لاہور چڑیا گھرمیں سفید شیر کے دو بچے مبینہ طور پر کرونا سے ہلاک

لاہور کے چڑیا گھر میں 11 ہفتے پہلے پیدا ہونے والے سفید شیر کے دونوں بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان میں کرونا وائرس ہونے کا شبہ ہے لیکن ان کا کرونا ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔

سفید شیر کے  بچے لاہور چڑیا گھر  میں  11 ہفتے قبل پیدا ہوئے تھے(فائل  تصویر:  پکسابے)

لاہور کے چڑیا گھر میں 11 ہفتے قبل پیدا ہونے والے سفید شیر کے بچوں میں سے دو ہلاک ہوگئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان میں کرونا (کورونا) وائرس ہونے کا شبہ ہے لیکن دونوں بچوں کی لاشوں کا کرونا ٹیسٹ نہیں کروایا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سفید شیر کے ان بچوں کے پھیپھڑے بری حالت میں تھے اور ان پر سوزش بھی تھی جب کہ پوسٹ مارٹم کی عارضی تشخیص میں کرونا وائرس کے شبے کا اظہار کیا گیا ہے۔ شیر کے بچوں کی موت کے بعد چڑیا گھر کے عملے کے چھ ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق بھی ہوئی۔

لاہور چڑیا گھرکی ڈپٹی ڈائریکٹر کرن سلیم نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’شیر کے دونوں بچے 26 جنوری کو بیمار ہوئے، ان میں کرونا کی کوئی علامات نہیں تھیں۔  چار دن بیمار رہنے کے بعد 30 جنوری کو یہ مرگئے۔ جب یہ بیمار تھے تو انہیں دست اور الٹیوں کی شکایت تھی جو کرونا کی علامات نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ جب کوئی جانور مر جاتا ہے تو ہم یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز سے اس کا پوسٹ مارٹم کرواتے ہیں۔ ان بچوں کا پوسٹ مارٹم بھی ہوا جس کی رپورٹ میں شبے کا اظہار کیا گیا کہ شاید ان بچوں میں کرونا ہو، لیکن اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔‘

کرن سلیم کا کہنا تھا کہ یہ بات غور طلب ہے کہ یونیورسٹی والوں نے ان بچوں کا کرونا ٹیسٹ نہیں کیا۔ ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ٹیسٹ کر کے ہمیں رپورٹ دیتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’چڑیا گھر کی انتظامیہ نے یونیورسٹی والوں سے کہا بھی کہ کرونا ٹیسٹ کریں مگر اس وقت ان کے پاس وہ نمونے موجود نہیں تھے، جن سے کرونا ٹیسٹ کیا جاسکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ ماٹم میں جسم کے سارے حصوں کے نمونے لیے جاتے ہیں اورمختلف طریقوں سے ان کا تجزیہ کیا جارہا ہوتا ہے، اس میں اہم چیز اس جانور کی ہسٹری ہوتی ہے کہ اس کا کیا علاج چل رہا تھا، جس کے دوران وہ مرا ہے۔‘

بقول کرن: ’جب یہ بچے یہاں تھے تو ان میں کرونا کی کوئی علامات نہیں تھیں۔ انہیں ڈائریا اور قے کی شکایت تھی۔ یہاں تک کہ چار روز تک انہوں نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں تھا۔ ان سب علامات سے کرونا ظاہر نہیں ہو رہا تھا اور اسی ہسٹری کی بنیاد پر پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے لیے گئے اور انہی کی جانچ ہوئی، اس لیے یونیورسٹی والوں نے بھی کرونا کی تصدیق نہیں کی اور صرف شبے کا اظہار کیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم جانور کو  پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجتے ہیں تو ہم یونیورسٹی والوں کو بتاتے ہیں کہ اگر ہم نے انہیں حنوط کرنا ہے تو اس کی کھال وہ ہمیں دے دیں ورنہ اسے دفنا دیا جاتا ہے یا جلا دیا جاتا ہے، یہ فیصلہ یونیورسٹی خود کرتی ہے۔ 

کرن سلیم کہتی ہیں کہ ’دنیا بھر میں مختلف جانوروں میں کرونا ہو رہا ہے، کچھ میں تصدیق ہو گئی ہے اور کچھ میں نہیں ہوئی۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر جانور کا کرونا ٹیسٹ مثبت آرہا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کا رابطہ کسی سے ہوا ہے اور وہ رابطہ انہی لوگوں سے ہوتا ہے جو ان کی دیکھ بھال کر رہے ہوتے ہیں۔ جہاں تک ان مرنے والے سفید شیروں کے بچوں کا تعلق ہے تو ان کی دیکھ بھال ان کے کیئر ٹیکر ہی کر رہے تھے کیونکہ ان کی ماں انہیں دودھ نہیں پلا رہی تھی، اس لیے کیئر ٹیکرز ان کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتے پلاتے تھے اور ان بچوں کا زیادہ وقت  دیکھ بھال کرنے والوں کے ساتھ گزرتا تھا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان بچوں کو کرونا تھا، جو انہیں ان کی دیکھ بھال کرنے والوں سے لگا کیونکہ یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز نے ان میں وائرس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس کے باوجود ہم نے اپنے سٹاف کا کرونا ٹیسٹ کروایا ہے، جس میں چھ ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے لیکن ان میں کسی قسم کی کوئی علامات نہیں تھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر ضیا اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’لاہور چڑیا گھر میں جب ان شیر کے بچوں کا علاج ہورہا تھا تو انہوں نے ہم سے فون پر رابطہ کیا۔ چڑیا گھر میں ان بچوں کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹروں نے جس مرض کی تشخیص کی وہ ایف پی وی وائرس تھا، جو عموماً بلیوں میں پایا جاتا ہے اور ان میں موت کا امکان 90 فیصد ہوتا ہے کیونکہ یہ بیماری خون میں وائٹ سیلز کو ختم کردیتی ہے۔ چڑیا گھر والوں نے ان جانوروں کو ہمارے پاس تب بھیجا جب وہ مر چکے تھے اور ہم نے ان کا صرف پوسٹ مارٹم کیا۔‘

سفید شیر کے ان دونوں بچوں کے پوسٹ مارٹم کے عمل میں شامل ایک پیتھالوجسٹ نے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم نے پوسٹ مارٹم کیا اور چڑیا گھر والوں نے ہم سے کرونا کے خدشے کے حوالے سے پوچھا تو ہم نے انہیں بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران جو علامات دکھائی دے رہی ہیں، اس سے ہمیں کرونا کا شبہ ہو رہا ہے۔‘

جب مذکورہ پیتھالوجسٹ سے پوچھا گیا کہ آپ کو علامامت نظر آگئی تھیں تو آپ نے خود کیوں کرونا کا ٹیسٹ نہیں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’چڑیا گھر والوں نے ہمیں کہا ہی نہیں کہ ہم کرونا ٹیسٹ کریں اس لیے ہم نے نہیں کیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان