ٹیسٹ کے بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی پاکستان کے نام

پاکستان نے جنوبی افریقہ کو آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں دلچسپ مقابلے کے بعد چار وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی۔

(پی سی بی)

پاکستان نے جنوبی افریقہ کو آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں دلچسپ مقابلے کے بعد چار وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی۔

میچ کا فیصلہ 19 ویں اوور میں ہوا۔ پاکستان کی طرف سے کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے بالترتیب 44 اور 42 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کی جیت کو ممکن بنایا۔

اتوار کی شام تیسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے آج اپنی ٹیم میں تین تبدیلیاں کیں۔ افتخار احمد، حارث رؤف اور خوشدل شاہ کو ڈراپ کیا گیا جبکہ ان کی جگہ آصف علی، حسن علی اور زاہد محمود کو کھلایا گیا۔

سندھ کے علاقے دادو سے تعلق رکھنے والے زاہد محمود کا یہ ڈیبیو میچ تھا، جس میں انھوں نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

جنوبی افریقہ کا آغاز اچھا نہ رہا اور پہلی چھ وکٹیں صرف 48 رنز پر گر گئیں۔ ایک موقعے پر ایسا لگتا تھا کہ جنوبی افریقہ بہت کم سکور پر آؤٹ ہوجائے گی لیکن ڈیوڈ ملر نے طوفانی اننگز کھیلتے ہوئے اپنی ٹیم کا سکور 164 رنز تک پہنچا دیا۔

انہوں نے پانچ چوکوں اور سات چھکوں کی مدد سے صرف 45 گیندوں پر 85 رنز بنا کر پروٹیز کو نہ صرف مشکلات سے نکال لیا بلکہ ایک فائٹنگ سکور تک لے گئے۔

 آج پاکستان کی بولنگ آج بہت عمدہ رہی۔ فاسٹ بولرز کے ساتھ سپنرز نے بھی اچھا پرفارم کیا۔ پاکستان کو پہلی کامیابی محمد نواز نے دلائی۔ انھوں نے 13 رنز دے کر دو وکٹ لیے۔پہلی دفعہ کھیلنے والے زاہد نے 40 رنز دے کر تین، حسن علی نے دو اور عثمان قادر نے ایک وکٹ لی۔

سپنرز کے لیے مدد گار وکٹ پر پاکستان کے لیے بیٹنگ آسان نہیں تھی لیکن محمد رضوان نے ایک بار پھر بہترین بیٹنگ کی اور اعتماد سے کھیلتے ہوئے 42 رنز بنائے۔ آج ان کے ساتھ اوپننگ کے لیے حیدر علی آئے جو 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ دونوں اوپنرز کی پہلی وکٹ کی 51 رنز کی پارٹنرشپ تسلی بخش اور جیت کی بنیاد تھی۔

تاہم جنوبی افریقہ کے سپنر تبریز شمسی نے پے درپے دو وکٹ لے کر میچ میں سنسنی پیدا کردی۔ انھوں نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 25 رنز دے کر چار وکٹ لیے لیکن ان کی شاندار کارکردگی کے علاوہ کوئی دوسرا جنوبی افریقی بولر متاثر نہ کر سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بابر اعظم نے اس موقعے پر اچھی بیٹنگ کی اور 45 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی۔ وہ پریٹوریس کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ آصف علی (سات رنز) بھی جلدی آؤٹ ہوگئے جبکہ فہیم اشرف نے صرف 10 رنز بنائے۔

اس موقعے پر لگتا تھا کہ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا لیکن بولنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی محمد نواز نے مشکل وقت میں حسن علی کے ساتھ 32 رنز کی رفاقت کرکے میچ کو ایک اوور پہلے ہی ختم کردیا۔ حسن علی نے 20 اور محمد نواز نے 18 رنز بنائے۔ محمد نواز کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

سیریز میں بہترین کارکردگی پر محمد رضوان کو سیریز کا بہترین کھلاڑی کا انعام دیا گیا۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم زیادہ تر ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے سیریز میں پاکستان کی مضبوط ٹیم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تینوں میچ سنسنی خیز انداز میں اختتام پذیر ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ