پاکستان: ’کرونا یومیہ پانچ سو کمانے والوں کو مزید غربت میں دھکیلے گا‘

آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں غریب ترین لوگوں کو وبا سے پہنچنے والے معاشی نقصان کو پورا کرنے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی کروڑوں کی تعداد میں غریب لوگوں کا مزید غربت میں چلے جانے کا خدشہ۔

(اے ایف پی فائل)

دنیا کے 20 عالمی فلاحی اداروں اور متعدد پارٹنرز کے اتحاد آکسفیم نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا (کورونا) وبا کے باعث معاشی طور پر متاثر ہونے والے دنیا کے ایک ہزار ارب پتی افراد نے اپنے معاشی نقصان کا ازالہ صرف نو مہینے میں پورا کر لیا جبکہ دنیا کے غریب ترین لوگوں کو اپنا معاشی نقصان پورا کرنے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔  

پیر کو سوئٹزلینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس شروع ہونے سے قبل جاری ہونے والی’عدم مساواتی وائرس‘ نامی رپورٹ میں آکسفیم نے انکشاف کیا کہ کرونا وبا کے باعث معاشی عدم مساوات دنیا کے ہر ملک میں دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے ایک ہزار (زیادہ تر) سفید فام ارب پتی افراد کے مقابلے میں کرونا وبا کے باعث غریب ہوجانے والے افراد کو واپس نارمل زندگی میں لوٹنے میں 14 گنا زیادہ طویل عرصہ لگے گا۔   

 

’غریب مزید غریب ہو جائیں گے‘

پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کرونا وبا سے غربت میں اضافے کا خدشہ ہے۔

آکسفیم ایشیا کے ریجنل ایڈووکیسی اینڈ کیمپیئن مینیجر مصطفیٰ تالپور کے مطابق کرونا وبا کے بعد آنے والی مشکلات کے باعث پاکستان میں پہلے سے موجود غریب کے علاوہ ایک ڈالر 90 سینٹ (تقریباً 300 روپے) یومیہ کمانے والے ایک کروڑ افراد کے مزید غریب ہوجانے کا خدشہ ہے۔  

انڈپینڈنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مصطفیٰ تالپور نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں یومیہ تین ڈالر 20 سینٹ (تقریباً 510 روپے) کمانے والے تین کروڑ 88 لاکھ افراد کو کرونا وبا کے باعث آنے والا معاشی بحران مزید غربت میں دھکیل سکتا ہے۔

انہوں نے اس کو صحت کے شعبے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے کُل بجٹ کا 4.1 فیصد ہی صحت پر خرچ کرتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا میں بھارت اور افغانستان کے بعد صحت پر بجٹ کا کم ترین حصہ خرچ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

 

مصطفیٰ تالپور نے مزید کہا کہ کرونا وبا کے بعد صحت کے شعبے پر اور بھی زیادہ دباؤ پڑا ہے، زیادہ تر غریب لوگ ہی سرکاری ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور کم بجٹ کے باعث جب ہسپتالوں میں سہولیات میسر نہیں ہوں گی تو غریب لوگ اپنے موجودہ اثاثے بیچ کر علاج کروانے پر مجبور ہوں گے، جس سے غریبوں کی تعداد میں اور اضافہ ہو سکتا ہے۔

امداد جو کی جاسکتی تھی پر ہوئی نہیں

آکسفیم کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں مارچ سے 101 ارب پتی افراد کی دولت میں 174 ارب امریکی ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ اس رقم سے کرونا وبا کی وجہ سے غریب ہوجانے والے نو کروڑ 30 لاکھ افراد کو فی کس ایک ہزار 800 امریکی ڈالرز بانٹے جاسکتے تھے۔  

تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا کہ کرونا وبا نے طویل مدتی معاشی، نسلی اور جنسی تفریق کو مزید نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق کرونا وبا کے آغاز سے اب تک دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی دولت میں مشترکہ طور پر نصف کھرب ڈالرز کا اضافہ ہوا اور اس رقم سے دنیا کے ہر فرد کے لیے ویکسین خریدنے کے ساتھ اس وبا سے غریب ہوجانے والے سب افراد کی غربت ختم کی جاسکتی ہے۔  

عالمی سطح پر اس وبا کے باعث کم تنخواہ پر کام کرنے والی خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں اور اگر ان شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کے برابر ہوتی تو 11 کروڑ 20 لاکھ خواتین بیروزگار ہوجانے کے رسک پر نہ ہوتیں۔ 

رپورٹ میں مزید کہا گیا دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں 70 فیصد خواتین کام کرتی ہیں اور ان اہم شعبوں پر کام کرنے کے باوجود ان کو مناسب تنخواہ نہیں ملتی اور اس وبا کے دوران یہی خواتیں وائرس کے رسک پر تھیں۔ 

رپورٹ کے مطابق وبا کے دوران 32 عالمی کارپوریشنز کے اضافی منافعے پر عارضی ٹیکس لگا کر 104 ارب ڈالرز کا فائدہ حاصل کیا جاسکتا تھا جس سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے تمام بچوں اور بزرگوں کی مالی معاونت کی جاسکتی تھی۔  

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے  آکسفیم پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سید شاہ نواز علی نے کہا: ’کرونا وبا نے ظاہر کردیا کہ ہم سب ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں اور جب تک ہم سب محفوظ نہیں تو کوئی بھی محفوط نہیں۔ لڑکیاں، خواتین اور سماج کے پسے ہوئے طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے لیے معاشی مواقعوں میں کمی اور وائرس سے احتیاط میں اخراجات میں آضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو تشدد میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے، جس سے ان طبقوں میں عدم مساوات میں اضافہ دیکھا گیا۔‘ 

ان کے مطابق اس رپورٹ نے امیر اور غریب کے درمیاں فرق کی نشاندہی کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ کیسے وبا نے اربوں افراد کو غربت کی طرف دھکیل دیا ہے۔    

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان