اسٹیبلشمنٹ غلطیاں مان کر قوم سے معافی مانگے: مولانا فضل الرحمٰن 

پی ڈی ایم کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے حیدر آباد میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا کہ ’انتخابات کی کامیابی کا اعلان فوج نے کیا اور کہتے ہیں سیاست سے تعلق نہیں، آپ نے شکست دی تو کس کو دی اور کس کے خلاف فتح حاصل کی؟‘

ہم نے حق کی آواز بلند کی ہے اور بلند کرتے رہیں گے: مولانا فضل الرحمٰن(اے ایف پی)

حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے منگل کو ایک جلسے سے خطاب میں پاکستان فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی غلطیوں پر قوم سے معافی مانگے۔

آج حیدر آباد میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’ملک کی اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہم کب چاہتے ہیں کہ ہماری فوج سیاست میں ملوث ہو، ہم کب چاہتے ہیں کہ وہ دفاع کےعلاوہ کوئی اور کردار ادا کرے لیکن کیا کریں غلطیاں ہوئی ہیں اور ان غلطیوں کو ماننا پڑے گا اور قوم سے معافی مانگنا پڑے گی، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔‘ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے انتخابات کے نتائج تبدیل نہیں کیے اور عمران خان جیسے نااہل اور ان کی جماعت کو اقتدار نہیں دلایا تو آپ نے اسی رات نتائج آنے سے پہلے کیوں کہا 'وتعز من تشاء وتذل من تشاء ، آپ نے عزت و ذلت کے حوالے سے ان کو مبارک دی اور کہا کہ 'دشمن کو شکست دے دی'، بتایا جائے وہ دشمن کون ہے اور کس کے خلاف فتح حاصل کی؟

’انتخابات پی ٹی آئی نے جیتے ہیں اور فتح کا اعلان آپ کر رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں اس کامیابی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔آپ نے فتح حاصل کی ہے تو کس کے مقابلے میں کی ہے؟ اگر آپ بھارت کو شکست دیں، سرحد پر پاکستان کے جھنڈے گاڑیں اور کشمیر کو بھارت کے پنجے سے آزاد کرا لیں تو ہم فوج اور جرنیلوں کو آنکھوں کی پلکوں پر رکھیں گے۔‘ 

مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق: ’اگر آپ پاکستان کی عوام کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو پھر واضح کر دیں، عوام کو شکست دیتے ہیں تو آپ فتح کا اعلان کرتے ہیں، یہ سیاست نہیں چلے گی، ہم نے بزدلی کی سیاست نہیں دیکھی، ہم نے حق کی آواز بلند کی ہے اور بلند کرتے رہیں گے جب تک آئین کے مطابق تمام ادارے کام شروع نہ کردیں۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے حیدرآباد کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم الشان اجتماع نے صرف حکمرانوں کو آواز نہیں دی بلکہ دنیا کو جنجھوڑا ہے اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالکوں کو بتایا ہے کہ حکومتیں آپ کی وجہ سے عوام کے ووٹ سے بنیں گی۔’لوگ کہتے ہیں کووڈ 19 ، میں کہتا ہوں نہیں کووڈ 18۔ ہم 2018 کے کرونا سے نجات دلانے آئے ہیں۔‘  

مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقعے پر اعلان کیا کی 26 مارچ کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کے طرف روانہ ہوں گے اور اس سے پہلے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں ضلعی ہیڈکواٹرز میں مہنگائی مارچ کریں تاکہ عوام کی آواز اٹھائی جاسکے۔  

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ’اسٹیبلشمنٹ کہتی ہی کہ انھیں سیاست میں نہ گھسیٹو، اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں کون گھسیٹتا ہے، کیا وہ گھسیٹتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ سیاست سے دور رہیں اور ہر ادارہ اپنا اپنا کام کرے یا پھر اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں وہ گھسیٹ رہے ہیں جو ان کی انگلی پکڑ کر سیاست کرتے ہیں اور ان کی انگلی پکڑ کر الیکشن لڑتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر کھڑے ہوں۔ میڈیا کو سنبھالو، بجٹ پاس کراؤ، جو کہتے ہیں سینیٹ انتخابات میں مدد کرو؟' 

واضح رہے کہ گذشتہ روز پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے بیک ڈور رابطوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا: ’فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جو لوگ بیک ڈور رابطوں سے متعلق قیاس آرائیاں کر رہے ہیں وہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان