کسان احتجاج: بھارت کی ٹوئٹر ملازمین کو جیل بھیجنے کی دھمکی

بھارتی حکومت نے ٹوئٹر ملازمین کو مودی انتظامیہ پر تنقید کرنے والے سینکڑوں اکاؤنٹس کو معطل کرنے میں ناکامی پر جرمانے اور سات سال تک قید کی سزا کی دھمکی دی ہے۔

کسانوں کے احتجاج کے دوران ٹوئٹر اور بھارتی حکومت کے درمیان تازہ ترین اختلاف رائے سامنے آنے کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے (روئٹرز)

بھارتی حکومت نے مبینہ طور پر مائیکرو بلاگنگ سوشل پلیٹ فارم ٹوئٹر کے ملازمین کو مودی انتظامیہ پر تنقید کرنے والے سینکڑوں اکاؤنٹس کو معطل کرنے میں ناکام رہنے پر جرمانے اور سات سال تک قید کی سزا کی دھمکی دی ہے۔

بھارت میں کسانوں کی طرف سے کئی مہینوں سے جاری مظاہروں کے دوران حکومت نے ٹوئٹر کو ان اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے مطالبات کے ساتھ متعدد احکامات جاری کیے ہیں جو ’مودی پلاننگ فارمر جینوسائڈ‘ ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹویٹ کر رہے ہیں۔ حکومت نے ان احکامات میں یہ استدلال پیش کیا ہے کہ یہ ٹرینڈ خاص طور پر ’اشتعال انگیز‘ ہے اور اس سے مزید ’تشدد‘ اور ’بدامنی‘ پھیل سکتی ہے۔

پیر کو وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی ہدایت پر ٹوئٹر نے بھارت سے تعلق رکھنے والے 250 سے زیادہ اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا تھا لیکن ایک عوامی سطح پر شدید ردعمل کے بعد تقریباً چھ گھنٹوں بعد اس اقدام کو واپس لے لیا گیا۔ معطل اکاؤنٹس میں تحقیقاتی نیوز میگزین ’دی کاروان‘ بھی شامل ہے۔

سوشل میڈیا سائٹ نے حکومت کو بتایا ہے کہ وہ اس بنیاد پر حکومتی ہدایت کی تعمیل نہیں کرے گی کیوں کہ بتائے گئے اکاؤنٹس اور ٹویٹس میں یا تو ’آزادی رائے‘ شامل تھی یا وہ اہم خبر شیئر کر رہے تھے۔ بھارتی وزارت نے اس حکم عدولی پر ’حیرت‘ کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر کو مزید ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69 اے کے تحت کارروائی کرئے یا پھر نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

اس قانون کے تحت حکومت کو نظم و ضبط نافذ کرنے کے لیے کمپیوٹر ذرائع کی کسی بھی معلومات کی عوام تک رسائی روکنے کی اجازت ہے۔ اس میں ایک ایسی شق شامل ہے کہ جس کے تحت (ٹوئٹر کی طرح) کسی حکومتی ہدایت کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے پر سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

قانون کے بارے میں ویب سائٹ ’بار اینڈ بینچ‘ کے مطابق منگل کو ٹوئٹر کو جاری کردہ فالو اپ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت کو ’حیرت‘ ہوئی ہے کہ مجاز مقننہ کی جانب سے قانونی طور پر نافذ کردہ آئین کی دفعات (بھارت میں) کے پابند ہونے کے باوجود ٹوئٹر آزادی اظہار رائے سے متعلق امور پر تبصرے کر رہا ہے۔‘

وزارت نے نوٹس میں کہا ہے کہ اس کے خیال میں جینو سائڈ یا نسل کشی جیسا ہیش ٹیگ ’لوگوں کو عوامی نظم و ضبط اور ریاست کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے جرائم پر اکسا رہا ہے۔‘

بڑے پیمانے پر کسانوں کے احتجاج کے دوران ٹوئٹر اور بھارتی حکومت کے درمیان تازہ ترین اختلاف رائے سامنے آنے کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے۔ ہزاروں کسانوں نے گذشتہ تین ماہ سے بھارتی دارالحکومت کے آس پاس ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ یہ کسان ان زرعی اصلاحات کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں جن سے انہیں خدشہ ہے کہ انہیں بڑی کارپوریشنز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھی بھارتی حکومت نے متنازع خطے کشمیر کے ایک حصے کو چین کے علاقے میں دکھانے پر ٹوئٹر پر کڑی تنقید کی تھی۔ بھارتی حکام نے ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسی کو ایک سخت خط بھی ارسال کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے جواب میں ٹوئٹر نے اسے جیو ٹیگنگ میں تکنیکی خرابی قرار دیا تھا اور کہا کہ اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین مطالبے نے کمپنی کو ایک مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے کیونکہ کمپنی عالمی طور پر آزادی رائے کا عہد کرتی ہے جب کہ یہ آپریٹ کرنے والے ممالک کے مقامی قوانین کی تعمیل کرنے کی بھی پابند ہے۔

جمعرات کو ٹوئٹر نے متنازع اور سیاسی طور پر دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کی دو ٹویٹس کو کمپنی کے قوانین کی خلاف ورزی کی بنا پر حذف کر دیا تھا۔ مودی کی حامی اداکارہ کنگنا نے امریکی گلوکارہ ریحانہ کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے احتجاج کرنے والے کسانوں کو ’دہشت گرد‘ اور گلوکارہ کو ’بے وقوف‘ قرار دیا تھا۔

منگل کو ریحانہ کی جانب سے بھارتی کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں ٹویٹ، جس میں انہوں نے سوال کیا کہ ’ہم کیوں اس بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں‘ نے بھارت بھر میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ 

ریحانہ کی اس ٹویٹ کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ کو بیان جاری کرنا پڑا اور بالی ووڈ کی مشہور شخصیات، جو اب تک اس معاملے پر خاموش تھیں، نے بھی پاپ گلوکارہ کے خلاف اور قومی اتحاد کے حق میں اظہار خیال کیا۔ بھارت میں ٹوئٹر کے ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے رابطہ کرنے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا