’پارٹی خدمات‘: اعتراض کے باوجود فیصل واوڈا کا سینیٹ ٹکٹ برقرار

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف دوہری شہریت کا مقدمہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے جو ان کی تحریک انصاف کے سینیٹ امیدوار کی حیثیت پر اعتراض کی بڑی وجہ بنا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی پارٹی کے لیے بہت خدمات ہیں اور اسی وجہ سے انہیں ٹکٹ الاٹ کیا گیا تھا  (تصویر:  فیصل واوڈا ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے صوبہ سندھ میں مقامی رہنماؤں کے اعتراضات کے باوجود پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات کے لیے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کا ٹکٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے نجیب اللہ خٹک کو دیا گیا ٹکٹ واپس لے کر ان کی جگہ لیاقت ترکئی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

دونوں فیصلے پارٹی کے سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹوں کے فیصلوں کی غرض سے بنائے گئے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان نے کی۔

اجلاس میں پارلیمانی بورڈ کے ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق فیصلوں پر بحث ہوئی اور بعض اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ فیصل واوڈا کی پارٹی کے لیے بہت خدمات ہیں اور اسی وجہ سے انہیں ٹکٹ الاٹ کیا گیا تھا۔

اجلاس میں شامل تحریک انصاف کے ایک رہنما کے مطابق فیصل واوڈا کو سندھ کی جنرل نشست پر نامزد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور اس سلسلے میں سندھ کے رہنماؤں کے اعتراضات کو رد کر دیا گیا۔

دوسری جانب صوبہ سندھ ہی سے ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے دیے گئے ٹکٹ پر حتمی فیصلے کو موخر کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے سندھ سے ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے ٹھیکیدار سیف اللہ ابڑو کو نامزد کر رکھا ہے، جس کے باعث پارٹی کے اندر سے اعتراضات اٹھے اور تحریک انصاف سندھ کے متعدد رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف نیب میں مقدمات درج ہیں جبکہ وہ گذشتہ دو سالوں سے پارٹی کے رکن رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم عمران خان نے گورنر سندھ مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کی اور سینیٹ انتخابات پر تبادلہ خیال کیا لیکن ٹیکنوکریٹ کی نشست پر کسی فیصلے تک نہیں پہنچ سکے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی طرف سے جاری امیدواروں کی فہرست کے مطابق پی ٹی آئی کے 56 امیدواروں نے حکمران جماعت کی 21 متوقع نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، یوں اب یہ وزیراعظم پر منحصر ہے کہ وہ ان لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دیں جو ان کے خیال میں سینیٹ انتخابات لڑنے کے لیے موزوں ہیں۔

یاد رہے کہ سینیٹ انتخابات کے لیے فیصل واوڈا کی نامزدگی پر کئی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جن میں تحریک انصاف سندھ کے رہنما بھی شامل تھے، تاہم وزیر اعظم عمران خان نے انہیں پارٹی امیدواروں کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف دوہری شہریت کا مقدمہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے جو ان کی تحریک انصاف کے سینیٹ امیدوار کی حیثیت پر اعتراض کی بڑی وجہ بنا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر، جو پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی ہیں، نے کہا تھا کہ واوڈا کی نامزدگی کی مخالفت ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت اور الیکشن کمیشن میں زیر سماعت مقدمے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ 

انہوں نے کہا تھا کہ دوہری شہریت کے کیس میں فیصلہ فیصل واوڈا کے خلاف بھی آ سکتا ہے، جس کے باعث وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست