ہیپی سرپرائز ڈے

آج پھر 27 فروری ہے اور آج پھر پاکستان بھارت کو امن اور دوستی کا مخلص پیغام دے رہا ہے لیکن ساتھ میں ایک نوٹ بھی موجود ہے— ’ہیپی سرپرائز ڈے!‘

ایل او سی کے قریب ضلع بھمبر میں 27 فروری، 2019 کو اتاری گئی اس تصویر میں پاکستانی فوجی گرائے جانے والے بھارتی لڑاکا طیارے کے ملبے پر پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)

27 فروری، 2019 کی وہ چمکتی ہوئی روشن صبح تھی۔ اسلام آباد راولپنڈی کا مطلع مکمل صاف اور صبح کا سورج اپنی نرم گرم دھوپ بہار کی نئی نئی آمد سے کھِلی کھِلی دھرتی پر فراغ دلی سے پھیلائے چلا جا رہا تھا۔

اُس دن موسم کا مزاج کچھ الگ ہی نوید دے رہا تھا لیکن پاکستانیوں کا مزاج کافی برہم اور دل نگیں تھا کیونکہ ایک ہی دن پہلے بھارت نے رات کے اندھیرے میں ازلی بزدلی کی مانند پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور پاکستان کی شیر دلیر فورسز کے بھرپور جواب دینے پر بالاکوٹ میں ہماری سرزمین پر اُڑنے والے ایک معصوم بے زبان کوّے اور چند ماحول دوست درختوں کو ‘شہید’ کرکے دُم دبا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔

اگرچہ ہمیشہ کی طرح بھارت پاکستان کا بال بھی بیکا نہ کر پایا تھا لیکن پلوامہ حملے کے بعد سے مسلسل بڑھتی پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بالاکوٹ میں پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ہر محب وطن پاکستانی کا دل نہ صرف اداس بلکہ غم و غصے کی لپیٹ میں تھا۔

پورے ملک میں ایک ہی جذبہ ایک ہی آواز اور ایک ہی مطالبہ تھا کہ بھارت کو اِس گیدڑ جیسی بزدلانہ حرکت کا شیروں کی طرح بھرپور جواب دیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف ازلی منافق بھارت سرکار جھوٹے پراپیگنڈے کا پرچار کیے چلے جا رہی تھی کہ اس نے بالاکوٹ میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانے‘ پر حملہ کرتے ہوئے ’کئی سو دہشت گرد‘ مار ڈالے۔

جھوٹ کے رَتھ پر سوار مودی سرکار پلوامہ حملے کے بعد اندرونی عوامی غیض و غضب سے بچنے کے حربے کے طور پر نہ صرف علاقائی اور عالمی امن کو داؤ پر لگا کر بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ کا طبل بجا چکی تھی بلکہ جھوٹے پراپیگنڈے کی آڑ میں عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول بھی جھونکے چلی جا رہی تھی۔

اِسی پسِ منظر میں افواجِ پاکستان کے تعلقاتِ عامہ کے وِنگ آئی ایس پی آر نے چند مقامی اور بین الاقوامی صحافیوں پر مشتمل وفد کو از خود بالاکوٹ لے جا کر حقائق پوری دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کی کہ مقامی اور بین الاقوامی صحافی خود اپنی آنکھوں سے بالاکوٹ جا کر مشاہدہ کر سکیں کہ بھارت نے کس طرح پاکستانی عالمی تسلیم شدہ سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خطّے بلکہ عالمی امن کو بھی داؤ پر لگا دیا اور یہ بھی کہ ’دہشت گردوں کے ٹھکانے‘ پر حملے کے بھارت کے جھوٹ کا پول بھی کھولا جا سکے۔

میں صحافیوں کے اُسی وفد کا حصّہ تھی اور وہ 27 فروری، 2019 کی وہی چمکتی ہوئی روشن صبح تھی۔ ہم چکلالہ ایئر بیس سے آرمی کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں پرواز کرنے کے منتظر تھے۔ موسم کے کلیئر ہونے کا انتظار کیا جا رہا تھا اور ہماری پرواز میں کچھ غیر معمولی تاخیر ہوئے جا رہی تھی۔

چونکہ پاکستان کی ایئر سپیس نہ صرف بند تھی بلکہ غیر معمولی سرویلنس کی نذر بھی تھی لہٰذا ہم نے یہی اخذ کیا کہ پرواز میں تاخیر غیر معمولی سکیورٹی کلیئرنس کی بنیاد پر ہی ہو رہی ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خدا خدا کرکے ہماری پرواز کو گرین سگنل ملا اور ہم ہیلی کاپٹر میں بالاکوٹ کے لیے سوار ہوئے۔ ہیلی زمین سے کچھ ہی فاصلے پر اُڑا ہوگا کہ یکدم واپسی اترنے کا اشارہ ہونے لگا۔ ہم سب حیرانی سے ایک دوسرے اور ہیلی کاپٹر کے آرمی عملے کی طرف دیکھنے لگے لیکن کسی کو سمجھ نہ آیا کہ اتنی تاخیر کے بعد پرواز کی کلیئرنس ملنے کے چند ہی منٹ کے اندر واپس زمین پر اترنے کے احکامات کیوں آ گئے۔

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان کے شاہین وہ کارنامہ سر انجام دے چکے ہوں گے جو نہ صرف پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دے گا، خون کو گرما دے گا بلکہ ازلی اور بزدل دشمن بھارت کو چاروں شانے چت کرکے ایسی دُھول چٹا دے گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔

ہیلی کاپٹر کے پہیے اور ہمارے قدم کیا زمین سے لگے کہ اُس جاں فزا خبر کی تفصیلات آنا شروع ہوگئیں کہ کس طرح پاکستان کے بَبَّر شیر اور دلیر جان شاہینوں نے بھارت کے دو طیارے اُن کے گھر میں دن کی روشنی میں گھُس کر مار گرائے اور بھارت کو وہ ‘سرپرائز’ دے ڈالا جس کی ‘تنبیہہ’ پاکستان نے محض چند ہی گھنٹوں پہلے کی تھی۔

’سرپرائز‘ بھی ایسا کہ بھارت ہکّا بکّا رہ گیا اُسے سمجھ ہی نہ آئی کہ کس طرح پاکستان کے شاہینوں نے دن کے اُجالے میں اس سے ایسا بدلہ لیا اور ایسی چوٹ لگائی کہ تاقیامت ہر سال کی 27 فروری اس کے لیے ذِلّت اور خِنّت کا سامان مہیا کرتی رہے گی۔

پاکستان نے ایک طرف جہاں قوت، طاقت، صلاحیت، ارادے، ایمان اور پاک سرزمین کی حفاظت کا دو ٹوک بھرپور پیغام بھارت کو اِس کارروائی کے ذریعے پہنچایا وہیں ایک ذمہ دار، میچور اور سنجیدہ پُرامن قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف بھارتی قیدی پائلٹ کو دو دن بعد جذبہ خیر سگالی کے تحت یک طرفہ طور پر رِہا اور بھارت کے حوالے کر دیا بلکہ بھارت سمیت تمام عالمی برادری کو کھلا اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان ہر قیمت پر امن چاہتا ہے، امن کا داعی ملک ہے اور اس کے لیے ہر قدم اٹھانے کو تیار ہے۔

مگر امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے اور اگر پاکستان کو مجبور کیا گیا کسی ایسی صورتحال کی طرف جہاں بات وطن کی سرحدوں کی حفاظت پر آجائے تو پھر پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

آج پھر 27 فروری ہے اور 2019 کے ‘سرپرائز ڈے’ کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔ آج پھر پاکستان اُس یادگار تاریخی فتح کی یاد میں جشن منا رہا ہے اور بھارت ہزیمت، ذِلّت اور خِفّت کی اَگنی میں بھڑک رہا ہے۔ آج بھی پاکستان کا بھارت کو مخلص پیغام امن اور دوستی کا ہے لیکن ساتھ میں ایک نوٹ بھی موجود ہے— ’ہیپی سرپرائز ڈے!‘


نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ