ایران میں شیروں کے نجی چڑیا گھر: دل دہلا دینے والی جگہیں

کرونا وبا پھوٹنے کے بعد دنیا بھر کی توجہ چین میں جانوروں کے ساتھ برتاؤ کی جانب مبزول ہو گئی لیکن صرف چین تنہا مجرم نہیں۔

(اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد دنیا بھر کی توجہ چین میں جانوروں کے ساتھ برتاؤ کی جانب مبزول ہو گئی لیکن صرف چین تنہا مجرم نہیں۔

حال ہی میں عراقی سرحد سے متصل جنوب مشرقی ایران کے چھوٹے سے شہر ھویزہ کے ایک چڑیا گھر کی تصاویر شائع ہوئیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں جانوروں پر کس طرح ’ظلم‘ ہو رہا ہے۔

وہاں پر جانوروں کو استعمال کرنے کے لیے نہیں بلکہ بھوک سے آہستہ آہستہ مرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ ایران میں حکام کا جانوروں کی خرید و فروخت کی دکانوں (پیٹ شاپس) اور جانوروں کے ڈاکٹروں پر دباؤ تو رہتا ہے مگر اس کے باوجود جنگلی جانوروں کو بطور پالتو جانور تیار کرنے کے فارمز کا کاروبار بستور جاری ہے۔

بہت سے مقامی جانوروں کو، جن میں بعض کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ ہے، کھلے عام فروخت کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر زگرس کے پہاڑی سلسلے سے گلہریوں کو پکڑ کر بطور پالتو جانور فروخت کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف وہ قبل از وقت مر جاتی ہیں بلکہ جنگلوں میں درختوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

کچھ ایسا ہی حال نجی چڑیا گھروں کا ہے جہاں شیر، پینتھر اور دیگر جنگلی جانوروں کے بچے رکھے جاتے ہیں۔ شیروں کے بچوں کو ان نجی چڑیا گھروں میں کچھ ماہ رکھنے کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انہیں فارم بچے پیدا کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ مادہ جانوروں کو صحت کے لیے نقصان دہ اور بری حالت میں بچے پیدا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ ان بچوں کو تفریح کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

نجی چڑیا گھر والے ان جانوروں کو ہاتھ لگانے اور ان کے ساتھ کھیلنے کے پیسے لیتے ہیں اور انسٹا گرام کی معروف شخصیات اپنے فالوورز کو ان چڑیا گھروں کا دورہ کرنے کا کہتی رہتی ہیں۔

بظاہر تو ان جانوروں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان جانوروں کو مرے ہوئے جانوروں کی باقیات کھانے کو ملتی ہیں اور اکثر بیمار جانور، بعض اوقات قریب المرگ جانوروں، کو خوراک کے طور پر دوسرے جانوروں کے سامنے پھینک دیا جاتا ہے۔

ھویزہ چڑیا گھر ایک نایاب نسل کے شیر کے بچے کے مرنے کے بعد بھی چل رہا ہے، یہ شیر کا بچہ بھوک اور خوراک کی قلت کی وجہ سے مر گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کی ماحولیاتی تنظیم نے چڑیا گھر چلانے کے حوالے سے قوانین تو وضع کیے ہیں لیکن ایک سرسری نظر سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ان چڑیا گھروں میں کسی قانون پر عمل نہیں ہوتا۔ ان قوانین کے مطابق چڑیا گھروں میں ڈاکٹر، خوراک، جانوروں کی صحت کا خیال رکھنا، پانی کی صفائی کا باقاعدہ نظام اور سبزہ لازمی ہے۔

تاہم حقیقت میں زیادہ تر جانور فضلے اور گندگی کے ساتھ ہی پنجروں میں سیمنٹ کے فرش پر بغیر کسی چھت کے قید رکھے جاتے ہیں اور انہیں باقاعدگی سے خوراک اور پانی بھی نہیں ملتا۔

خراسان صوبے میں نائب پراسیکیوٹر کے مطابق صرف 2017-2018 کے موسم سرما میں سات ٹائیگر وکیل آباد میں مرے جبکہ چڑیا گھر حکام کے مطابق یہ ٹائیگر زیادہ عمر ہونے کے باعث مرے۔

پولٹری اور مویشیوں کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں، لاغر مویشیوں اور نر چوزوں کو بے دردی اور بڑے پیمانے پر مار دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مرتبہ بھی جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے اگر مویشیوں کی حفضان صحت کے خلاف صورتحال اور جانوروں کی نسل بڑھانے کے فارمز کو نظرانداز کر دیا تو یہ بڑی تباہی ہوگی۔

جانوروں کو چھوٹی، روشنی کے بغیر جگہوں میں رکھنا، ان کو حد سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر مجبور کرنا اور حفضان صحت کے قوانین اورجانوروں کی صحت کو نظرانداز کرنا، ان سب سے جنگلی جانوروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔


یہ خبر انڈپینڈنٹ فارسی پر پوسٹ ہوئی ہے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا