آ بیل مجھے مار۔۔۔

مہنگائی بڑھا کر، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کرکے حکومت از خود اپوزیشن تحریک کو ایندھن فراہم کر رہی ہے اور اگر مزید ایسے ہی اقدامات ہوتے رہے تو بعید نہیں کہ یہی راکھ کی چنگاری ثابت ہوں اور خود حکومت جلد یا بدیر اس کی لپیٹ میں آ ہی جائے۔

وفاقی حکومت نے  گذشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں 3.20 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا  تھا (فائل تصویر: اے ایف پی)

آخر کوئی تو ہے جو عمران خان کی حکومت کو ناکام کرنا چاہتا ہے یا پھر کوئی وجہ تو ہوگی وگرنہ کوئی بھی ذی شعور تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ایسے وقت میں جبکہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، حکومت کی گورننس پر تنقید بڑھ گئی ہے، پی ڈی ایم کا خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں، خفیہ اور اعلانیہ ملاقاتوں کا تانتا بندھا ہے، پیغامات آ رہے ہیں جا رہے ہیں، افواہوں کا بازار گرم ہے، اتحادی ہر کچھ عرصے بعد نالاں ہو جاتے ہیں، ایسے میں ایک کمزور حکومت خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی پر کلہاڑی مارے چلی جائے جس کا حالیہ مظاہرہ پیٹرول کی قیمت میں صرف پندرہ دن بعد ہی ایک اور ہوشربا اضافے سے دیکھا گیا۔

مجھ جیسا کوئی کم علم بھی بخوبی جانتا ہے کہ پیٹرولیم قیمتوں کو بڑھانے سے اصل بوجھ کس طبقے پر پڑتا ہے اور پیٹرولیم قیمتوں اور مہنگائی کا کیا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان جیسی عالی دماغ اور فہم و بصیرت سے بھرپور شخصیت اپنے لیے از خود مسائل پر مسائل کھڑے کیے جا رہی ہے؟

عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو حکومت والی اور حکومت کی طرح باتیں کیا کرتے تھے اور اب جب خود حکومت میں ہیں تو اپوزیشن کی مانند دِکھتے ہیں اور سنائی دیتے ہیں۔ اب تو وہ وقت بھی گزر گیا کہ گذشتہ بیانات یاد کروا کر ہی احساس دلوایا جائے۔اب تو ایسا کرتے ہوئے خود بھی شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے کہ 'تجھ کو ان سے وفا کی ہے امید!'

پانچ سالوں سے جو مہنگائی کی شرح واحد عدد (single digit) میں چلتی آ رہی تھی، محض دو ہی سالوں میں اسے 12 فیصد تک پہنچا دیا گیا ہے، جس کے ذمہ دار آج بھی وزیراعظم صاحب کے مطابق گذشتہ چور حکومتوں والے ہی ہیں۔

12 فیصد کی قیامت خیز مہنگائی سے اب آٹھ نو فیصد پر لانے کو بڑی کامیابی گردانا جا رہا ہے لیکن کبوتر کی طرح اس حقیقت سے نظریں چرا لی گئی ہیں کہ تین فیصد کے مقابلے میں آٹھ نو فیصد کی مہنگائی بھی غریب کی کمر کس طرح سے مسلسل توڑ رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب اپنے وقت کا 70 فیصد حصہ مہنگائی کم کرنے پر صرف کرتے ہیں۔ خداوندا کا لاکھ لاکھ شکر کہ سو فیصد وقت اسی پر صرف نہیں کرتے وگرنہ مہنگائی نجانے کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی۔

باوجود اس کے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا لیکن پاکستان میں مسلسل پیٹرولیم قیمتیں بڑھا بڑھا کر غریب عوام کا بھرکس نکالا جا رہا ہے۔ اب تو خواب و خیال لگتے ہیں وہ دن کہ گئے زمانے میں کبھی پیٹرول کی قیمت میں کمی بھی ہوا کرتی تھی۔ نجانے کون ایسا دشمن ہے جو عمران خان جیسے عوام دوست وزیراعظم سے عوام دشمن فیصلے کروا رہا ہے۔ خدا غارت کرے۔ اس کی پیٹرول ڈیزل والی گاڑیوں میں کیڑے پڑیں۔

ایسی مہنگائی اور ایسی آفت پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور میں ہی دیکھنے میں آئی تھی جب مہنگائی کی شرح  20 فیصد تک جمپ کرگئی تھی لیکن خاکم بدہن پھر وزیراعظم صاحب پیپلز پارٹی حکومت کا انجام بھی یاد رکھیں۔

اپوزیشن اتحاد کے سَرپٹ دوڑتے گھوڑتے پی ڈی ایم کی رفتار بھلے ہی سست پڑ چکی ہو اور لگام ڈھیلی ہو گئی ہو لیکن بہرحال حریف ابھی میدان میں موجود ہے اور ریس ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مہنگائی بڑھا کر، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کرکے حکومت از خود اپوزیشن تحریک کو ایندھن فراہم کر رہی ہے اور اگر مزید ایسے ہی اقدامات ہوتے رہے تو بعید نہیں کہ یہی راکھ کی چنگاری ثابت ہوں اور خود حکومت جلد یا بدیر اس کی لپیٹ میں آ ہی جائے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مشتمل ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ