عوام طاقت کی گردشوں میں محض غلام ہیں

جو معیشت 2.1 فیصد پر رینگ رہی ہو اور جس پر تاریخ کے بدترین قرضوں کا وزن ہو وہ نوکریوں کے انڈے کیا دے گی اور ان انڈوں میں سے ضروریات کو پورا کرنے کا سامان کیا نکلے گا۔

اسلام آباد میں گذشتہ ہفتے سرکاری ملازمین  کے احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے والا ایک شخص   (اے ایف پی)

یہ ایک مہنگی خود فریبی ہو گی کہ اگر ہم اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کو وقتی غصے کے اظہار کے طور پر لیں یا یہ سمجھیں کہ ان کو مار پیٹ کر کے ہم نے مستقبل میں اس قسم کے ہنگامے کے راستے بند کر دیے ہیں۔

گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہیں جو روزی روٹی کے چکر میں ایسے پھنسے ہیں کہ سڑکوں پر نعرے مارنے کا سوچتے بھی نہیں۔ ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے اور پھر سولویں سے سترویں کے چکر میں ساری زندگیاں گزار لیتے ہیں۔

دفتر میں بیٹھ کر بھلے وقت کاٹ لیں لیکن سرکاری روٹین کو چھوڑ کر پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کرنا اور وزیر اعظم کو للکارنا ان کا شعار نہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی جیسی سیاسی جماعتیں ان طبقات میں اپنے اثر و رسوخ کو سیاسی اثاثے کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر وہ بھی اپنی نظریاتی کشش استعمال کر کے ان کو سرکاری دفاتر کے در و دیوار سے باہر لانے میں دقت محسوس کرتی ہیں۔

کلرک دفاتر میں کام نہ کر کے تو احتجاج رجسٹرڈ کرواتے ہیں لیکن بہرحال فیکٹری کارکن اور تباہ حال کسان کی مانند منظم ہو کر سیاسی ایوانوں کے سامنے تن کر کھڑے نہیں ہوتے۔ مگر اس تمام تاریخ کے باوجود یہ احتجاج ناگزیر تھا۔

تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ محض اس وجہ سے نہیں کیا جا رہا کہ دوسرے اداروں میں انہی کاموں پر مامور ملازمین مظاہرین سے زیادہ ماہانہ رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ ناانصافی تو سالہا سال سے نظام کا حصہ ہے۔ اصل محرک اس طبقے کو پیسنے والی مہنگائی کی وہ چکی ہے جس کا ایک پاٹ ڈاکٹر حفیظ شیخ گھما رہے ہیں اور دوسرا آئی ایم ایف کے بابو پاکستان میں اپنی مرضی سے لگوائے ہوئے نمائندگان کے ذریعے چلواتے ہیں۔

محدود تنخواہیں اس لامحدود مہنگائی کے سامنے پگھل کر غائب ہو گئی ہیں جو ہر سو چھائی ہوئی ہیں۔ مسئلہ صرف کھانے پینے کی اشیا تک محدود نہیں رہا۔ ڈاکٹروں کی فیسیں، بچوں کے کپڑے، شادیاں اور اموات کا بوجھ اب معاشی طور پر سنبھالنا ناممکن ہو گیا ہے۔ بچے کی پیدائش ہو یا مردے کو دفنانا نئے پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ناقابل برداشت درد سر ہے۔

دو تین نوکریاں کرنے کے مواقع بھی اب موجود نہیں۔ جو معیشت 1۔2 فیصد پر رینگ رہی ہو اور جس پر تاریخ کے بدترین قرضوں کا وزن ہو وہ نوکریوں کے انڈے کیا دے گی اور ان انڈوں میں سے ضروریات کو پورا کرنے کا سامان کیا نکلے گا؟

محدود تںخواہوں پر گزارا کرنے والے اب ہر مہینے بجلی اور گیس کے بلوں کو دیکھ کر ایسے لرزتے ہیں کہ جیسے کوئی عفریت اس کے بچے کھانے کے لیے ہر 30 دن کے بعد دروازے پر دستک دے رہا ہو۔ اس حکومت نے پچھلے اڑھائی سال میں تواتر کے ساتھ اربوں روپے بجلی اور گیس کے بلوں کے ضمن میں اور پٹرول پر اپنے منافعے کو تحفظ دیتے ہوئے لوگوں کی جیبوں سے نکالے ہیں۔

عوام کو نیپرا اور بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ کی کہانیاں سنا سنا کر ان کی جیبیں سوراخوں سے بھر دی ہیں۔ کہنے کو عوام کی سہولت اور ریاست کو چلانے کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ حقیقت میں بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، بجلی کی طرح گھروں پر گرتی ہوئی مہنگائی اور بلوں کے پھندے نے تنخواہ دار طبقے کو موت اور زیست کی ایک ناممکن کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے پاس سڑکوں پر آنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔

قصہ صرف سرکاری ملازمین کا ہی نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ جامعات کو چلانے کے لیے چندے اکٹھے کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ شرم کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ ہاسٹل میں موجود ڈاکٹروں کو کمروں کے کرایوں کے علاوہ اب بجلی کے بل ادا کرنے کے نوٹس بھی دیے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ خیبر پختونخوا میں ہو رہا ہے جہاں سے تحریک انصاف نے ایک نہیں دو مرتبہ سیاسی مینڈیٹ حاصل کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنجاب کے سکولوں کے اساتذہ بھی سڑکوں پر مارے مارے پھر رہے ہیں کہ زندگی گزارنے کا کوئی مہذب طریقہ ان کو سامنے نظر نہیں آتا۔ یہی حال نرسوں کا ہے۔ کچھ ایسی ہی کہانی ہر یونین کونسل میں تعینات کیے ہوئے پولیو پروگرام سے منسلک نمائندگان کی ہے جن کو ایک جھٹکے میں فارغ کر دیا گیا۔ بیسیوں ادارے ایسے ہیں جن کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کے بجٹ موجود نہیں۔

نجی اداروں کا حال اس سے بھی برا ہے۔ جو چند ایک اضافی مراعات نوکری کو پر کشش بنانے کے لیے دی جاتی تھیں اب بیشتر اداروں نے واپس لے لی ہیں۔ سٹاف کی تنخواہیں کم کرتے ہوئے ’اضافی ملازمین‘ کو فارغ کر دیا ہے۔ نجی شعبے میں متاثرین عمرانی معاشیات کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔

یہ پاکستانی عوام کہاں جائیں؟ کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں اور بتایں کہ کس طرح ان کی چادر اور چار دیواری اب برقرار نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کھانا کم کر دیا۔ بچوں کو (بچیوں کو زیادہ تعداد میں) سکولوں سے اٹھا لیا۔ علاج معالجہ چھوڑ دیا۔ دوائیاں خریدنا بند کر دیں۔ قرضوں اور کمیٹیوں کے ذریعے روزانہ کا خرچ پورا کرنے کی جنگ ہار گئے۔

سڑکوں پر نہیں آئیں گے تو کیا بنی گالہ پھول بھیجھیں گے؟ احتجاج کا علم نہیں اٹھائیں گے تو کیا سلوٹ ماریں گے؟ ان تمام پسے ہوئے طبقات کی زندگی اب ایک سانحہ بن گئی ہے، نہ ختم ہونے والا سانحہ، ہر روز گہرا ہوتا ہوا سانحہ۔ حفیظ شیخ پر آئی ایم ایف کی چکی میں پس کر ملیا میٹ ہونے کا سانحہ۔

یہ بھوکے پیٹ ہیں جن کی آوازیں آپ کو ڈی چوک میں روزانہ گونجتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔ یہ وہ عوام ہیں جن کے نام پر یہ ملک چلایا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہم نے ایک مفصل دفاعی نظام ترتیب دیا ہے جو نیوکلیئر صلاحیت اور اڑتے ہوئے نت نئے میزائلوں کا ایک شاہکار ہے۔

انہی عوام کو مافیا سے بچانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان 2013 سے انہی کے سامنے اپنے جہاد و جہدوجہد کے فضائل بیان کر رہے ہیں جو ابھی تک جاری ہیں۔ یہ وہ پاکستان کے شہری ہیں جن کے لیے دھرنوں کی محافلیں کیف و مستی سے سجائی گئی تھیں۔ ہمارے فوجی سربراہان انہی عوام کے ساتھ اپنے رابطوں کے حوالے کو آئین و قانون سے بلند جانتے ہوئے قومی مفاد کی تشریح کے لیے کرتے ہیں۔

یہ سب لوگ پاکستان ہیں۔ کہنے کو یہ ملک ان کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا۔ کہنے کو پروٹوکول سے لدے ہوئے چمکیلی گاڑیوں کے قافلے اسلام آباد کی سڑکوں کو انہی کے مفاد کے لیے روزانہ بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں یہ عوام طاقت کی گردشوں میں محض غلام ہیں۔

ان کا پارلیمان کے سامنے تنخواہوں کا مطالبہ ویسا ہی ہے جیسے روس کے زار کے محل کے دروازے پر ہزاروں لوگ دو وقت کی روٹی مانگنے کے لیے آئے اور لاشوں میں تبدیل کر دیے گئے۔ معاملہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا نہیں ہے۔ معاملہ وسائل کی اس تقسیم کا ہے جو کبھی ان کے حق میں نہیں ہو گی۔

ان کے نصیب میں پاکستان کے جھنڈے کا صرف وہ حصہ ہے جس کو ڈنڈا کہتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ