آئی ایس آئی سربراہ کی تعیناتی پر قیاس آرائیاں نہ کریں: ترجمان فوج

میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا: ’ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ فوج میں تعیناتیاں شارٹ ٹرم نہیں ہوتیں، ان عہدوں کی اپنی مدت ہوتی ہے۔ ‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

آپریشن ردالفساد کو چار سال مکمل ہونے پر میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا: ’ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ میں یہ درخواست کروں گا کہ ان چیزوں کے بارے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہییں۔ فوج میں تعیناتیاں شارٹ ٹرم نہیں ہوتیں، ان عہدوں کی اپنی مدت ہوتی ہے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ سابق ترجمان فوج میجر جنرل آصف غفور کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تعینات کیا جارہا ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل بابر افتخار نے آپریشن ردالفساد کے چار سال مکمل ہونے پر پاکستانی فوج کی کارروائیوں اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور عوام کو اس آپریشن کا ’محور‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’مسلح افواج دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا مقابلہ کرتی ہیں، اسی مناسبت سے ہر پاکستانی بھی اس (آپریشن) کا حصہ ہے۔‘

آپریشن ردالفساد کے ثمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ آپریشن کسی مخصوص علاقے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔

پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو یہ آپریشن ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب دہشت گردوں نے مختلف آپریشنز کے نتیجے میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے طول عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ 2017 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے ساڑھے 18 سو واقعات ہوئے جبکہ ان تمام آپریشنز کے دوران 353 دہشت گردوں کو ہلاک اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔

بریفنگ کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور ہائبرڈ وار کے حوالے سے پاکستان کی تیاریوں کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ردالفساد ایک ملٹری آپریشن نہیں تھا، اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔ نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت بہت حد تک کی جاچکی ہے، کچھ ایشوز پر کام ہونا باقی ہے، لیکن فوج کے ترجمان کی حیثیت سے میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت کے دائرہ کار میں جو چیزیں آتی ہیں، ان پر کام ہو رہا ہے۔‘

افغانستان میں امن کے حوالے سے حالیہ صورتحال اور پاکستان کے کردار پر انہوں نے کہا: ’ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ افغانستان کے امن کے ساتھ پاکستان کا امن جڑا ہوا ہے۔ پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا لیکن اسے آگے کیسے لے کر چلنا ہے یہ افغان حکومت اور وہاں کے لوگوں نے کرنا ہے۔‘

بیرون ملک سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے حوالے سے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں اور ان کی شدت میں بہت کمی آئی ہے اور ان نیٹ ورکس کو بہت منظم انداز میں توڑا گیا ہے اور اس حوالے سے کام اور کارروائیاں جاری ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ ’ایف اے ٹی ایف کا ایک طریقہ کار ہے، جس کے تحت دیے گئے نکات پر کام ہوچکا ہے۔ پاکستان نے ہر سطح پر سفر طے کیا ہے اور اس پر بہت زیادہ کام ہوا ہے۔ کچھ لابیز بھی ہیں جو ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں، لیکن ہم نے اس پر بھی کام کیا ہے۔‘ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’ہر واقعے کو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں لانا چاہیے، کچھ امن و امان کے بھی واقعات ہوتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان