پاکستان نوٹ چھاپ کر غربت کیوں نہیں ختم کر دیتا؟

کچھ ملکوں نے یہ چالاکی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی معیشت ایسے بھنور میں گھر گئی کہ انہیں کان پکڑ کر توبہ کرنا پڑی۔

کوئی بھی ملک قرضہ اتارنے کے لیے زیادہ نوٹ نہیں چھاپ سکتا یا نہیں چھاپتا کیوں کہ اس سے ملک ترقی کرنے کی بجائے مہنگائی آسمان کو پہنچ جائے گی اور لوگ کوئی چیز خرید نہیں پائیں گے (فائل تصویر: اے ایف پی)

چند دن پہلے ایک محفل میں بحث ہو رہی تھی کہ ہر پاکستانی لاکھوں روپے کا مقروض ہے اور اس بوجھ میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے تو سٹیٹ بینک نوٹ چھاپ کر عالمی اداروں اور ملکوں کے منہ پر کیوں نہیں دے مارتا؟

ایک دوست فرمانے لگے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے پہلے میں اپنی پارٹی بناؤں گا، جس کا منشور ہو گا کہ میں اقتدار میں آتے ہی پہلے ہفتے ملک کا سارا قرضہ واپس کر دوں گا اور ملک کے ہر مرد، عورت اور بچے میں دو دو کروڑ روپے بھی تقسیم کردوں گا۔ کوئی پاگل ہی ہو گا جو مجھے ووٹ نہیں دے گا۔ میں وزارت عظمیٰ کی نشست پر براجمان ہوتے ہی حکم جاری کروں گا کہ سٹیٹ بینک اپنی مشینوں کی جھاڑ پھونک کرے اور شروع ہوجائے پیسہ چھاپنا، ہمیں آج ہی ملک کے سارے قرضے اتارنے ہیں۔ لگے ہاتھوں یہ بھی سوچ لیا کہ وزارت خزانہ کا عہدہ بھی خود کے پاس ہی رکھوں گا کیوں کہ ملک کے معاشی معاملات میں خود دیکھوں گا۔

یہ بات واقعی دلچسپ تھی۔ سن کر ہمارے کم عقل دماغ میں عقل کی بتی روشن ہوئی اور خیال آیا کہ اگر یہ اتنا ہی آسان ہے تو پھر حکومت ایسا کیوں نہیں کر رہی؟ اس لیے ہم نے سوچا ذرا اس پر تحقیق کر لیتے ہیں۔ ابھی تحقیق شروع ہی کی تو پتہ چلا کہ یہ معاشی پلان سراسر ناکام ہے۔

معلوم ہوا کہ زیادہ نوٹ چھاپنے سے تو ملک کا دیوالیہ ہی نکل جائے گا اور کچھ ملکوں نے یہ چالاکی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی معیشت ایسے بھنور میں گھر گئی کہ انہیں کان پکڑ کر توبہ کرنا پڑی۔ اس کی وجہ نیچے پیش کی جاتی ہے۔

کوئی بھی ملک قرضہ اتارنے کے لیے زیادہ نوٹ نہیں چھاپ سکتا یا نہیں چھاپتا کیوں کہ اس سے ملک ترقی کرنے کی بجائے مہنگائی آسمان کو پہنچ جائے گی اور لوگ کوئی چیز خرید نہیں پائیں گے۔ دراصل کرنسی نوٹ کی اپنی کوئی ویلیو نہیں ہوتی، اسے ویلیو ہم دیتے ہیں، کرنسی نوٹ تو محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ ایک سو روپے، ایک ہزار روپے یا پانچ ہزار روپے، یہ ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کی ویلیو حکومت طے کرتی ہے۔

ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ آپ کے پاس ایک ارب روپے ہیں اور آپ زمین سے دور کسی اور سیارے پر کسی گمنام جگہ پر موجود ہیں، جہاں نہ آدم، نہ آدم زاد، آپ کے اردگرد کچھ بھی نہیں بلکل سنسان جگہ ہے تو آپ اس ایک ارب کا کریں گے کیا؟ وہاں تو اس ارب روپے کی پتھر کنکر سے زیادہ اہمیت نہیں ہوگی، بلکہ پتھر سے تو پھر بھی آپ کچھ نہ کچھ کام لے سکتے ہیں، مثلاً کیل ٹھونک سکتے ہیں یا اخروٹ توڑ سکتے ہیں، ارب روپے تو کسی کام کے نہیں ہوں گے۔

یہاں پر کرنسی نوٹ کی ویلیو اس لیے ہے کیونکہ ہم نے اسے ویلیو دے رکھی ہے۔ اگر لوگ کرنسی نوٹ استعمال کرنا چھوڑ دیں، خرید و فروخت کا کوئی نیا طریقہ نکال دیں تو ان کرنسی نوٹس کی کوئی ویلیو باقی نہیں رہے گی اور ویسے بھی اولین زمانے میں لوگ کرنسی نوٹ کے بجائے مختلف اشیا کے ذریعے لین دین کرتے تھے۔

تو پھر پانچ ہزار روپے جیب میں ڈال کر ہم ہفتے بھر کا راشن کیسے خرید لیتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل حکومت ضمانت دیتی ہے کہ اس کاغذ کے بےوقعت ٹکڑے کی اتنی قدر ہے کہ اس سے آٹا، چینی، چاول، دالیں، گوشت سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اپنی ضمانت واپس لے لے تو پانچ ہزار کے نوٹ کی وہی حیثیت ہو جائے گی جو ردی کاغذ کی ہوتی ہے۔

ہم نے کرنسی کی ویلیو جان لی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی ملک بے پناہ کرنسی نوٹ چھاپ دے تو کیا ہو گا؟ فرض کریں حکومت پاکستان آج کرنسی نوٹ چھاپ کر لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردے تو آپ کیا کریں گے۔ ظاہر ہے آپ بازار کا رخ کریں گے اور دھڑادھڑا چیزیں خریدنا شروع کر دیں گے۔ پورے ملک میں دوسرے لوگ بھی بیک وقت یہی کام کر رہے ہوں گے۔

اس سے کیا ہو گا کہ چیزوں کی طلب یعنی ڈیمانڈ بڑھ جائے گی۔ معاشیات کا اصول ہے کہ جب چیزوں کی طلب بڑھتی ہے تو ان کی قیمت خود بخود بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ فرض کیا کل کو اگر سائنس دان اعلان کرتے ہیں کہ لوبیا کھانے سے کرونا ختم ہو جاتا ہے تو لوگ دکانوں پر ٹوٹ پڑیں گے اور آج اگر لوبیا 50 روپے کلو ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک پھر دو سو، اور چار سو کا ہو جائے گا۔

ظاہر ہے ملک میں ایک خاص مقدار میں لوبیا پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی، ساتھ ہی ساتھ طلب بڑھتی جائے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی قیمت ہزاروں تک چلی جائے گی۔ اسی چیز کو افراطِ زر کہتے ہیں، یعنی دولت کی فراوانی۔ معیشت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ جس چیز کی کثرت ہو اس کی قیمت کم ہوتی جاتی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر ہر شخص امیر ہو جائے تو عین یہی کام ہو گا کہ جو چیز پہلے ایک ہزار روپے کی مل رہی تھی وہ دو ہزار کی ملنا شروع ہو جائے گی، اور اسی طرح سے چیزوں کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی، لوگ کوئی چیز خرید نہیں پائیں گے۔ کسی بھی ملک میں جتنے پیسے ہوتے ہیں اس پیسوں کے مطابق ہی چیزوں کی قیمتیں طے ہوتی ہیں۔

معاشیات کے اس سادہ اصول کے باوجود ہنگری، زمبابوے اور دیگر ممالک نوٹ چھاپنے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ان ملکوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے نوٹ چھاپنا شروع کر دیے جس کا نتیجہ ابھی آپ کو بتاتا ہوں۔

یہ بات ہے وسطی یورپ میں واقع ملک ہنگری کی۔ ہنگری کی حکومت نے 46-1945 میں بے پناہ کرنسی نوٹ چھاپ دیے۔ زیادہ نوٹ چھاپنے کی وجہ سے ہنگری کو تاریخ کی سب سے بدترین ہائپرانفلیشن (مہنگائی کی بلند شرح) کا سامنا کرنا پڑا۔ مہنگائی حد سے زیادہ بڑھنے کے نتیجے میں ہنگری نے تاریخ کا سب سے بڑا یعنی 10 کروڑ ارب پینگو کا نوٹ چھاپا۔ اس کے بعد بھی جب مہنگائی کنٹرول نہ ہو سکی تو ہنگری کو پرانی کرنسی چھوڑ کر کسی دوسری کرنسی پر منتقل ہونا پڑا۔

ایسی ہی ایک اور مثال ہمارے پاس زمبابوے کی موجود ہے۔ کسی بھی ملک کا انفلیشن ریٹ اگر 50 فی صد سے بھی بڑھ جائے تو وہ ہائپرانفلیشن میں شمار ہوتا ہے اور وہ اُس ملک کے لیے شدید ترین پریشانی کا باعث بن جائے گا لیکن 2008 میں زمبابوے کا انفلیشن ریٹ 79.6 ارب فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اسی صورت حال کے مدنظر زمبابوے حکومت نے ایک سو کھرب زمبابوے ڈالر کا نوٹ چھاپ ڈالا لیکن اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا، مہنگائی نے ساری حدیں پار کر دیں۔ زمبابوے کی کرنسی کی قدر اتنی گر گئی کہ اس کے قابلے پر ایک سادہ کاغذ بھی زیادہ قیمتی ہو گیا۔

ثابت یہ ہوا کہ کوئی بھی ملک زیادہ نوٹ چھاپنے سے ترقی تو نہیں کر سکتا ہاں البتہ اس ملک کا ہنگری اور زمبابوے جیسا حال ضرور ہو سکتا ہے۔ میری تحقیق کے بعد میرے دوست کا خواب جس کے مطابق وہ وزیراعظم ہاؤس میں جا بیٹھا تھا وہ تو چکنا چور ہو گیا، لیکن وزیراعظم بننے کے بغیر بھی میں اور آپ مل کر ملک کی ترقی میں محنت کر کے حصہ ڈال سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ