خوش رہنا ہے تو لوگوں سے یہ دس سوال کرنا چھوڑ دیجیے

بھری محفل میں خجالت سے بچنے کے لیے اور دوسروں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے غیر ضروری اور ضرر رساں تجسس کو تھوڑا دبا کر رکھیے۔

وہ سوال کون سے ہیں جو بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور پہنچاتے ہیں(تصویر: پکسا بے)

ویسے تو سوال آدھا علم ہے اگر سمجھنے کے لیے ہو، لیکن اگر سوال کا مقصد ہی کچھ اور ہو تو اس کے باعث ہو سکتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہ چلے اور کسی کی دل آزاری ہو جائے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جس سوال کو سیدھا سادا سمجھ رہے ہیں وہ سن کر کوئی بھنا جائے اور خواہ مخواہ کا فساد پیدا ہو جائے۔

وہ سوال کون سے ہیں جو بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں اور پہنچاتے ہیں، تو پھر جانیے:

شادی کب کرو گے؟

 ارے شادی جب کرنی ہوگی تو کر لیں گے نہ آپ سے پوچھ کر کریں گے، نہ آپ سے اجازت لے کر۔ ہمارے اماں ابا اگر یہ سوال کریں تو مناسب ہے یا وہ لوگ جو زندگی میں آپ سے قریب ہیں، یہ سوال ان پر ہی جچتا ہے جو دراصل آپ سے حقیقی طور پر محبت رکھتے ہیں۔

 سیلری کتنی ہو گئی ہے؟

یہ سوال ان سوالوں میں سے ایک سوال ہے جس کا پوچھنا انتہائی معیوب ہے۔ مطلب اگر تنخواہ کم ہے تو آپ میری مالی مدد کریں گے، یا اگر سیلری زیادہ ہے تو آپ کوحصہ چاہیے کیا؟ یہ سوال کسی صورت مناسب نہیں۔ سیلری جتنی بھی ہو بس حلال ہونی چاہیے، باقی اگر اتنی ہی دلچسپی ہے تو دعا کیجیے نہ کہ سوال۔

عمر کتنی ہے؟

یہ سوال لڑکیوں کے لیے اتنا ہی تلخ ہے جتنا لڑکوں کے لیے سیلری کا سوال۔ مطلب عمر جتنی بھی ہو آپ کیا کرو گے؟ بڑھنے سے روک دیں گے یا نادرا کے ریکارڈ میں عمر کم کروائیں گے؟ اور آپ نے کون سا تیر مار لیا اتنی عمر ہونے کے بعد۔ اپنی زندگی پر دھیان دیجیے نہ کہ ہماری عمر پر۔

 خوشخبری کب سناؤ گے؟

آنٹیوں کا نئے شادی شدہ جوڑے سے یہ سوال کرنا اور شادی کے اگلے مہینے ہی کرنا کہ بھئی خوشخبری کب سناؤ گے؟ پھپو کب بناؤ گے؟ ارے مطلب اتنی جلدی کیا ہے، ابھی کل ہی تو شادی ہوئی ہے، ان کو ابھی انجوائے تو کرنے دیجیے، نہ جانے کیوں اتنی جلدی ہے آپ کو۔ شکر ہے شادی والے دن یہ نہیں پوچھ لیا کہ تمھاری خوشخبریاں کدھر ہیں؟

نوکری لگ گئی کیا؟

 یہ سوال بے روزگاروں کو سوئی چبھونے کی مانند ہے۔ ارے نوکری ہوجائے گی تو خود بتا دیا جائے گا یا پھر خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔ اگر نوکری ڈھونڈنے والا شخص واقعی روزگار کی تلاش میں ہے تو اس کے لیے یہ سوال تکلیف دہ ہوگا اور اگر کوئی ہڈ حرام ہے تو اس سوال کا کوئی سوال ہی نہیں بنتا اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیجیے۔

کتنا کما لیتے ہو؟

کاروباری شخص سے یہ سوال تو پوچھنا نہیں چاہیے، اگر آپ کو جاننا ہے تو آپ ان کی لائف اسٹائل سے اندازہ لگا لیجیے۔ ویسے بھی جان کر آپ کو کرنا کیا ہے، کیا ان کی جائیداد میں حصہ چاہیے؟ مطلب یہ سوال آخر کیوں؟ بھئی محنت کی ہے دن رات لگائے ہیں اور اب اگر معاشی طورپر مستحکم ہو گئے ہیں تو آپ کون ہوتے ہیں سوال پوچھنے والے؟

وزن کیوں اتنا بڑھ گیا ہے؟

بھئی ایک تو بےچارہ/بےچاری پہلے ہی پریشان ہے (اور یقین جانیے انہیں خود بھی پتہ ہو گا کہ ان کا وزن بڑھ رہا ہے اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے غور بھی کر رہے ہوں گے) اوپر سے آپ زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں اور بھری محفل میں ان کی طرف توجہ دلا کر انہیں خجل کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نمبر کیوں کم آئے ہیں؟

 یہ سوال بڑا ہی تکلیف دہ ہے، بالخصوص بورڈ کے امتحانات کے بچوں کے لیے، اور یہ سوال پوچھنے والے اکثر وہ والدین ہوتے ہیں جن کے اپنے بچوں کے نمبر اچھے آئے ہوتے ہیں۔ ویسے جس کا رزلٹ اچھا آئے گا وہ خود یا پھراماں ابا بتا ہی دیں گے کسی نہ کسی بہانے سے۔ لیکن اگر کوئی بچہ اپنا رزلٹ نہیں بتا پا رہا اس کا مطلب ہے کہ نمبر میں کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے تو پھر جانے دیجیے، آخر کیوں کسی کےزخموں پر نمک چھڑکنا چاہتے ہیں۔

کیا سوچا ہے مستقبل کے بارے میں؟

ارے جناب مستقبل کے بارے میں آپ نے سوچا کبھی اور جو سوچا تھا کیا وہ سب اسی طرح ہو گیا جس طرح آپ نے سوچا تھا؟ مستقبل کا تعین کرنے کے لیے ایک مکمل ماحول ہونا ضروری ہے اور جس کے پاس وہ ماحول ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی جانب چلا جاتا ہے۔ ویسے اگر مستقبل کے بارے میں آپ اتنے فکر مند ہیں تو سوال کی بجائے اپنا تجربہ بیان کیجیے تاکہ اس سے رہنمائی لی جائے۔

فلاں آپ سے آگے کیوں نکل گیا؟

موازنہ کرنا اور لوگوں کے سامنے کرنا یہ ویسے بھی باغی بنا دیتا ہے اور حوصلہ پست کر دیتا ہے، ہر شخص کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے اور ہر کوئی اپنے حساب سے کامیابی حاصل کرتا ہے۔ کسی شخص کا دوسرے سے موازنہ کرنا شخصیت کو توڑنے کے مترادف ہے۔ خاص کر دیسی امائیں اور کچھ دیسی ابا بھی یہ کام کرتے ہیں جب وہ بچے کو ڈانٹتے ہوئے پڑوسی کے بچے سے موازنہ کرتے ہیں اور اس سے بچے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

شکل سے اتنے بیمار کیوں لگ رہے ہو؟

کسی بیمار کی تعزیت کرنا الگ بات ہے، لیکن بھری محفل میں یہ سوال پوچھ کر آپ کسی کو بھی دباؤ میں لا سکتے ہیں۔ وہ بیچارہ اگر تندرست ہے تو آپ کی بات سن کر مفت میں ٹینشن کا شکار ہو جائے گا۔

سو خوش رہیے اور خوشیاں بانٹنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے غیر ضروری اور ضرر رساں تجسس کو تھوڑا دبا کر رکھیے۔ شکریہ!

زیادہ پڑھی جانے والی ٹاپ 10