اگلی نسل کیا کرنسی نوٹ کھائے گی؟

کنکریٹ کی فصیلوں کے درمیان بیٹھ کر اعلیٰ ڈگری لے لی، شیشے کی اونچی عمارت کے کسی کیوبیکل میں نوکری بھی مل گئی لیکن جو پیسہ جیب میں آیا اس سے نہ دیسی انڈے ملتے ہیں نہ اصلی گھی۔

 کراچی میں ایک خاتون چوزے فروخت کر رہی ہیں۔  وزیراعظم عمران خان کے ’مرغ بانی ‘ اور ’کٹا بچاو‘ پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر فتح اللہ بتا رہے تھے کہ مرغ بانی سکیم انڈوں اور مرغی کے گوشت کی تجارتی سکیم نہیں (اے ایف پی)

’تو آپ ہیں جو پاکستانیوں میں مرغیاں اور بچھڑے کٹے بانٹ رہے ہیں۔ خان صاحب نے اس کام پہ آپ کو لگا دیا‘۔ وزارت فوڈ سکیورٹی کے ادارے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او ڈاکٹر فتح اللہ خان سے ملاقات ہوئی تو سلام کے بعد میرا پہلا جملہ یہی تھا۔

ڈاکٹر فتح اللہ وزیراعظم عمران خان کے ’مرغ بانی ‘ اور ’کٹا بچاو‘ پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں۔ وہ   شاید شہر والوں کے اوندھے سوال اور سیاسی لوگوں کے اوچھے مذاق سن کر نظر انداز کرنے کے قائل ہیں اس لیے میرے طنز کا جواب ان کے پاس ڈیری،پ ولٹری اور لائیو سٹاک پر سیر حاصل گفتگو کی شکل میں تھا۔

یہ مضمون آپ یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

مرغی اور کٹے بانٹنے والی بات پہ ہنستے ہوئے ڈاکٹر فتح اللہ بتا رہے تھے کہ مرغ بانی سکیم انڈوں اور مرغی کے گوشت کی تجارتی سکیم نہیں، نہ ہی کٹا بچاو یا جانور کی فربہی کے پروگرام سے کوئی معاشی و زرعی انقلاب کا دعویٰ ہے۔ لیکن یہ فوڈ سکیورٹی اور آمدنی میں مدد کی جانب پہلا قدم ضرور ہے۔

’آپ تو صحافی ہیں آپ کو تو پتا ہوگا‘ ڈاکٹر فتح اللہ نے میری صحافت کی جانب ضرب ماری اور سوال داغ دیا کہ دنیا کے کتنے ملک زراعت، ڈیری مصنوعات، پیک شدہ گوشت انڈسٹری اور لائیو سٹاک انڈسٹری کے باعث اشیائے خور و نوش، غذائی اجناس کی مارکیٹ اپنی مُٹھی میں لیے ہوئے ہیں۔‘

ڈاکٹر فتح اللہ نے اصل مسئلے کی نشاندہی کی۔ ’پولٹری انڈسٹری میں برائیلر مرغی کے شعبے میں تو اب بڑے بڑے سرمایہ کار صنعتیں بنا چکے لیکن چھوٹے پیمانے کے دیسی مرغ بان ختم ہو گئے تھے۔ شہروں میں تو دیسی مرغی ملنا تقریباً ناممکن تھا، ہم نے ایک سال میں ملک بھر کے سوا لاکھ خاندانوں میں ساڑھے آٹھ لاکھ مرغیاں تقسیم کی ہیں، تقریباً ساٹھ ہزار کٹے، بچھڑے ذبح ہونے سے بچائے گئے ہیں جن کی رقم فارمرز کو دی گئی ہے۔ میں تو کہتا ہوں یہ سکیمیں حکومتوں کی تبدیلی سے بے نیاز ہو کر تسلسل سے چلتی رہیں تو ثمر نظر آئے گا۔‘

ڈاکٹر صاحب کے بقول اگر صرف بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں بھیڑ بکریوں کی فارمنگ اور بریڈنگ پر توجہ دی جائے تو یہ انڈسٹری یہاں کے لوگوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔ مقامی اور عالمی منڈی میں چھوٹے جانور کے گوشت کی طلب زیادہ اور رسد خاصی کم ہے۔ اونٹ اور شتر مرغ کا گوشت ہمارے لوگ شوق سے کھاتے نہیں ورنہ اس طرف بھی توجہ دی جائے۔

میں نے ڈاکٹر صاحب کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے انقلابات کا حوالہ دیا کہ کیسے چند ممالک اپنے زرخیز دماغ نوجوانوں کے ذریعے دنیا کی معیشت پہ دھاک بٹھا رہے ہیں۔ ہم یہاں اپنے جوانوں کو کہہ رہے کہ مرغی پالو وہ انڈا دے گی تو شیخ چلی کا محل تعمیر ہو جائے گا۔ دنیا بلیک ہول کے اتے پتے ڈھونڈ رہی ہے۔ یہاں خان صاحب کی  حکومت کہہ رہی ہے کہ اپنے کٹے، بچھڑے وغیرہ موٹے تازے کرنے کے لیے حکومتی سکیم سے فائدہ اٹھائیں۔

ڈاکٹر صاحب کو میرے اعتراض پر اعتراض تھا۔ وہ مجھے انسانی بقا کے اہم جزو یعنی غذائی اشیائے  کی اہمیت جتا رہے تھے۔ تھک ہار کہ کہنے لگے ’ہم ایک زرعی ملک سے صنعتی ملک بنے، صنعتی ہوئے تو ٹیکنالوجی اور رئیل اسٹیٹ کی جانب دھکیل دیئے گئے۔ اسی گو ناگوں کے باعث نہ ہماری زراعت مضبوط ہے نہ صنعت، یہاں تک کہ غذائی اجناس اب درآمد کرنی پڑتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ انڈے، مرغی، بھیڑ بکری اور کٹوں پر گفتگو کرنا کتنا بورنگ ہے لیکن واقعی یہ وقت کی ضرورت ہے۔ سیاسی چھیڑ چھاڑ تو چلتی رہتی ہے لیکن نوکریوں کے کم سے کم ہوتے امکانات، انسانی ہاتھ کی جگہ لیتی مشینیں اور سب سے بڑھ کر ملک کی غذائی ضروریات ایسے مسائل ہیں جو ہمیں اپنی اصل یعنی زمین اور زمین سے جڑے تمام قدرتی وسائل کی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔

کنکریٹ کی فصیلوں کے درمیان بیٹھ کر اعلیٰ ڈگری لے لی، شیشے کی اونچی عمارت کے کسی کیوبیکل میں نوکری بھی مل گئی لیکن جو پیسہ جیب میں آیا اس سے نہ دیسی انڈے ملتے ہیں نہ اصلی گھی۔ گوشت لینے جائیں تو ڈبوں میں کئی ماہ پہلے پیک کی گئی بےجان برائیلر مرغی پڑی ہوتی ہے، بکرے  یا دنبے کا گوشت بہت کم ہی کسی کے بجٹ میں آتا ہے، ویکسین زدہ بڑے جانور کا گوشت  اس کے دودھ کی طرح بیماریاں لاتا ہے۔

اب ذرا یہ بھی سوچیں کہ پالک کی ایک گڈی بازار سے لگ بھگ بیس روپے کی ملتی ہے، اگانے والے  کسان کو اس سے بمشکل تین چار روپے ملتے ہوں گے، اسے بونا اگانا کاٹنا اور منڈی تک دینا وہ درد سر الگ۔ جس زمین پہ فصل اُگا کر یہ تھوڑے روپے ملنے کا انتظار کیا جائے وہ زمین ہاوسنگ سوسائٹی بیچ دیں تو یکمشت دام کھرے ہوسکتے ہیں۔ کسان اپنے خاندان کو لے کر شہر منتقل ہوسکتا ہے، بچوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنا سکتا ہے یعنی ہلدی لگے نہ پھٹکری۔

ایسا ہی فیصلہ اگر تجارتی بنیاد پرمرغیاں پالنے والے، بھینسوں کے باڑے چلانے والے، بھیڑ بکروں کے ریوڑ سنبھالنے والے چرواہے لینے لگ جائیں تو شہر والوں، صنعتی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی پر زور دینے والوں کو فکر مند ہونا چاہیے کہ ان کی اگلی نسل کیا کرنسی نوٹ کھائے گی؟ یا پیٹ کا دوزخ بھرنے کو بِٹ  کوائن کافی ہوگا؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ