میانمار: کریک ڈاؤن کے باوجود فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے

میانمار میں گذشہ مہینے ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے سوموار کو بھی جاری رہے۔ ایک روز قبل سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم سے کم 18 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود رہی۔

(اے ایف پی)

میانمار میں گذشہ مہینے ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے سوموار کو بھی جاری رہے۔ ایک روز قبل سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم سے کم اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود رہی جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔

ینگون میں ہلیدان سینٹر انٹرسیکشن پر جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا، مظاہرین خود کو اس گیس سے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے منتشر ہوئے اور کچھ دیر بعد دوبارہ اکٹھے ہوگئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق میانمار کی فوج نے برطرف رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف کئی مقدمات قائم کر دیے ہیں جن کا مقصد انہیں ممکنہ طور پر ان انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا ہے جن کا وعدہ فوجی قیادت نے کر رکھا ہے۔

سوچی کے وکیل خن ماونگ زاو کے مطابق سوموار کو سوچی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت کی کارروائی میں شریک ہوئیں جس میں ان کے خلاف مزید دو مقدمے درج کر لیے گئے۔

ان پر نو آبادیاتی دور کے قانون کے تحت غیر واضح انداز میں آزادی اظہار کے ذریعے بد امنی پھیلانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اس مقدمے میں انہیں زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ سوموار کو قائم کیے جانے والے دوسرے مقدمے کی سزا ایک سال تک ہو سکتی ہے۔

فوجی بغاوت کے بعد 75 سالہ سوچی کو اپنے گھر میں ہی نظر بند رکھا گیا تھا لیکن ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے مطابق اس وقت وہ کہاں ہیں ان کی جماعت اس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔

فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں مظاہروں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور فوجی جنتا کی جانب سے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے تشدد کا بڑھتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس کے پاس اتوار کو میانمار میں کریک ڈاؤن کے دوران اٹھارہ افراد کی ہلاکتوں کی 'مصدقہ اطلاعات' ہیں۔ جبکہ کچھ غیر جانبدار میڈیا اداروں نے یہ ہلاکتوں کی تعداد 20 بتائی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقوام متحدہ کی ترجمان سٹیفین ڈوجاریک کے مطابق یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو 'ناقابل قبول' قرار دیا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کے میانمار کے حوالے سے انسانی حقوق کے ماہر ٹام اینڈریوز کا کہنا ہے کہ 'مذمتی بیان خوش آئند اور ضروری ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں۔ دنیا کو اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔'

انہوں نے میانمار کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے اور فوجی بغاوت اور کریک ڈاؤن کے ذمہ داروں پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے ایسے کسی فیصلے کا اطلاق دو مستقل ارکان چین اور روس کے ممکنہ ویٹو کی وجہ سے مشکل ہو سکتا ہے۔

گو کہ کچھ ممالک کی جانب سے اپنے طور پر میانمار پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اپنے بیان میں اس تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میانمار کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے میانمار پر پابندیوں کا اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ جیک سلیوان کے مطابق آنے والے دنوں میں ان پابندیوں میں مزید اضافہ کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کے ذمہ داروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا