ تو کیا اس بیان حلفی کے بعد بھی جناب عمران خان صادق اور امین ہیں؟

پی ڈی ایم الیکشن کمیشن کی زنجیر عدل کو ہلا رہی ہے۔ جنوری کی دھوپ مگر سرگوشی کر رہی ہے کہ صاحب دھوپ تاپ رہے ہیں انہیں تنگ مت کریں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ