اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے

ہم چونکہ بھولے بھالے سے ہیں اس لیے ہمیں لوگوں کی کہی ہوئی باتیں ذرا دیر سے سمجھ آتی ہیں۔ اس دعا کا مطلب بھی ہم کچھ دیر سے ہی سمجھے۔

(روئٹرز)

’اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے!‘ ہم لڑکیاں یہ دعا سنتے ہوئے جوان ہوتی ہیں۔ ہمیں دعا دینے والے تو بہت ہوتے ہیں، پر ان سب کے پاس ہمارے لیے ایک ہی دعا ہوتی ہے، ہمارے اچھے نصیب کی دعا۔

چچا میاں گھر آئیں گے تو وہ بھی یہی دعا دیں گے، ہم پھپھو کے جائیں گے تو وہ بھی ہمیں دیکھ کر یہی دعا دیں گی، ماموں سے ملنا ہو گا تو ان کے منہ سے بھی ہمارے لیے یہی دعا نکلے گی، بس میں کسی بوڑھی اماں کو اپنی جگہ بیٹھنے کی پیشکش کریں گے تو وہ بھی شکریہ کی جگہ یہی دعا ہمارے ہاتھ میں تھما دیں گی۔

ہم چونکہ بھولے بھالے سے ہیں۔ ہمیں لوگوں کی کہی ہوئی باتیں ذرا دیر سے سمجھ آتی ہیں۔ اس دعا کا مطلب بھی ہم کچھ دیر سے ہی سمجھے۔ ہم نے جب دیکھا کہ ہم سے ملنے والے افراد ہمیں ایک ہی دعا دیتے ہیں تو ہمیں لگا شاید وہ ہمیں بہت زیادہ ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہمیں لگا جیسے وہ چاہتے ہیں کہ ہم بہت سارا پڑھیں، اچھی سی نوکری کریں، کاروبار کرنا چاہیں تو وہ بھی کر لیں، سرخ لپ سٹک لگانا چاہیں یا ساڑھی باندھنا چاہیں تو بغیر کسی روک ٹوک کے لگا لیں، درختوں پر چڑھنا چاہیں تو اس کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہ بنے، ملک سے باہر جانے کا موقع ملے تو ہمارے دل میں ’ابا کیا کہیں گے‘ کا ڈر نہ پیدا ہو اور تو اور ہمیں کوئی پسند آ جائے تو پورا خاندان ہمارے بارے میں طرح طرح کی باتیں نہ کرتا پھرے۔

اس دعا کا اصل مطلب ہمیں ایف اے کے بعد معلوم ہوا۔ ایف اے ہو چکا تھا، اب یونیورسٹی جانا تھا۔ ہم جس رفتار سے داخلہ فارم بھر رہے تھے، لوگ اس سے تگنی رفتار سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنا کیا پڑھنا، لڑکیوں نے تو چولہا چوکی ہی کرنی ہوتی ہے، ڈگری سے روٹی تھوڑی بیلی جاتی ہے، یونیورسٹیوں میں تو جانے کیا کیا ہوتا ہے، یونیورسٹی جانے والی لڑکیاں ماں باپ کا منہ ہی کالا کرتی ہیں۔ ہم ہیں ہیں کرتے ان کی باتیں سنتے رہے۔ جی تو چاہا ان سے پوچھیں کہ آنٹی آپ ہی ہمیں اچھے نصیب کی دعا دیتی تھیں، اب ہمیں ہمارا نصیب مل رہا ہے تو آپ رو کیوں رہی ہیں۔

نوکری شروع کی تو تب بھی کچھ ایسی ہی باتیں سننی پڑیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ ہم نے نوکری کی پیشکش قبول کر کے اپنے خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ ہم پھر حیران کہ یہی لوگ ہمارے اچھے نصیب کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ اب تھوڑا سا نصیب مل رہا ہے تو انہیں خوشی کیوں نہیں ہو رہی؟

پھر ہم نے دعا پر غور و فکر شروع کیا۔ بہت دن کی سوچ بچار کے بعد ہمیں سمجھ آیا کہ ان کی ہمارے نصیب سے مراد ’ہمارے وہ‘ ہیں جو مستقبل میں ہماری باقی بچ جانے والی زندگی کے ساتھی بنیں گے۔ ان کے آنے سے پہلے ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ ہمارا نصیب نہیں بلکہ ٹائم پاس ہے جو ان کے ملنے تک ہمیں کرنا ہے۔ آخر ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد ان کی خدمت کرنا ہی تو ہے۔

اس دن کے بعد سے ہمیں اس دعا سے الرجی سی ہو گئی۔ ہم جہاں یہ دعا سنتے ہیں، وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔ دیکھیں ہمارا نصیب بس ایک آدمی نہیں ہے۔ ہمارا نصیب اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے پر آپ اس سب کو ہمارا نصیب نہیں سمجھتے۔ آپ تو ہمیں ہماری پیدائش سے یہی دعا دیتے چلے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک بچی جس نے ابھی اس دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں بھی پوری طرح نہیں کھولیں، آپ کو اس کے نصیب کی فکر کیوں پڑ جاتی ہے۔ اسے تو بہت سی دعائیں چاہیے پر آپ کے منہ سے اس کے لیے جو دعا نکلتی ہے وہ بس نصیب کی ہوتی ہے۔ اسے بڑا تو ہونے دیں۔ اسے سانس تو لینے دیں۔ ابھی اس نے ہنسنا ہے، گھر والوں کو ہنسانا ہے، کھیلنا ہے، کودنا ہے، پڑھنا ہے، سوچنا ہے، کچھ بننا ہے، اسے وہ سب تو کر لینے دیں۔ ویسے بھی آپ نے اپنا 'نصیب' پا کر ایسا کیا کر لیا جو آپ نے اس کا ’نصیب‘ پانا اس کے لیے اتنا اہم بنا دیا ہے۔

اسے تھوڑی آسان دعائیں دیں۔ مثلاً اللہ تمہیں بہت خوشیاں دے۔ تم بہت سا پڑھو اور بہت سا کھیلو۔ گھومنا چاہو تو گھوم بھی لو۔ تمہاری تمام خواہشات اور خواب پورے ہوں۔ تم جو کرنا چاہو اس کی راہ میں کوئی آنٹی ذہن رکھنے والا رکاوٹ نہ بنے۔ اللہ تمہیں ہر ظلم اور زیادتی کے خلاف بولنے کی طاقت دے۔ ایسی دعائیں نہ صرف اسے اچھی لگیں گی بلکہ آپ کو بھی دنیا کو ایک الگ نظر سے دیکھنا سکھائیں گی۔ اور سب سے اہم آپ اس کے لیے بس ایک آنٹی نہیں رہیں گی بلکہ سب سے پسندیدہ آنٹی بن جائیں گی۔

کہیے بننا ہے سب سے پسندیدہ آنٹی؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ