کرونا 10 کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل سکتی ہے: عالمی بینک

حالیہ دنوں میں یورپی ممالک میں کرونا کیسز میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے جبکہ لاطینی امریکہ میں بھی بیماری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اڑھائی لاکھ ہوگئی ہے۔

وسطی امریکہ کے ملک ال سلواڈور  میں  ایک خاتون امدادی  سامان اپنے گھر لاتے ہوئے (اے ایف پی)

صحت کے عالمی حکام نے جمعرات کو کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو مکمل لاک ڈاؤن کیے بغیر کرونا (کورونا) وائرس کے کیسوں میں اضافے سے نمٹنے کے قابل ہونا پڑے گا۔ دوسری طرف عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ بحران 10 کروڑ لوگوں کو انتہائی غربت میں دھکیل سکتا ہے۔

جمعرات کو فرانس، اٹلی، سپین اور جرمنی میں کرونا وائرس کے کیسوں میں پریشان کن اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبائی مرض دوبارہ براعظم میں پھیل رہا ہے۔ ایسا زیادہ تر سفر، گرمیوں کی چھٹیوں اور پارٹیوں کے انعقاد کی وجہ سے ہوا ہے۔

جمعرات کو اٹلی میں کرونا وائرس کے 845 نئے کیس رجسٹر ہوئے جب کہ فرانس میں 4700 نئے مریض سامنے آئے  جو ایک بڑا اضافہ ہے۔ سپین میں روزانہ مثبت آنے والے کیسوں کی تعداد فرانس سے بھی زیادہ ہے۔ جبکہ جرمنی کرونا کے کیس بڑھنے سے تشویش شکار ہے۔

کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے باوجود عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے عہدے دار نے کہا ہے کہ اضافی لاک ڈاؤن  ضروری نہیں ہونے چاہییں۔

ڈبلیو ایچ او یورپی شاخ کے سربراہ ہانس کلوگ نے رپورٹروں کو بتایا: 'ملک گیر بنیادی اقدامات اور مخصوص مقامات کے لیے اقدامات کر کے ہم وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ہم وائرس کے مسئلے سے نمٹ سکتے اور معشیت اور تعلیمی نظام کو چلتا رکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا 10 کروڑ افراد کو انتہائی غربت میں دھکیل سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے پہلے عالمی بینک کا اندازہ تھا کہ چھ کروڑ لوگ انتہائی غربت کا شکار ہو جائیں گے لیکن نئے اندازے کے مطابق یہ تعداد سات سے 10 کروڑ ہے۔

ڈیوڈ ملپاس کا کہنا تھا کہ وبائی مرض کی صورت حال بگڑنے یا برقرار رہنے کی صورت میں، جس کا امکان موجود ہے، یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

وائرس کے وار جاری

دوسری جانب لاطینی امریکہ میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے  والی ہلاکتوں کی تعداد اڑھائی لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ گذشتہ دسمبر میں وائرس چین سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا اور نو ماہ بعد وائرس نے کسی بھی دوسرے علاقے کے مقابلے میں لاطینی امریکہ کو زیادہ متاثر کیا ہے۔

اے ایف پی کی جانب سے اکٹھے کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لاطینی امریکہ اور جزائر غرب الہند میں جمعرات تک وائرس کے تقریباً 65 لاکھ کیس اور اڑھائی لاکھ 969 ہلاکتیں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد سات لاکھ 88 ہزار سے زائد ہے۔

علاقے میں برازیل سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 35 لاکھ سے زیادہ کیس اور ایک لاکھ 12 ہزار  اموات ریکارڈ کی گئیں۔ امریکہ کے بعد جنوبی امریکہ کا خطہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق پیرو کی مجموعی قومی پیداوار میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ملک میں وائرس سے 26 ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔

کرونا وائرس کی وبا کے معاشی اثرات

کرونا وائرس اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ کن معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

امریکہ جہاں ایک لاکھ 74 ہزار ہلاکتیں ہوئیں وہاں معیشت اور صحت کے شعبے اب بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

جرمنی کے وزیر خزانہ اولاف شولز نے کہا ہے کہ  وبائی مرض کے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کم کرنے کے لیے ملک کو 2021 میں مزید قرضہ لینا پڑے گا۔ جرمنی نے کمپنیوں اور شہریوں کو وبائی مرض کے اثرات سے بچانے کے لیے ایک ٹریلین یورو کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا