’سائبر کرائم میں 70 فیصد اضافہ، بڑا نشانہ خواتین بن رہی ہیں‘

ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ڈی آر ایف نے اپنی سائبر کرائم ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات کی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق 2020 میں ہیلپ لائن پر آنے والی شکایات میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔

ڈی آر ایف کو موصول ہونے والی شکایات میں 23 فیصد سوشل میڈیا ہیکنگ کی تھیں (فائل تصویر:اے ایف پی)

’گذشتہ برس ہماری سائبر کرائم ہیلپ لائن پر ایک لڑکی نے بلیک میل کیے جانے کی شکایت درج کروائی۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے خود کشی کرلی۔ تاہم ہم یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کیا اس لڑکی نے واقعی خودکشی کی تھی یا ان کے گھر والوں نے انہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔‘

یہ کہنا تھا ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی چیئرپرسن نگہت داد کا، جن کا ادارہ گذشتہ کئی سالوں سے ڈیجیٹل پرائیویسی اور ڈیجیٹل حقوق پر کام کر رہا ہے اور سائبر کرائم ہیلپ لائن بھی چلا رہا ہے۔

اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ شکایت کنندہ لڑکی کا تعلق لاہور سے تھا اور ان کی شکایت کے مطابق انہیں ایک نجی ٹیکسی کمپنی کا ملازم ان کی ذاتی تصاویر کے حوالے سے بلیک میل کر رہا تھا۔

نگہت داد کے مطابق ڈی آر ایف کی سائبر ہیلپ لائن پر ان کی شکایت کے بعد ان کی پوری مدد کی گئی اور انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ تک پہنچایا گیا۔ ’اس کے بعد لڑکی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا لیکن ہمیں یہ معلوم تھا کہ ان کے کیس پر کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ انہیں میڈیا سے معلوم ہوا کہ کسی لڑکی نے بلیک میلنگ سے تنگ آکر خود کشی کی ہے۔ جب ڈی آر ایف نے تھوڑی تحقیق کی تو معلعم ہوا کہ یہ وہی لڑکی تھی جس کی مدد ادارے نے کی تھی۔

نگہت بتاتی ہیں: ’افسوس ناک بات یہ معلوم ہوئی کہ خود کشی سے پہلے وہ سائبر کرائم ونگ لاہور کے اس تفتیشی افسر کو کال کر رہی تھیں، جو ان کا کیس دیکھ رہے تھے لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ اس کے بعد لڑکی کے والدین نے پوسٹ مارٹم بھی نہیں کروایا اور ایف آئی اے نے بھی ایک بیان جاری کر دیا کہ لڑکی اور ان کے خاندان کی رازداری کو خراب نہ کیا جائے اور اس واقعے کا ذمہ دار سائبرکرائم ونگ نہیں ہے۔ یہ ایک واقعہ ہمارے لیے کافی دلخراش تھا کیونکہ ہم نے انہیں بڑی مشکل سے خود کشی کے خیالات سے باہر نکالا تھا۔‘

ڈی آر ایف نے اپنی سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 2020 میں موصول ہونے والی شکایات کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ادارے کو کل 3298 شکایات موصول ہوئیں جو2019 کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہیں۔

نگہت نے کہا: ’سب سے زیادہ شکایات ہمیں کرونا (کورونا) وائرس کے لاک ڈاؤن کے دنوں میں موصول ہوئیں۔ صرف جولائی کے مہینے میں ہمیں 697 شکایات موصول ہوئیں۔ پہلے ہمیں زیادہ شکایات بلیک میلنگ کی موصول ہوا کرتی تھیں، جس میں تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر ایک فریق دوسرے کو بلیک میل کر رہا ہوتا تھا۔ اس مرتبہ رحجان میں تبدیلی دکھائی دی۔ بلیک میلنگ کی شرح اب بھی زیادہ تھی جو کہ 33 فیصد تھی لیکن ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ ہمارے پاس موصول ہونے والی شکایات میں 23 فیصد سوشل میڈیا ہیکنگ کی تھیں، جیسے وٹس ایپ ہیکنگ یا دیگر سماجی رابطوں پر بنے اکاؤنٹس کا ہیک ہوجانا۔‘

ڈی آر ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 57 فیصد شکایات کی کالز صوبہ پنجاب سے آئیں جو کہ سب سے زیادہ ہیں، 11 فیصد صوبہ سندھ سے، چار فیصد خیبر پختونخوا، چار فیصد اسلام آباد، دو فیصد بلوچستان جبکہ کشمیر سے ایک فیصد شکایات کی کالز موصول ہوئیں۔

 زیادہ شکایت کنندہ کی عمریں 21 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ نگہت کا کہنا ہے کہ اس تناسب کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ’ویسے تو یہ ہیلپ لائن ملک بھر کے لیے ہے لیکن چونکہ ہم لاہور میں موجود ہیں اس لیے پنجاب کے لوگوں کو اس کی آگاہی زیادہ ہے۔  دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین کی ہراسانی ایک ممنوع موضوع ہے۔ ان کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوزکے حوالے سے جو بلیک میلنگ ہو رہی ہے، بہت سے لوگ ایسے معاملات کو نہ رپورٹ کرتے ہیں، نہ اس پر کسی سے بات اور مدد طلب کرتے ہیں۔ خاص طور پر کے پی اور بلوچستان جیسے صوبوں میں سائبر ہراسانی کے حوالے سے گفتگو نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ اس کو ایک جرم بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ اکثر ایسے معاملات کو غیرت اور عزت کی وجہ سے دبا دیا جاتا ہے۔‘

کیا سائبر کرائم ہیلپ لائن مردوں کی مدد بھی کرتی ہے؟

بقول نگہت داد: ’ہمیں موصول ہونے والی شکایات میں 66 فیصد شکایات خواتین اور 33 فیصد مردوں کی طرف سے تھیں۔ ایک فیصد شکایات پسماندہ طبقہ جن میں ٹرانس جینڈر اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے مردوں کی تھیں۔ ہم نے کبھی کسی کی کال کو رد نہیں کیا یہ کہہ کر کہ یہ ہیلپ لائن صرف خواتین کے لیے ہے۔‘

 

ان کا کہنا تھا کہ مرد اس ہیلپ لائن پر ہراسانی کی شکایات کے علاوہ ٹرولنگ اور خاص طور پر مذہبی بنیاد پر نفرت انگیز مواد کے حوالے سے شکایات کرتے ہیں۔ ’جس طرح خواتین بلیک میل ہو رہی ہوتی ہیں اسی طرح مرد بھی بلیک میل ہورہے ہوتے ہیں۔‘

کیا ہیلپ لائن پر غلط کالز بھی آتی ہیں؟

نگہت کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی 99 فیصد کالز صحیح ہوتی ہیں جبکہ ایک فیصد کالز ایسی ہوتی ہیں جو 15 ایمرجنسی کی جانب سے ان کی طرف بھیجی جاتی ہیں۔ ’اکثر اوقات جب خواتین کسی ایمرجنسی کی صورت میں 15 پر رابطہ کرتی ہیں تو وہ انہیں ہماری ہیلپ لائن کا نمبر دے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسی کالز ہمارے لیے مسئلہ بھی بن جاتی ہیں کیونکہ وہ کیس پولیس کے حل کرنے والے ہوتے ہیں۔‘

شکایت موصول ہونے کے بعد ڈی آر ایف کیا کرتا ہے؟

نگہت داد نے بتایا کہ ہیلپ لائن پر کال آتی ہے تو شکایت کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس پر ردعمل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت بار ایسی کالز آتی ہیں جن میں خواتین خود کشی کی نہج تک پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں مدد فراہم کرنے سے پہلے ذہنی صحت کے حوالے سے کونسلنگ دی جاتی ہے تاکہ وہ پرسکون ذہن سے سوچیں کہ انہیں اپنے مسئلے کے حوالے سے آگے کیا قدم اٹھانا ہے۔

اس کے بعد کالر کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی شکایت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں کیسے جمع کروائیں۔ شکایت درج ہونے کے بعد انکوائری شروع ہو جاتی ہے، لیکن بعض کیسز میں شکایت لانے والے ایف آئی اے جانا نہیں چاہتے اور ڈیجیٹل سکیورٹی میں مدد مانگتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نگہت کے بقول: ’وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے ہیک ہوئے اکاؤنٹس کو کس طرح واپس حاصل کریں۔ اس صورت میں ہماری سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ ایسکلیشن چینلز ہیں جن کے ذریعے ہم شکایت کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز ہیں اس لیے ضروری نہیں ہوتا کہ ہر چیز کے لیے آپ کو ایف آئی اے ہی جانا پڑے۔‘

کیا ہیلپ لائن پر کال کے بعد ملزم کو سزا ہوئی؟

نگہت داد نے بتایا کہ بہت سے کیسز بہت آگے تک گئے، جن میں ملزمان کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن ہیلپ لائن کا کام شکایت کنندہ کو قانونی مشورے دینا ہے۔ ’ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر کسی کو اپنا کیس لڑنے کے لیے ہماری قانونی ٹیم کی خدمات کی ضرورت ہے تو ہم ان کی مدد کریں۔ زیادہ تر شکایت کنندہ کیس ایف آئی اے میں جانے کے بعد اپنا ذاتی وکیل خود کرتے ہیں۔‘

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ سے رسائی میں اضافے اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد سائبر کرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

نیشنل کمیشن آن دا سٹیٹس آف ویمن کی سابق چیئرپرسن خاور ممتاز بتاتی ہیں کہ پنجاب کمشن آن دا سٹیٹس آف ویمن کی ہیلپ لائن پر خواتین کی جانب سے گھریلو تشدد، جائیداد میں حصے وغیرہ کے حوالے سے شکایات آتی ہیں لیکن اب وہاں بھی سائبر کرائم کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

انہوں نے کہا: ’اب تو سائبر کرائم کا قانون بھی بن گیا ہے۔ اس قانون میں کمزوریاں بھی ہیں لیکن یہ قانون آپ کو یہ حق فراہم کرتا ہے کہ آپ سائبر کرائم کا کیس کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ جب وہ نیشنل کمیشن میں تھیں تو تب بھی بلیک میلنگ اور کسی کی ذاتی تصویر کے غلط استعمال کی شکایات آتی تھیں۔ ’میں ایسے کیسز کو تب بھی ٹریک کرتی تھی جب وہ ایف آئی اے کے پاس چلے جاتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ آیا کہ جب کیس ایف آئی اے کے پاس چلا جاتا ہے تو وہاں التوا کا شکار ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم قانون کے تحت جب پہلا کیس رجسٹر ہوا تو وہ اسے ٹریک کر رہی تھیں۔ وہ 2016 سے 2019 تک عہدے پر رہیں اور اس دوران اس کیس کا ٹرائل ہی شروع نہیں ہوا۔ خاور ممتاز کے مطابق کیس عدالت میں 80 بار ملتوی ہوا، پھر اس کیس کی فائل گم ہوگئی، پھر دوبارہ فائل بنی۔ اس دوران اس خاتون کی نوکری بھی چلی گئی اور ملزم کی طرف سے انہیں مزید ہراساں بھی کیا گیا اور دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔ ’میرے خیال میں اس التوا کا سارا فائدہ ملزم کو ہورہا ہوتا ہے۔‘

سائبر کرائم کا روک تھام کیسے ممکن ہے؟

خاور مختار کہتی ہیں کہ اسی جرم کی روک تھام کے لیے ہی قانون بنا تھا، لیکن قانون میں کچھ کمزوریاں رہ گئی ہیں۔ دوسرا اس پر عمل درآمد کے لیے ایف آئی اے کو ذمہ داری دی گئی، لیکن ایف آئی اے اس قانون کا اطلاق ٹھیک طرح سے نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا: ’قانون بنانے کے بعد اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے آپ کو پورا بنیادی ڈھانچہ بھی چاہیے۔ ایف آئی اے والوں کی اس قانون کے حوالے سے تربیت ہونی چاہیے تھی اور وہاں مزید افسران کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ قانون میں ہتک عزت کی شق بھی ہے، جس کی وجہ سے جس پر الزام لگا ہوتا ہے وہ فوری شکایت کنندہ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیتا ہے اور وہ ایک الگ کیس چل پڑتا ہے۔ ’دراصل وہ کیس بھی متاثرہ شخص پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہوتا ہے اور ہمارے ہاں پولیس اور ایف آئی اے کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کیس کے فریقین کورٹ کے باہر معاملہ سلجھا لیں۔ ہمارے جوڈیشل سسٹم کا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ قوانین تو بن جاتے ہیں لیکن جنہوں نے ان پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے وہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے۔‘

نوٹ: ڈی آر ایف کی سائبر کرائن ہیلپ لائن پر 39393-0800 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کمیشن آن دا سٹیٹس آف ویمن کی ٹول فری ہیلپ لائن پر 1043 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائمز کی ہیلپ لائن پر 9911 پر کال کی جاسکتی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین